ہوم / تازہ ترین / تم سے بھی کیا ہوسکا محبت میں ۔؟

تم سے بھی کیا ہوسکا محبت میں ۔؟

تحریر: آفاق فاروقی (نیویارک)

پاکستانی عوام بالخصوص نوجوان ، فیس بک، ٹیوٹر پر بخار نکالنے اور اپنے درمیان سیاسی نظریاتی جنگ لڑنے اور کسی ایک حمایت و مخالفت کی بجائے ایک ایجنڈے پر ہم آھنگی پیدا کریں کہ پہلے اپنے شہری اور انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے کام کریں گے اور اس کام کے لیے اپنے درمیان چھوٹے چھوٹے گروپ بنا کر علاقے کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں گے اور انکے حل کے لیے مشترکہ پُر امن جدوجہد کریں گے۔ جمہوریت  کے استحکام کے لیے سیاسی پارٹیوں کی حمایت و مخالفت سے کہیں بہتر ہے کہ پہلے اپنے شہری و انسانی حقوق کو بحال کرنے کے لیے اپنے اپنے علاقوں کی حد تک کام کیا جائے۔ نوکر شاہی اور سیاست دانوں  کو احساس دلایا جائے اب علاقے کے لوگوں کی ان پر گہری نظر ہے اور یہی جمہوریت کے استحکام کا پہلا اور بنیادی تقاضا ہے۔ مغرب و امریکہ میں ریاست کی درستگی اور نظام کو میرٹ پر متحرک بنانے میں انسانی و شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے کام کا جائزہ لیکر اس اہم ترین ضرورت کے تقاضے پورے کیے جاسکتے ہیں۔ نظریاتی مخالفت کہ ریاست کو مذہبی یا سیکولر ہونا چاہئیے اس وقت کے لیے اٹھا رکھیں جب ریاستی ادارے متحرک ہوجائیں اور وہ میرٹ پر عوام کی خدمت کو شعار بنا لیں۔ ریاست مذہبی ہو یا سیکولر لبرل دونوں صورتوں میں عوام کی ضرورتوں کی فراہمی کی پابند ہے۔ جو آپ دونوں نظریاتی مخالفوں کا بھی مطمع نظر ہے۔ اگر آپ  زبانی کلامی نظریاتی جنگ میں ہی باہم دست گریباں رہے اور سوشل میڈیا پر بخار ہی نکالتے رہے اور کسی ایک کی حمایت اور مخالفت ہی زندگی کا محور رہا تو یاد رکھئیے کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ریاست کا مفاد پرست اشرافیہ پر مشتمل ٹولہ آپ کی اس مصروفیت سے انتہائی خوش ہے کہ آپ  عملی جدوجہد سے دور باہم دست و گریباں ہیں۔ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ کر اپنے اپنے بستروں میں دبک جاتے ہیں۔ پاکستانی عوام سوشل میڈیا پر ریاستی معاملات پر جس تشویش کا اظہار کررہے ہیں اگر واقعی وہ درست ہے تو آپ کو ریاست کی بہتری کے لیے اپنا عملی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی پڑھے لکھے نوجوان جو بظاہر ریاست کے موجود حالات سے مایوس نظر آتے ہیں اگر انہوں نے مایوسی چھوڑ کر عملی کردار ادا نہ کیا تو جانئیے آپ اس لوٹ مار ٹولے کے خاموش حمایتی ہیں جنکی لوٹ مار بد انتظامی اور لاپرواہی سے بظاہر آپ مایوس نظر آتے ہیں

یہ بھی چیک کریں

اپوزیشن خوش ،اسٹیبلشمنٹ بھی آرام سے ، بس عوام گئے کام سے

تحریر: آفاق فاروقی (نیویارک) جب کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑہ لگا کر تحریک …

جیسے اس کی ہی ذمہ داری ہے ۔۔؟

تحریر: آفاق فارقی (نیویارک) حامد میر  عقل و شعور کے اندھوں کا غدار ہے۔ پاکستانی …

پاکستان اور ہندوستان کے مسلمان

قسط 1 تحریر: آفاق فاروقی پاکستانی مسلمانوں نے آزادی حاصل کرنے کے فوراً  بعد ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے