ہوم / بین الاقوامی / بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں ریاستی مظالم پر پاکستان اور تُرکی کی عوام کا درد سانجھا ہے، طیب اردوان

بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں ریاستی مظالم پر پاکستان اور تُرکی کی عوام کا درد سانجھا ہے، طیب اردوان

ترک صدر رجب طیب اردوان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ترکی کے لیے وہی ہے جو   پاکستان کے لیے ہے۔ تُرک عوام کے دل میں بھارت کے زیر تسلط کشمیر پر ریاستی مظالم پر افسوس اور غم ہے کیونکہ انہیں صرف آزادی کے مطالبے پر ریاستی تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دونوں ممالک کے قومی ترانوں سے ہوا جس کے بعد اجلاس کا باقاعدہ  آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پاکستان کے عوام کے نمائندہ ایوان کی طرف سے ترک صدر رجب طیب اردوان کو خوش آمدید کہا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان کے عوام کو نمائندہ ایوان کے توسط سے سلام محبت پیش کرتا ہوں۔ مشترکہ اجلاس سے خطاب کا موقع فراہم کرنے پر سب کا شکر گزار ہوں۔ جس طرح سے پاکستان میں پرجوش استقبال ہوا اور مہمان نوازی ہوئی اس پر پوری پاکستانی قوم کا شکر گزار ہوں۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان آکر کبھی خود کو اجنبی محسوس نہیں کرتا۔ پاکستان میرے لیے دوسرے گھر کا درجہ رکھتا ہے۔ آج ترکی اور پاکستان کے تعلقات قابل رشک ہیں۔ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترک صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کشمیر ترکی کے لیے وہی ہے جو پاکستان کے لیے ہے۔ پاکستان کا درد ترکی کا درد ہے اور پاکستان کی خوشی ترکی کی خوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیری بھائیوں کی تکالیف میں اضافہ ہوا لیکن مسئلہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف سے ممکن ہے۔ ترک صدر نے کہا کہ مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کی جانب سے ساتھ دینے پر ان کے شکر گزار ہیں اور ماضی کی طرح مستقبل میں بھی دونوں ممالک کا تعاون اور ساتھ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ترکی کا بھرپور ساتھ دیا، پاکستان نے پاک ترک اسکولوں کا نظام ہمارے حوالے کر کے حقیقی دوست ہونے کا ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہیں۔ انسداد دہشت گردی کے معاملات میں ہم پاکستان کے ساتھ تعاون کو آئندہ بھی جاری رکھیں گے اور تمام تر دباؤ کے باوجود ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بھرپور حمایت کا یقین دلاتا ہوں۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستانی حکومت کے مثبت اقدامات سے سرمایہ کاری اور تجارت کا ماحول سازگار ہو رہا ہے لیکن اقتصادی ترقی چند دنوں میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کی دوستی مفاد پر نہیں بلکہ عشق و محبت پر مبنی ہے۔ پاکستانی قوم نے جس طرح اپنا پیٹ کاٹ کر ہماری مدد کی تھی اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتے، اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان محبت ہمیشہ قائم رہے۔

قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ترک صدر رجب طیب اردوان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، رہنما ن لیگ خواجہ آصف سمیت اراکین کی بڑی تعداد نے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی اور پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان بھی مہمانوں کی گیلری میں موجود تھے۔

خیال رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کل دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔ ترک صدر کو ایوان وزیراعظم میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا تھا جب کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ترک ہم منصب کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام بھی کیا تھا۔

یہ بھی چیک کریں

ترک صدر کا پاکستانی ہم منصب کو فون، طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار

اسلام آباد: ترک صدر نے صدر پاکستان کو ٹیلی فون کرکے پاکستانی قوم کو عید الفطر …

عالمی رہنماوٗں کا ایک دوسرے سے ملاقات کے دوران ہاتھ ملانے سے گریز

کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ترک صدر طیب اردوان نے نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے