ہوم / بین الاقوامی / گجرات 2002 فسادات: مسلم خواتین کے ساتھ گینگ ریپ اور زندہ جلانے کو ریاستی تحفظ حاصل تھا

گجرات 2002 فسادات: مسلم خواتین کے ساتھ گینگ ریپ اور زندہ جلانے کو ریاستی تحفظ حاصل تھا

نریندر مودی کے 2002 کے دور وزارت اعلیٰ میں گجرات میں ہونے والے مظالم نے بھارت میں ظلم و بربریت کی ایک مثال قائم کی جس کی نظیر بھارت کی تاریخ میں ملنا ممکن نہیں ہے۔ 2002 کے فسادات میں سب سے زیادہ متاثر خواتین اور نوجوان لڑکیاں ہوئیں جن کو بے دردی کے ساتھ ریاست کی شہہ پر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سے پہلے بھارت میں کئی بار ہندو مسلم فسادات ہوئے جن میں نیلی میں 1983 ، دہلی 1984، بھاگل پور میں 1898 اور ممبئی میں 1992 میں ہونے والے فسادات میں اتنا ظلم مسلمانوں پر نہیں ہوا جتنا نریندر مودی نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے ہوتے ہوئے ریاستی اجازت کے ساتھ 2002 میں کیا۔ ان فسادات کی انکوائری کرنے والے ٹربیونل کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ متاثر مسلمان خواتین ہوئیں جن کے ساتھ گینگ ریپ کیا اور ان کے جسم کے نازک اعضا میں لکڑی کے ڈنڈے اور دیگر اشیا زبردستی داخل کی گئیں۔ جن خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ان میں سے اکثر کو زندہ جلا دیا گیا۔ جو خواتین زندہ بچ گئیں ان میں کچھ نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم سے ٹربیونل کو آگاہ کیا لیکن بہت سی خواتین نے فیملی کے دباوٗ یا مستقبل کے خوف سے خاموش رہنے میں عافیت سمجھی۔ دی پرنٹ کے ہرش میندر نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں انصاف کا نظام نہ ہونے کے باعث خواتین کی اکثریت نے خاموشی کو ہی اپنا ہتھیار بنایا۔ فسادات میں خواتین کے ساتھ گینگ ریپ کو ریاستی تحفظ حاصل تھا۔ یہ پالیسی اس لئے اپنائی گئی تاکہ اس کے ثبوت نہ مل سکیں۔ ہجوم کسی ایک گھر میں داخل ہوتا وہاں خواتین کو برہنہ کر کے سربازار ان کی تذلیل کرتا۔ ہجوم کے مشتعل لوگ ان خواتین کے جنسی زیادتی کرتے اور بعد میں ان خواتین کو زندہ جلا دیا گیا تاکہ کسی کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملے۔ انٹرنیشنل فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور سری لنکا کے نمائندے شامل تھے۔ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ خواتین کے ساتھ گینگ ریپ کو ریاستی پالیسی کے تحت اختیار کیا گیا۔ خواتین کے نازک اعضا کاٹ دیئے گئے۔ بعض خواتین پر ہندووٗں کے دیوتاوٗں کی تصاویر بنا دی گئیں۔ کئی نوجوان لڑکیوں کو اس طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ کبھی ماں نہ بن سکیں۔ ٹربیونل کے سامنے پنچ محل گاوٗں کی ایک مسلم خاتون سلطانی نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہجوم ان کے گھر کی طرف آ رہا تھا۔ میری گود میں میرا بیٹا فیضان تھا۔ میں وہاں سے بھاگی۔ ہجوم میں ایک شخص نے مجھے دھکا دے کر نیچے گرایا میرا بیٹا میری گود سے گِر گیا۔ لوگوں نے میرے کپڑے جسم سے اتارے اور میں بالکل برہنہ ہو گئی۔ ہجوم میں کئی لوگوں نے میرے ساتھ زیادتی کی۔ میرا بیٹا میری آنکھوں کے سامنے چیختا چلاتا رہا۔ ہجوم میں ایک شخص نے تیز دھار آلے سے میری ایک ٹانگ کاٹ دی اور مجھے اسی حالت میں چھوٹ کر بھاگ گئے۔ اسی گاوٗں کی ایک اور عورت نے بیان دیا کہ ہجوم ان کے گھر آیا اور اس کی بیٹی کو اٹھا کر لے گیا۔ انہوں نے میری آنکھوں کے سامنے میری بیٹی کے ساتھ گینگ ریپ کیا اور اسے قتل کر دیا۔ میں بے یارو مدد گار تھی اور اپنی بیٹی کی کوئی مدد نہ کر سکی۔ انہوں نے میری بیٹی کے جسم کے کئی ٹکڑے کئے اور کہتے رہے کہ کوئی ثبوت نہ چھوڑو اور بعد میں میری بیٹی کے جسم کے ٹکڑوں کو آگ لگا دی۔ ایک اور خاتون کوثر بانو نے اپنی نند سائرہ بانو کے متعلق بتایا کہ کیسے ہجوم نے اس کے ساتھ زیادتی کی حالانکہ وہ 9 ماہ کی حاملہ تھی۔ اس کا پیٹ چاک کر کے بچے کو باہر نکالا اور ماں اور بچے دونوں کو زندہ جلا دیا۔ ایسے بے شمار واقعات تھے جن میں خواتین کو گینگ ریپ کے بعد زندہ جلا دیا گیا۔ ان تمام واقعات میں مختلف علاقوں کے لوگوں نے اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں یہ وارداتیں کیں تاکہ لوگوں کی شناخت نہ ہو سکے اور کوئی ثبوت نہ مل سکے۔ 2002 کے اس سانحے میں صرف مسلم خواتین ہی نہیں ایسے بہت سے ہندو خاندانوں کی خواتین کو بھی گینگ ریپ کے بعد قتل کیا گیا جن کے مسلمان خاندانوں کے ساتھ مراسم تھے۔گوری ایک ہندو لڑکی تھی جس کی شادی ایک مسلمان لڑکے سے ہوئی تھی۔ جب فسادات شروع ہوئے تو گوری نے اپنے شوہر سے کہا کہ یہاں سے بھاگ کر کھیتوں میں پناہ لے لیتے ہیں کیونکہ ہندو انتہاپسند انہیں نہیں چھوڑیں گے لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنا گھر چھوڑتے۔ ایک ہجوم ان کی طرف آیا۔ گوری کے ساتھ گاوٗں کے لوگوں کے سامنے سات سے آٹھ لوگوں نے گینگ ریپ کیا۔ گاوٗں میں کسی نے بھی ان کی مدد کرنے کی کوشش نہیں کی۔ گوری ٹربیونل کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے وہ واقعات یاد کر کے مسلسل روتی رہی۔ خواتین کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی اس وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ترسالی کے ایک دیہات میں ایک بوڑھی عورت نے ٹربیونل کے سامنے بیان دیا کہ اس کے جواں سال بیٹے کا سر کاٹ کر اسے تھالی میں رکھ کر اسے پیش کیا گیا۔ اسی دیہات میں ایک اور خاتون کے بیٹے کو بے دردی سے قتل کر کے اس کے جسم کے ٹکڑے کر دیئے گئے۔

یہ بھی چیک کریں

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل:نواز شریف کی سزا کے خلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

نیب کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد نواز شریف نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے