ہوم / تازہ ترین / کانگریس میں بھارت کے مظالم کے خلاف سماعت:کس نے کیا کردار ادا کیا؟

کانگریس میں بھارت کے مظالم کے خلاف سماعت:کس نے کیا کردار ادا کیا؟

آخری قسط

تحریر: آفاق فاروقی

پاکستانی وزیراعظم اور واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کے اس دعوے کی کہ کانگریس کی ذیلی کمیٹی نے مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کے خلاف جو سماعت کی اس میں پاکستانی کاکس اور پاکستانی سفارت خانے کا اہم کردار تھا کے حقائق جاننے کے لئیے جب ڈاکٹر آصف  محمود، ڈاکٹر آصف رحمان، کشمیری رہنما تاشقین اور ڈاکٹر رشید پراچہ سے رابطہ کرکے تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو حیران کن طور پر ان سب رہنماؤں نے بالکل ایک جیسا تبصرہ کیا اور بس اتنا کہنے پر اکتفا کیا “موجود حالات میں ہم کوئی تنازعہ پیدا نہیں کرنا چاہتے، سچ اور جھوٹ آپ کو بھی پتہ ہے اور یہاں آباد پاکستانی امریکن کمیونٹی کے ساتھ مقبوضہ وادی کے خاندانوں کے ساتھ سب سے بڑا گواہ اللہ تعالی ہیں، ہم نے وادی کے مبحوس خاندانوں کی مدد اور اللہ کی خوشنودی کے لیے جو بن پڑا  وہ کیا ہے، ہمیں کریڈٹ لیکر نہ کوئی پروموشن لینی ہے اور نہ پاکستانی عوام کو اپنی خدمات دکھا کر ووٹ حاصل کرنا ہے اور آپ کو اگر مزید سچ جاننا ہے تو ہم کانگریس مین بریڈ شرمن کے ساتھ ان کشمیری خاندانوں سے ملوا دیتے ہیں جو کمیٹی کی سماعت کے موقع پر موجود تھے اور ان کشمیری ہندو خواتین سے بھی جو بھارتی مظالم کی گواہ کے طور پر کمیٹی کے سامنے پیش ہوئیں’’۔ آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ پاکستانی وزیر اعظم کے یہاں سفیر نے رابطہ قائم کیا تھا یا جو کانگریس میں پاکستانی کاکس کاکس کھیل رہے ہی۔ مگر ہم بس اتنا کہیں گے اللہ کرے یہ کوشش رنگ لائے اور کشمیریوں کی تکالیف ختم ہوں کریڈٹ چاہے کوئی بھی لے اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

ادھر واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے مقبوضہ کشمیر کے ایک متحرک باشندے نے وادی میں بھارتی مظالم کو رکوانے کی پاکستانی کوششوں کے پس منظر میں طنزاً  کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستانی وزیر اعظم کی تقریر کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارتی سفارت خانہ اور یہاں موجود بھارتی لابی کی سرگرمیوں میں انتہائی تیزی آگئی اور کانگریس میں بھارتی سفارت خانے نے ڈیڑھ ماہ میں 81 اہم ملاقاتیں کیں جبکہ  پاکستانی سفارت خانے نے کُل چھ۔ اس سے اندازہ لگائیے پاکستانی سفارت کاری اس معاملے میں کتنی اور کس حد تک سنجیدہ ہے۔ اس کشمیری رہنما کا خیال ہے پاکستانی وزارت خارجہ بیانات، وعدوں، دعووں اور میڈیا کے کندھے پر کھڑی ہے۔ شائد پاکستانی وزارت خارجہ سمجھتی ہے اقوام متحدہ میں تقریر یا میڈیا میں بھارت کے خلاف بات کرکے وہ کامیابی کے سارے زینے چڑھ جائے گی مگر بھارت اپنی عملی کوششوں سے جھوٹ کو سچ بنانے میں تیزی سے کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کانگریس مین بریڈ شرمن پر بھارتی لابی کا جو دباؤ ہے اور وہ جس تیزی سے اپنا دباؤ بڑھا رہے ہیں اس کا کسی کو اندازہ ہی نہیں۔ اگر پاکستان کے سفارت کاروں نے یہاں نمبر بنانے کے لیے کام کرنا ہے تو مقبوضہ وادی کے ساتھ یہ ایک بہت بڑا دھوکہ ہوگا جو بدترین صورت حال میں بھی کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگانے میں مصروف ہیں۔ اس کشمیری رہنما نے انتہائی دکھ سے کہا پھر یہاں ہماری اپنی صفوں میں بہت سے ایسے کشمیری رہنما اور دوسرے افراد اور حلقے موجود ہیں جو وادی کے لوگوں کو پاکستان کی پالیسیوں اور اسکے سفارت کاروں کی لاپرواہی کی خبریں پہنچا کر انھیں بددل کررہے ہیں۔ مقبوضہ وادی سے ایسے متعدد پیغامات ملے ہیں جن میں پوچھا گیا ہے کیا پاکستان اور بھارت نے ملکر تو ہمارے ساتھ کھیل نہیں کھیلا ۔۔؟ اسی کے ساتھ ہی واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے سے مسلسل رابطہ میں رہنے والے اکثریتی حلقوں کا خیال ہے مقبوضہ وادی کی موجودہ صورت حال میں پاکستان کو واشنگٹن میں ایک ایسے سفیر کی ضرورت ہے جو معاملات کی حساسیت کو سمجھتا بھی ہو اور سفارتی حکمت عملیوں سے بھی آگاہ ہو۔ موجودہ سفیر جو ایک نفیس انسان ہیں مگر اتنے نازک معاملات سے نمٹنے کی اہلیت اور صلاحیت سے قطعی نابلد ہیں۔ یہ سب باتیں اور احساسات جاننے کے بعد میرا خیال  ہے سفیر پاکستان نے اپنے وزیر اعظم کی پیروی کرتے ہوئے کانگریس کی ذیلی کمیٹی میں بھارت کے خلاف سماعت کے کارنامے کو اپنے  اور نام نہاد پاکستانی کاکس کے کھاتے میں ڈال کر اپنے لیے شدید مشکلات پیدا کرلی ہیں۔ ان کے دعوے سے بھارت کے خلاف کام کرنے والی تمام لابیاں اور طبقات ناراض نظر آتے ہیں۔

یہ بھی چیک کریں

ایئر ایمبولینس پہنچ گئی،نواز شریف کی برطانیہ جانے کی تیاریاں مکمل

سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن روانگی کی تیاریاں مکمل ہو گئی ہیں۔ وہ منگل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے