ہوم / تازہ ترین / وہ جو زندہ ہیں تو جینے کا ہنر رکھتے ہیں

وہ جو زندہ ہیں تو جینے کا ہنر رکھتے ہیں

تحریر: آفاق فاروقی

اس حقیقت سے کسے انکار ہے کہ دنیا کے تمام سیاسی،سماجی اور معاشی نظام مسائل و مشکلات کا شکار ہیں ۔امیری غریبی کا فرق ہر سماج کا مسئلہ ہے۔ انصاف اور مساوات اب ہر انسانی معاشرے میں قیمت ادا کرکے ہی ملتا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ مغرب و امریکہ اور فار ایسٹ کے  کچھ معاشروں میں ابھی عام انسان کی دیکھ بھال کے لیے ریاستی کردار پر کسی حد تک یقین و اطمینان قائم ہے۔ مگر تیسری دنیا کے ممالک میں بنیادی انسانی تقاضوں اور ضرورتوں کی صورت حال روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ حکمرانوں کی بے حسی اور انکی بدعنوانی تو ہے ہی مگر اسے عام آدمی کی جانب سے حالات سے سمجھوتہ کرکے خاموشی اختیار کرلینا تصور کیا جاتا ہے۔ بالخصوص اسلامی معاشروں میں اس حوالے سے منجانب اللہ کے تصور نے معاملات زندگی کو خوفناک صورت حال کا شکار بنا دیا ہے۔

پاکستان میں آپ کسی سے بات کریں اور پوچھیں کیا حال ہے؟ ایک ہی جواب ملے گا “ اللہ کا شکر ہے، اس کا احسان ہے، وہ جس حال میں رکھے اس کی مہربانی ہے۔’’۔ جب یہ پوچھا جائے ملکی حالات کیا ہیں تو جواب آتا ہے، سب مزے میں ہیں، پھر پوچھا جائے ۔ مطلب خوشحالی اعتدال نظم و ضبط تحمل برداشت کے معاملات درست ہورہے ہیں؟ تو جواب ملتا ہے یار آپ کیوں مذاق کررہے ہیں؟ یہاں اب کوئی نظام باقی ہے نہ کسی کو اس کی فکر ہے۔ سب اپنے اپنے طور پر جینے اور زندہ رہنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ریاست بس جغرافیے کی حد تک محدود ہے۔ کسی ادارے کا اب کوئی وجود نہیں۔ ایک لوٹ مار کا عجب منظر ہے۔ جس کا جہاں بس چلتا ہے وہ داؤ لگا رہا ہے۔ پھر پوچھو تو پھر اللہ کا شکر اس کا کرم کیسے قائم ہے ؟ جواباً تلخی سے کہا جاتا ہے “ تو اور کیا کہیں، رونا شروع کردیں ،ناشکری کے رونا روئیں؟اگر یہ بھی نہ کریں تو بے حوصلہ ہوکر کیسے جیا جا سکتا ہے؟

جب پوچھو پھر ہوگا  کیا ؟ کہا جاتا ہے “ کسی کو کچھ نہیں پتہ تو مجھے کیسے علم ہوگا ؟ بس چلے جارہے ہیں عمر تمام کیے جارہے ہیں۔

کل ایک صاحب سے پوچھا بتائیے کیا حال ہے؟ جواب ملا سب مزے میں۔اچھا کیا کیا مزے میں ہے تو جھجھنلاہٹ سے فرمانے لگے  تم باہر رہنے والوں کو پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے؟ یہاں کسی کو کسی بات کی اب کوئی پرواہ نہیں۔ سب کو یقین ہوگیا ہے کہ سب کو تنہا اپنی اپنی جنگ لڑنا ہے۔

 اس ریاست میں رہنے والے عام آدمی کو کتابوں میں درج ریاست،احساس اور اس کے تقاضے، ضرورت، آئین کی باتیں اب مذاق اور لطیفے جیسے لگتی ہیں۔ عمران خان کی حکومت کو ناکام ظاہر کرنے والے بھی چور تھے اور یہاں چوروں کی چوروں سے لڑائی پر اب کسی کی توجہ نہیں۔ مولوی کے دھرنے میں کوئی امید کی کرن ڈھونے والے بھی ایسے ہی احمق ہیں جیسے خان کے دھرنے میں خوشیاں تلاش کرنے والے آج تھوک لگا کر رو رہے ہیں۔ یہ ریاست جب تک قائم ہے بس ایسے ہی چلے گی۔ اور اس بات کا احساس ہر عام و خاص کو ہو چلا ہے۔ یہی وجہ ہے جسے دیکھو جس سے بات کرو وہ بس یہاں سے بھاگ نکلنے اور دور چلے جانے کے خواب دیکھنے میں مصروف ہے۔ اور جو باہر جاتا ہے اس کے گھر جشن کا سماں ہوتا ہے۔ بالکل ایسے جیسے عمر قید کے قیدی کو اچانک رہائی مل جانے پر اس کے گھر والے خوشیاں مناتے ہیں۔ جب یہ پوچھو تو آپ ظلم و جبر کے خلاف باہر کیوں نہیں نکلتے؟ جواب ملتا ہے “ ارے بھائی آپ کیوں نہیں سمجھتے؟ اوّل تو باہر نکلنے کے لیے فوری ضروریات کو پورا کرنے سے بھی جائیں گے اور اگر نکل بھی جائیں کوئی تبدیلی بھی اس نکلنے کے عوض آبھی جائے تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ کوئی اجتماعی فائدہ ہوگا ؟ کیونکہ یہاں سب اپنے اپنے اندر ایک سے بڑھ کر ایک ظالم ہے۔ ریاست کی 70سالہ بدکاریوں نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ جھوٹ، مکاری، غیبت، انتقام، بالادستی، نمود و نمائش کی خواہش ہر امیر سے امیر تر میں ہے۔ اتنی ہی یہ خواہش غریب سے غریب تر میں بھی اپنے عروج پر ہے۔ گذشتہ پچیس تیس سالوں میں چلنے والے تعلیمی نظام نے بنیادی اخلاقیات کا جنازہ اٹھا دیا ہے۔ جوں جوں تعلیم فروغ پا رہی ہے ہوس  بھی بڑھ رہی ہے۔ جو جتنا تعلیم یافتہ ہے اتنا ہی بے حس اور خود غرض ہے۔ یہاں اگر اب کوئی مثبت تبدیلی آسکتی ہے تو اس کے لیے معاشی اور سیاسی نظام کو درست کرنے کی باتیں کرنے کی بجائے معاشرے کی بنیادی اخلاقیات پر جنگی بنیادوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی چیک کریں

امریکہ کے ایک اسپتال میں پہلی بار دونوں پھیپھڑوں کی ایک ساتھ پیوندکاری

امریکہ کے ایک اسپتال میں پہلی بار ایک ساتھ دونوں پھپھڑوں کی ٹرانسپلانٹ کا آپریشن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے