ہوم / بین الاقوامی / ڈونلڈ ٹرمپ کا کانگریس کی مواخذہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار

ڈونلڈ ٹرمپ کا کانگریس کی مواخذہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وکلا نے کانگریس کی مواخذہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے وکیل پیٹ سیپو لونے نے کانگریس کی جیوڈیشری کمیٹی کو خط لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہو سکیں گے۔ گذشتہ ہفتے چیئرمین جیرلڈ بیڈلر نے امریکی صدر ٹرمپ سے کہا تھا کہ یا تو وہ کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنا دفاع کریں یا شکایات نہ کریں۔ وہائٹ ہاوٗس نے بھی صدر ٹرمپ کا کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کی تصدیق کر دی ہے۔ کانگریس کی مواخذہ کمیٹی کو جو خط لکھا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی منصفانہ طریقے سے کارروائی کو نہیں چلا رہی ہے جس کی وجہ سے صدر ٹرمپ نے پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ کمیٹی نے 4 دسمبر کو پیش ہونے کیلئے جو دعوت نامہ بھیجا ہے اس کی ابھی تک نہ تو تیاری کی جا سکی ہے اور نہ ہی گواہوں سے متعلق مکمل معلومات فراہم کی گئیں ہیں۔ صدر ٹرمپ کے وکیل سیپی لونے نے کہا ہے کہ ابھی تک جو گواہ پیش ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر تجزیہ کار یا یونیورسٹی کے پروفیسرز ہیں جو ان کو حقائق کا ادراک نہیں ہے۔ ایک سرکاری ملازم اپنی ذاتی کی بنیاد پر جبکہ تجزیہ کار ماہرانہ رائے پر کسی فیصلے پر اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں۔ کمیٹی نے خود سے تین گواہوں کو طلب کیا جبکہ ری پبلکنز کی صرف ایک گواہ کو بلانے کا فیصلہ کیا۔ امریکی صدر بل کلنٹن کو 1998 میں ایک شفاف انکوائری کے موقعہ دیا گیا لیکن صدر ٹرمپ کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا ہے۔ کانگریس کمیٹی کے سربراہ مسٹر نیڈلر کو انکوائری کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صدر ٹرمپ کو اپنی صفائی کا منصفانہ حق مل سکے۔ بدھ کو ہونے والی سماعت میں صدر ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولودمیر زلینسکی کے درمیان ہونے والی ٹیلی فون کال پر بحث ہونی ہے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے خلاف ایک نامعلوم شخص کی نشاندہی پر کانگریس اس بات کی انکوائری کر رہی ہے کہ ٹرمپ نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے  یوکرین کے صدر کو سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کرنے کیلئے دباوٗ ڈالا اور اس کے عوض یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ امریکی صدر نے الزام کی سختی سے تردید کی ہے اور مواخذے کی تحریک کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے اسے ماورائے آئین اقدام قرار دیا ہے۔ پچھلے دو ہفتوں میں کانگریس نے مواخذے کی تحریک کی عوامی سماعت کی جبکہ اس سے پہلے کئی ان کیمرہ سماعتیں مکمل کی جا چکی ہیں۔ ہاوٗس انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ ڈیموکریٹ کانگریس مین ایڈم شِف نے کہا ہے کہ 3 دسمبر کو کمیٹی انٹیلی جنس، اووسائٹ اور فارن افیئرز سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کر دے گی۔

یہ بھی چیک کریں

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل:نواز شریف کی سزا کے خلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

نیب کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد نواز شریف نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے