اہم ترین
ہوم / بین الاقوامی / صدر ٹرمپ کی ٹوئٹس میرے لئے توہین کا باعث ہیں، ان حالات میں کام نہیں کر سکتا، امریکی اٹارنی جنرل

صدر ٹرمپ کی ٹوئٹس میرے لئے توہین کا باعث ہیں، ان حالات میں کام نہیں کر سکتا، امریکی اٹارنی جنرل

امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹس ان کیلئے توہین کا باعث بن رہی ہیں اور ان حالات میں وہ اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتے۔ ولیم بار کی صدر ٹرمپ پر تنقید اس وقت سامنے آئی جب امریکی محکمہ انصاف میں صدر کے سابق ایڈوائزر راجر اسٹون کا کیس عدالت میں سماعت شروع ہوئی۔ اٹارنی جنرل پر الزام لگایا گیا کہ وہ صدر ٹرمپ کے احکامات کے سامنے جُھکے جا رہے ہیں۔ ولیم بار کے بیان سے صدر ٹرمپ پر بے جا ٹوئٹس بند کرنے کا دباوٗ بڑھ گیا ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ وہ محکمہ انصاف کے کرمنل کیسز پر ٹوئٹ کرنا بند کر دیں۔ اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے ولیم بار نے کہا کہ ان حالات میں کام کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کی مسلسل بے جا ٹوئٹس سے ان کی توہین ہو رہی ہے۔ سینیٹ کے اکثریتی ایوان کے قائد مچ میک کونیل نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ اٹارنی جنرل کے مشورے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ ری پبلکن سے تعلق رکھنے والے سینیٹر میک کونیل نے فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی اٹارنی جنرل کو بھی صدر ٹرمپ سے شکایت ہے تو پھر صدر ٹرمپ کو اپنے رویئے پر نظرثانی کرنی چاہیئے۔ اس ہفتے محکمہ انصاف نے بیان جاری کیا تھا کہ صدر کے دیرینہ دوست راجر اسٹون کو دی جانے والی سزا میں تخفیف کی جا سکتی ہے جس کے بعد اٹارنی جنرل اور صدر ٹرمپ پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ راجر اسٹون پر 2016 میں امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت پر امریکی کانگریس کے ہاوٗس انٹلی جنس کمیٹی کو کام سے روکنے کا الزام ہے۔ فیڈرل پراسیکیوٹرز نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ امریکی کانگریس کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے پر راجر اسٹون کو سات سے نو سال تک قید کی سزا دی جائے۔ صدر ٹرمپ ٹوئٹ پر کہا کہ یہ ایک انتہائی خوفناک اور غیر منصفانہ صورتحال ہے۔ محکمہ انصاف نے فیڈرل پراسیکیوٹرز کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل ولیم بار کو اس معاملے کو دیکھنے کا کہا تھا جس کے بعد چاروں فیڈرل پراسیکیوٹرز اس کیس سے الگ ہو گئے تھے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اٹارنی جنرل ولیم بار کو کیس کا چارج سنبھالنے پر تعریف کی تھی۔

Roger Stone


12 فروری کو اپنی ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’اٹارنی جنرل ولیم بار آپ کو اس کیس کا چارج سنبھالنے پر مبارک ہو۔ یہ کیس قابو سے باہر ہوتا جا رہا تھا حالانکہ محکمہ انصاف تک اس کیس کو جانا ہی نہیں چاہیئے تھا۔ ثبوتوں سے یہ بات واضح ہے کہ میولر اسکینڈل کیس کو غیر مناسب طریقے سے عدالتوں میں لے جایا گیا۔ حتیٰ کہ بوب میولر نے بھی کانگریس میں جھوٹ بولا‘‘۔ امریکی اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کبھی بھی کرمنل کیسز پر ان سے کچھ نہیں کہا لیکن عدالت میں زیر سماعت کیس پر صدر کے تبصروں سے ان کے لئے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی ٹوئٹس سے معاملات بگڑ رہے ہیں۔ ولیم بار نے کہا کہ کوئی مجھ سے اونچی آواز میں بات کرے یہ بات مجھے پسند نہیں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صدر ٹرمپ ان کے مشوروں پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ ولیم بار کو پچھلے سال فروری میں اٹارنی جنرل کا عہدہ دیا گیا تھا۔ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی دوست ہیں۔

یہ بھی چیک کریں

نیٹو ذہنی طور مردہ ہو چکی ہے،فرانسیسی صدر کے بیان پر ٹرمپ غصے میں آ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئیل مارکون کے اس بیان پر طیش …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے