ہوم / بین الاقوامی / مودی حکومت کشمیر کی آزادنہ حیثیت ختم کرنے اور شہریت کے متنازعہ قانون پر جواب دے، امریکی سینیٹرز کا مطالبہ

مودی حکومت کشمیر کی آزادنہ حیثیت ختم کرنے اور شہریت کے متنازعہ قانون پر جواب دے، امریکی سینیٹرز کا مطالبہ

امریکی کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے سینیٹرز نے بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں ریاستی ظلم و تشدد اور شہریت کے متنازعہ قانون پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹرز کرِس وین، رچرڈ جے ڈربِن اور ری پبلکن سینیٹرز ٹوڈ ینگ، لِنڈسے او گراہم نے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو ایک مشترکہ خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ بھارت سے جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شہریت کے متنازعہ قانون پر جواب طلب کرے۔ خطا میں کہا گیا ہے کہ بھارت امریکہ کا دیرینہ دوست ہے لیکن مودی حکومت نے حال ہی میں کچھ ظالمانہ اقدامات کئے ہیں۔ مودی حکومت نے دوسری مدت شروع ہوتے ہی جموں کشمیر کی آزادانہ حیثیت کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیا ہے۔ کشمیر میں 5 اگست سے انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند ہے۔ ایک جمہوری ملک ہونے کے دعویدار بھارت کی مودی حکومت نے جموں کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی طویل ترین بندش کے تمام ریکارڈز توڑ دیئے ہیں۔ جدید دور میں انٹرنیٹ سروس کی بندش سے میڈیکل کیئر، کاروبار اور تعلیم کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ مودی حکومت نے سات ماہ سے جموں کشمیر میں کرفیو نافذ کیا ہوا ہے اور کشمیر کی بااثر سیاسی شخصیات بھی نظر بند ہیں۔ ان اقدامات سے کشمیر کی عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکی سینیٹرز نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر خارجہ بھارت سے ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ سروسز کی بحالی پر زور دیں۔ کشمیر میں سات ماہ سے جاری کرفیو اور لاک ڈاوٗن کو ختم کیا جائے۔ کمشیر کی آزادانہ حیثیت کو بحال کر کے جن لوگوں کو حراست میں رکھا گیا ہے انہیں رہا کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی حکومت ایک مخصوص اقلیت مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برت رہی ہے۔ شہریت کے متنازعہ قانون میں مسلمانوں کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں۔ اس قانون کے خلاف بھارتی سُپریم کورٹ میں درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں۔ سینیٹرز نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی حکومت سینیٹرز کے تحفظات پر 30 دن کے اندر بھارتی حکومت کے جواب طلب کرے۔ کشمیر کی آزادانہ حیثیت ختم کرنے، چھ ماہ سے کرفیو اور لاک ڈاوٗن کے ساتھ انٹرنیٹ اور موبائل سروس کی طویل ترین بندش پر بھارتی حکومت سے جواب لیا جائے۔ بھارتی حکومت سے پوچھا جائے کہ شہریت کے متنازعہ قانون کی وجہ کیا تھا اور کیوں ایک مخصوص اقلیت مسلمانوں کو شہریت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی چیک کریں

ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ بھارت: کسی بڑی ڈیل کا کوئی امکان نہیں ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے 36 گھنٹوں کے دورے پر آج بھارتی وزیراعظم نریندر …

کیا بھارت امریکہ کے ساتھ نئے سفر میں اپنے دیرینہ دوست روس کو چھوڑ دے گا؟

امریکہ اور بھارت کے درمیان 2+2 مذاکرات کا ایک دور مکمل ہو چکا ہے لیکن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے