ہوم / بین الاقوامی / طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اہم کامیابی حاصل ہوئی، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو

طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اہم کامیابی حاصل ہوئی، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں امن کی طرف کوششوں میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ طالبان کے ساتھ ایک ہفتے تک ہونے والی ملاقاتوں میں تشدد روکنے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اس وقت طالبان اور امریکہ کے درمیان افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے۔ دونوں جانب سے مذاکرات میں کئی بار تعطل بھی پیدا ہوا اور ایک موقع پر ستمبر 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات ختم کرنے کا حکم بھی دے دیا تھا تاہم بعد میں امریکی صدر نے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کو کہا۔ مائیک پومپیو کے مطابق مذاکرات ابھی جاری ہیں تاہم دونوں فریقین ابھی تک کسی حتمی امن معاہدے تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بات چیت کے دوران فریقین کسی حتمی نتیجے پر جلد ہی پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدہ صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں ہو گا۔ جیسے ہی دونوں جانب سے کسی حتمی امن منصوبے کا معاہدہ ہو گا اس پر مضبوطی سے عمل کیا جائے گا۔ امن مذاکرات میں طالبان کے ساتھ افغانستان کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بھی ساتھ ساتھ شامل کیا جائے گا۔ مائیک پومپیو کا بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے میڈیا کو بتایا کہ طالبان کے ساتھ ایک ہفتے کیلئے جنگ بندی کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ مائیک پومپیو کے مطابق طالبان کے ساتھ جنگ بندی کے علاوہ افغانستان کے سیاسی حل پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ جیسے ہی فریقین کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں گے اس کا اعلان جلد ہی کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات اسی طرح آگے بڑھتے رہے تو امکان ہے کہ مستقل جنگ بندی کا معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔ ابھی تک جنگ بندی سے متعلق کوئی حتمی بات چیت سامنے نہیں آئی ہے تاہم طالبان کے ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعہ سے ایک ہفتے کی جنگ بندی شروع کی جا رہی ہے۔ مائیک پومپیو نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیح افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ہے۔ اس وقت افغانستان میں 13 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ دسمبر میں طالبان نے امریکی حکام سے ملاقات پر حامی بھرتی ہوئے کہا تھا کہ وہ امن کیلئے مذاکرات پر تیار ہیں لیکن افغان حکومت سے کسی طور پر بات چیت نہیں کی جائے گی کیونکہ طالبان کا خیال ہے کہ افغان حکومت امریکی فوج کی پِٹھو (پپٹ) ہے۔ قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کے نو راوٗنڈز ہوئے۔ ستمبر میں امریکی حکام نے اعلان کیا تھا کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات طے ہونے کے بعد 20 ہفتوں کے اندر افغانستان سے 5 ہزار 400 امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔ لیکن اچانک امریکی صدر نے مذاکرات بند کرنے کا حکم دے دیا کیونکہ طالبان نے افغانستان میں ایک امریکی فوجی کے قتل کا اعتراف کیا تھا۔

یہ بھی چیک کریں

امریکہ اور طالبان میں تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا، 14 ماہ میں امریکی فوجیں افغانستان چھوڑ دیں گی

امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 19 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے تاریخی …

بھارت کو امریکہ طالبان امن معاہدے کی تقریب میں بحیثیت آبزرور شامل کرنے کا فیصلہ

امریکہ نے بھارت کو طالبان کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کی تقریب میں آبزرور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے