اہم ترین
ہوم / تازہ ترین / یا شیخ اپنی اپنی دیکھ

یا شیخ اپنی اپنی دیکھ

تحریر: آفاق فاروقی (نیویارک)

چین میں  کرونا وائرس  کے عفریت کے درمیاں پھنسے چالیس ہزار پاکستانیوں کی  فکر کے ساتھ ہمیں چین کی ڈیڑھ ارب آبادی کی بھی فکر کرنی چاہئیے کہ وہ بھی انسان ہیں۔ انسانی فطرت یہی ہے کہ مشکل ترین گھڑی میں اپنی پڑی ہوتی ہے اپنا غم اپنا درد ہی سوا ہوتا ہے۔ ان چالیس ہزار میں سولہ سو پاکستانی طلبا ہیں جو چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔ ان سولہ سو میں 100 طالبعلم وہ ہیں جو اس علاقے میں محصور ہیں جہاں کرونا وائرس نے جنم لیا ہے۔ ان طالب علموں کی آنے والے ویڈیوز  میں دیکھا جانا والا خوف وحشت اور کسمپرسی بس ان طالب علموں کے والدین یا پھر  مجھ جیسے لوگ سمجھ سکتے ہیں جنکی اپنی اولاد ہے ۔ میری ایک بیٹی میڈیکل کی تعلیم کے حصول کے لیے کر یبیئن سی کے ایک چھوٹے سے جزیرے میں قریباً چار سال گزار کر آ چکی ہے۔ جہاں کے مچھروں کا سائز ویڈیو میں دیکھ کر میرا دل کانپ جایا کرتا تھا۔ ان مچھروں کے میری بیٹی کے بدن پر کاٹے کے نشان میری روح تک زخمی کرجایا کرتے تھے۔ وہ بچی جس نے زندگی میں مچھر کبھی کبھار اپنے گھر کے بیک یارڈ میں دیکھے  تھے اور جب کبھی وہ اسے کاٹ لیتے تو وہ گھنٹوں نہیں دنوں رویا کرتی اور مہینوں اس درد کا ذکر کیا کرتی تھی۔ انسان حالات سے جلد سمجھوتہ کرنے والی مخلوق ہے  چاہے وہ بے صبرے  ہم پاکستانی ہی کیوں نہ ہوں سو میری بیٹی نے بھی پہلے سال کے بعد ان مچھروں کو زندگی کا حصہ تصور کرلیا تھا۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزئشن نے اعلان کیا ہے چین میں پھنسے ان ملکوں کے باشندے قطعی چین سے باہر نہ نکلیں جنکا صحت کا نظام ناقص ہے کہ وہ اس وائرس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ایسے ملکوں کے باشندوں کی اپنے ممالک واپسی کسی بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔ یہی موقف ریاست پاکستان کا بھی ہے۔ دوسری طرف امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت متعدد مغربی ممالک نے پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ اپنے باشندوں کو نہ صرف نکال لیا ہے بلکہ مسلسل نکال رہے ہیں۔ جب یہ خبریں ان بچوں کے ساتھ انکے والدین بہن بھائیوں دوستوں رشتے داروں کو ملتی ہونگی کہ ہم اپنے پیاروں کو اس لیے چین میں مرنے کے لیے چھوڑنے پر مجبور ہیں کہ ہمارا صحت کا نظام ناکارہ ہے۔  انکی واپسی ہم سب کی موت کا سبب بن سکتا ہے تو یہ سوچ کر ہی ایک باپ کے طور پر میرا دم گھٹنے لگتا ہے مگر سوشل میڈیا پر کم علم اور عقیدت کے مارے لوگ اس المیے کی سائنسی وجوہات پر غور کرنے کے بجائے مذہبی دلیل یہ دے رہے ہیں کہ فلاں صحابی کا کہا ہے کہ جب کہیں بیماری پھیل جائے تو نہ وہاں سے کسی کو آنے دو اور نہ کسی کو وہاں جانے دو۔  اس لیے ریاست پاکستان نے جو فیصلہ کیا ہے وہ درست فیصلہ کیا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایت کے ساتھ خود چین نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے کہ کسی کو آنے دیا جائے نہ باہر جانے دیا جائے کہ وائرس کو محدود کرنے کا مناسب ترین طریقہ بھی یہی ہے۔ مگر کیا اگر ہمارا صحت کا نظام درست ہوتا ہمیں بھی امریکہ اور یورپ کی طرح اپنے نظام صحت پر اعتماد ہوتا تو  ہم اپنے پیاروں کو یونہی مرنے کے لئیے چھوڑ دیتے ۔؟

ہمارے یہاں کہا جاتا ہے ریاست کے بیرونی دشمن پاکستان کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اسکی سلامتی بقا کے در پے ہیں اور ہم یوں غوری سے لیکر ایٹم بم جیسے جانے کتنے بڑے خطرناک ترین اسلحے کے ڈھیر پر سجے بنے بیٹھے ہیں۔ پھر اسی کے ساتھ بد انتظامی سے بدعنوانی تک ریاست کا جو حال ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ریاست تو ماں ہوتی ہے  اسے کھانے کو ملے نہ ملے مگر وہ پھر بھی سوکھے چھاتی سے بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔ ہم سب نے کس آسانی سے یہ دانشمندانہ بات کہہ دی کہ چین میں پھنسے ہمارے پیاروں کا اس وقت واپس نہ آنا ہی بہتر ہے کہ انکی واپسی سے ہماری سب کی زندگیوں کوخطرہ ہے۔ کاش اس دانشمندی کا  مظاہرہ ہم سب نے گزشتہ بہتر سالوں  میں زندگی کے اور دیگر شعبوں کی بھلائی انکی ترقی خوشحالی کے لیے بھی کیا ہوتا تو ہم دوسروں کے پیاروں کو انکے بچوں بھائیوں، بہنوں، دوستوں، رشتے داروں کو بے یارو مدد گار، خوف دھشت اور احساس تنہائی سے مرنے کا کبھی مشورہ نہ دیتے۔ کیا ہم نے چین میں پھنسے ہوئے لوگوں کے والدین انکے پیاروں سے بھی پوچھا یا سنا ہے کہ وہ بھی یہی کہتے اور ایسے ہی سوچتے ہوں کہ ہاں انھیں نہیں آنا چاہئیے۔ چاہے وہ وہاں مر ہی کیوں نہ جائیں مگر واپس آنے کی اجازت نہیں دینا چاہئے اور نہ ہی لانے کی کوئی کوشش کرنی چاہئیے ۔؟ ذرا کسی ایسی ماں یا باپ کے سامنے جاکر کویئ ایسا کہ کر تو دکھائے ۔۔ پھر اپنا حشر دیکھ لے ۔ بے ترتیب  نظام ،بدعنوان اور بے حس حکمراں ہوں تو سب سے پہلے بے حسی بے رحمی گھر کرتی ہے جسے بڑی آسانی سے حکمت اور دانش کا نام دیدیا جاتا ہے۔ افراتفری انتشار کی حکمت عملی اور دانش صرف اتنی ہی ہوا کرتی ہے “ یا شیخ اپنی اپنی دیکھ

یہ بھی چیک کریں

نئی تبدیلی ، پرانا کھیل

تحریر: آفاق فاروقی (نیویارک) تبدیلی کا کھیل اپنے آخری دو ماہ میں داخل ہوگیا ہے۔ …

اپوزیشن خوش ،اسٹیبلشمنٹ بھی آرام سے ، بس عوام گئے کام سے

تحریر: آفاق فاروقی (نیویارک) جب کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑہ لگا کر تحریک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے