ہوم / تازہ ترین / رباّ میرے حال دا محرم تُوں

رباّ میرے حال دا محرم تُوں


تحریر: نذر محمد چوہان (نیوجرسی)

ہر تہذیب اپنے ہی گند تلے آ کر تباہ ہوئی

یہاں امریکہ میں کسی پاکستانی نے ایک مباحثہ میں علامہ جاوید غامدی سے پوچھا کہ مسلمان اب کب دوبارہ دنیا پر حکومت کریں گے؟ علامہ صاحب کا جواب بہت دو ٹوک تھا “ کبھی نہیں، مسلمانوں نے اپنی باری لے لی ہے“۔ یہاں امریکہ میں ہی ایک شخص ولیم جیمز ڈیورنٹ 1885 میں پیدا ہوا اور 95 سال عمر پا کر 1981 میں فوت ہوا۔ وہ ایک بہت بڑا امریکی مورخ، فلاسفر اور لکھاری مانا جاتا ہے۔

اس کی کتاب جو گیارہ جلدوں پر مشتمل ہے، بہت ہی کمال کا کام۔

The story of civilization

انسانی تاریخ پر ایک شاہکار نسخہ، کیا تاریخ کا بیانیہ۔ میری ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ اس کی ساری جلدوں کا مطالعہ کروں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اسپوکین، واشنگٹن میں پرانی کتابوں والے کے پاس اس کا کوئی تین سو ڈالر پر خریدنے کا سودا بنا لیکن پھر اٹھانا اور نیوجرسی لانا مصیبت بن گیا۔ لہٰذا لائبریری میں ہی بضرورت وقت پڑھ لیتا ہوں۔ ول ڈیورانٹ کی یہ تہذیبوں کی کہانی بہت ہی دلچسپ ہے۔ اس کو میں یا کوئی صوفی رُستمانی جیسا فقیر تو سمجھ سکتا ہے شاید ماڈرن روبوٹک انسان نہیں۔ یہ کہانی دراصل سارے فلسفی ہر زمانے میں اپنے طریقے سے سناتے رہے۔ لیکن ہمیشہ ان کی سُنی ان سُنی کر دی گئی۔ ڈیورانٹ نے تو فلسفہ اور فلسفیوں پر بھی کہانی لکھی جس وجہ سے اسے تہذیبوں کی کہانی لکھنے میں مدد ملی ۔ دراصل یہ قدرتی روحانی سفر دائروں کا سفر ہے ۔ ول ڈیورانٹ کا ایک قول بہت مشہور ہے کے قوموں کو بیرونی معرکہ آرائیاں یا فاتح نہیں ختم کرتے بلکہ اندرونی توڑ پھوڑ ۔

آج سعودی عرب نے یمن سے صُلح کر لی ۔ یہاں آج آسمان بلکل صاف ہے دھوپ نکلی ہوئ ہے ۔ کل یہیں برف پڑے گی ۔ یہ قدرت کا نظام ہے ۔ دائرہ ہر صورت پورا ہونا ہے ۔ آج اگر آپ یونان جائیں تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ اس دھرتی پر ڈھائی ہزار سال پہلے فلسفیوں کے خدا بستے تھے۔ ایسا لگتا ہے اب یونان کو کسی اور طرح کے خداؤں کی ضرورت ہے۔ میسیپٹومیا کا کسی کو علم ہی نہیں کس ملک میں ہے؟ چینی بادشاہت جس کو زوال نہیں تھا یا روسی زار، مصری فرعون کہاں گئے؟ کیا ہوا؟ زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا؟ دائرہ مکمل ہو گیا تھا۔ دائروں کا سفر ہی حتمی ہے اور ابدی بھی۔ اسی لیے مجھے تقلیدیوں سے شدید نفرت ہے۔ کسی قسم کا آئیڈل ازم ایک بہت بڑا دھوکہ ہے۔ پھر آپ کا نام سُرنگ یا عمارت پر ہی رہ جاتا ہے  کردار زیرو۔ جب آپ کائنات کے رقص میں خالق کے ساتھ برابر کے شریک ہیں تو پھر کیسا غم کونسی فکر؟

ہمارے اپنے ذاتی، پیسہ بنانے اور طاقت کے شوق ، نفسانی خواہشات کے تابع زندگیاں گزارنے کے چسکے ، ہمیں چین سے نہیں بیٹھنے دیتے۔ دنیا فتح کرنے کا شوق آدم کے وقت سے ہی شروع ہے اور اگلے ارتقاء تک جاری رہے گا۔ آج کا چین وہ چین نہیں جو چین کے دیوتاؤں نے ہزاروں سال پہلے سوچا تھا یا جو کنفوشس کہتا تھا۔ آج کا چین مادہ پرستی والا چین ہے۔ آج چین کی کمیونسٹ پارٹی نے لاما کو پیسہ لگا کر بُدھ مت بھی خرید لیا۔ اب بُدھ مت چین کا سرکاری مذہب ہو گا۔ کیا مذہب بھی سرکاری اور غیر سرکاری ہوتے ہیں؟ مذہب کا سرکار سے کیا واسطہ؟ مذہب تو زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔

ہر عروج کو زوال ہے اور ہر دائرہ مکمل ہونا ہے۔ لکیری سوچ ہماری خطا ہے۔ یہ لکیر کا سفر ہے ہی نہیں۔ میں امریکہ کی جس ریاست میں بھی جاتا ہوں ہو بہو وہی نقشہ وہی لوگ وہی عمارات۔ سوچتا ہوں اتنے سارے امریکہ  اتنے سارے ایک جیسے دائرے؟ وہی بُلھے شاہ والی بات

بے حد رمزاں دسدا میرا ڈھولن ماہی

ہمیں اپنے اندر جھانکنا ہے سچ کی تلاش میں۔ اپنی زندگیاں قدرت کے مطابق گزارنی ہیں ناں کے حکمرانوں کے یا مشینوں کے تابع۔ سورہ رحمٰن میں جن نعمتوں کا رب باری تعالی تذکرہ فرما رہے ہیں ان کا شکر ادا کرنا ہے اور ان سے مستفید ہونا ہے ۔ ہم نے شکر تو کیا ادا کرنا تھا اُلٹا ہم نے ماحول کی تباہی سے ان کو ہی برباد کرنا شروع کر دیا۔ میرا شہر لاہور اس وقت رہنے کے قابل ہی نہیں رہا ۔ سموگ نے لوگوں کو بیمار کر دیا اور حکمران کہتے ہیں بارش کا انتظار کریں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ ڈینگی پھیل رہا ہے تو سرکار کہتی ہے سردی کا انتظار کریں مچھر مر جائے گا۔ یہ ہے وہ دائرہ جو ہم کھینچ رہے ہیں ۔ جو موت سے شروع ہو کر موت پر ہی ختم ہو رہا ہے ۔

پنجابی کے مشہور صوفی شاعر شاہ حسین نے روزمرہ کے استعمال کی اشیاء و آلات کو مثلاً چرخہ، سوت، تانا، بانا وغیرہ کو صوفیانہ اور روحانی معنی پہنائے۔ تاکہ زندگی گزارنے کا طریقہ سمجھ آ جائے ۔ ان کے بعد یہ پنجابی کا ایک جزولاینفک بن گئے۔ ان کی چند کافیاں اسی دائرہ والے فلسفہ پر

ربا میرے حال دا محرم تُوں!

اندر تُوں ہیں، باھر تُوں ہیں ،رُوم رُوم وِچ تُوں

تُوں ہیں تانا، تُوں ہیں بانا،سبھ کجھ میرا تُوں

کہے حسین فقیر نماناں،میں ناہیں، سب تُوں

گھم چرخڑیا! تیری کتن والی جیوے’ نلیاں وٹن والی جیوے

بُڈھا ہو یوں شاہ حسینا دندیں جھیراں پیاں

اُٹھ سویرے ڈھونڈن لگوں، سنجھ دیاں جوگیاں

ہر دم نام سنبھال سائیں دا تاں توں استھرتھیوی

چرخہ بولے سائیں سائیں بائیڑ بولے تُوں

کہے حسین فقیر سائیں دا، میں ناہیں سبھ توں

نی سیو! اسیں نیناں دے آکھے لگے

جیہناں پاک نگاہاں ہوئیاں،سے کہیں نہیں جاندے ٹھگے

کالے پٹ نہ چڑھے سفیدی،کاگ نہ تھیندے بگے

شاہ حسین شہادت پائین، جومرن مِتراں دے اگے

چرخہ میرا رنگڑا رنگ لال!

جے اوڈ چرخہ، تے وڈمُنے ہُن کہہ گیا باراں پنے

سائیں کارن،لوئن رُنّے روئے ونجایا حال

جے وڈ چرخہ،تے وڈگُھمائن سبھے آئیاں،سیس گندائِن

کائی نہ آیا حال ونڈائِن ہن کائی نہ چلدی نال

وچّھے کھاہد گوہڑا واڑا سبھولڑ دا ویہڑا پار

میں کیہہ پھیڑیا ویہڑے دا نی سبھ پئیاں میرے خیال

جے وڈ چرخہ تے وڈ پچھی ماپیاں میرے سِر تے رَکھّی

کہے حسین فقیر سائیں دا ہر دم نال سنبھال

چرخہ ہی اُس دائرہ کی علامت ہے جس کا میں نے اوپر تذکرہ کیا۔ گھُم چرخیا ، تیری کتن والی جیوے، نلیاں وٹن والی جیوے ! بہت خوش رہیں ۔ سوچیں آپ کہاں ہیں ، کیوں ہیں اور کیسے ہیں ؟ جیتے رہیں ۔

یہ بھی چیک کریں

شہریت کے متنازعہ بل پر ہنگامے، آسام فوج کے حوالے

مودی حکومت نے مذہب کی بنیاد پر شہریت کے نئے قانون کے خلاف شمال مشرقی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے