ہوم / تازہ ترین / نیا سال ۔۔۔ افسانہ ۔۔۔ طارق بلوچ صحرائی

نیا سال ۔۔۔ افسانہ ۔۔۔ طارق بلوچ صحرائی

تحریر: طارق بلوچ صحرائی

نصف شب بیت چکی تھی۔ اس نے پنڈال میں بیٹھے لوگوں کو غور سے دیکھا اور بولا آج سال کی آخری رات ہے کل کا سورج  نئے سال کا پیام لئے طلوع ہوگا۔ میرا باپ کہتا تھا نصف شب جب نئے سال کا آغاز ہو دیئے بجھا کر اپنے رب سے جو بھی دعا مانگیں قبول ہوتی ہے لیکن شرط یہ ہے دعا سے پہلے اپنے تمام مخالفین اور دشمنوں کو دل سے معاف کر دیا جائے۔

پنڈال میں خاموشی چھا گئی سارے چراغ بجھا دیئے گئے۔

آسمان نے دیکھا لاتعداد ہاتھ دعا کے لئے اٹھے ہوئے تھے۔ جب چراغوں کو نئی زندگی ملی تو روشنی نے دیکھا داستان گو کا تمام چہرہ آنسوﺅں سے تر تھا۔

اگر ہم کہانی کو درمیان سے شروع کریں تو بچوں کو سمجھ نہیں آئے گی اور اگر آخر سے شروع کریں گے تو بڑوں کو بھی سمجھنا مشکل ہوگا، میں کہانی ابتدا ہی شروع کرتا ہوں۔

داستان گو ایک لمحے کو رکا

جادوگروں کے شہر جسے جادونگری کہتے تھے اس میں ایک ہی آدمی رہتا تھا۔

کوئی جادوگر کبھی اسے مکھی بنا دیتا اور کبھی سانپ بچھو۔ وہ جادوگروں کے لئے ایک کھلونا تھا۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا کسی شریر بچے کا جادوگر باپ اسے بندر اور ریچھ بنا دیتا اور اس کی ناک میں نکیل ڈال کر شریر بچوں کے حوالے کر دیتا اور پھر تمام جادوگر اکٹھے ہو کر قہقہے لگاتے اور لطف اٹھاتے۔ اس کی شدید خواہش تھی کہ وہ یہاں سے بھاگ جائے۔ اس نے بارہا کوشش بھی کی، مگر ہر بار پکڑا جاتا اور پھر سزا کے طور پر اسے کتا بنا کر شریر بچوں کے حوالے کر دیا جاتا۔

رفتہ رفتہ وہ اس زندگی کا عادی ہو گیا اور پھر وہ اس شہر کے سحر میں ایسا ڈوبا کہ اسے آزادی کی خواہش ہی نہ رہی، بس اسے ہلکی سی پشیمانی یہ تھی کہ وہ جب بھی سانپ، بچھو یا بندر ریچھ یا کتا وغیرہ سے دوبارہ انسان بنتا تو اس کا دل بھی وہی چاہتا جو ان جانوروں کی خصلت ہے۔ مکھی سے وہ جب بھی دوبارہ انسانی روپ میں آتا تو اس کا دل بھی بھنبھنانے، غلاظت پر بیٹھنے اور زخموں پر رستے خون کو پینے کو کرتا۔

شاید آج کا انسان بھی اسی جادونگری سے آیا ہوا لگتا ہے۔

داستان گو خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا، اس نے اپنی بات جاری رکھی۔

وہ شہر بھی عجیب تھا، اس قدر روشن تھا کہ زمین پر پڑا ایک تنکا بھی چمکتا نظر آتا تھا، اس شہر میں لاکھوں چراغ تھے مگر ان میں ایک بھی روشن نہیں تھا اس لئے نہیں کہ یہ شہر آندھیوں کی زد میں تھا بلکہ یہ روشن ہی اتنا تھا کہ کسی کو چراغ جلانے کی خواہش ہی نہیں ہوئی یا اس لئے بھی کہ یہاں کبھی رات نہیں ہوا کرتی تھی اور نہ کبھی ماہ و سال بدلتے تھے، اس لئے انہیں کبھی نصف شب کو چراغ گل کر کے سب کو دل سے معاف کر کے دعا مانگنے کی توفیق ہی نہ ہوسکی تھی۔

اس نے حیرت میں ڈوبے گاﺅں والوں کے چہروں کو غور سے دیکھا، جو سانس روکے اس کی کہانی کو نہایت غور سے سن رہے تھے۔ پنڈال کچھا کھچ بھرا ہوا تھا مگر خاموشی کا یہ عالم تھا کہ جیسے اماوس کی رات میں گاﺅں سے دور قبرستان کے ساتھ گزرتا ہوا سہما راستہ ہو، بس کبھی کبھی داستان گو کے گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سنائی دیتی تھی۔

داستان گو کے چہرے پر ایک پراسرار مسکراہٹ پھیل گئی، میں آپ سے معاوضہ نہیں لوں گا، مجھے میرا معاوضہ مل گیا ہے۔

کیا مطلب؟

محمد علی آڑھتی نے حیرانی سے پوچھا۔

تم اس گاﺅں میں پہلی بار آئے ہو، تم سے پہلے جو داستان گو آتا تھا ہم اس کو اور اس کے گھوڑے کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور دیتے تھے، تم داستان گو لوگوں کی آڑھت ہی یہی ہے…. میرا مطلب ہے روزی روٹی ہی داستان گوئی ہے۔

داستان گو مسکرایا اور بولا:

میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔

پھر تم داستان گو کیوں بنے؟ ماسٹر اللہ وسایا نے سوال کیا۔

داستان گو کچھ دیر سر جھکائے خاموش بیٹھا رہا۔ پھر کہنے لگا:

آنکھوں کی بستیاں بے آباد ہو جائیں تو دیے اداس ہو جاتے ہیں۔ جس دن میرے من کا دیا روشن ہوا میں نے فطرت کی سب خوبصورتیوں کو دیکھا مگر مجھے ان خوبصورتیوں میں حیرت جیسی انمول خوبصورتی نظر نہیں آئی، میں نے اس لازوال خوبصورتی کو دیکھنے کے لئے داستان گو بننے کا فیصلہ کیا ہے۔

فائبر آپٹک کیبل کی زنجیر میں لپٹے اس ترقی یافتہ، پرآشوب دور نے ہمارے چہرے سے حیرت چھین لی ہے۔ جس کے چہرے پر حیرت کی خوبصورتی، معصومیت اور ذہن میں سوچ نہ ہو مجھے اسے انسان کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔ جب میں کسی گاﺅں جا کر داستانیں سناتا ہوں تو ان کے حیرت میں ڈوبے چہروں کو دیکھ کر مجھے روحانی خوشی ہوتی ہے۔ حیرت جیسی انمول خوبصورتی سے روح کو مالا مال کرنا ہی میرا معاوضہ ہے۔

ویسے بھی مجھے گاﺅں بہت اچھے لگتے ہیں، یہاں آپ رخصت کرنے والے کو دور تک دیکھ سکتے ہیں اور آنے والے کو بھی دور ہی سے دیکھ لیتے ہیں۔ شہروں میں تو آدمی موڑ مڑتے ہی نظروں سے اوجھل ہو کر اجنبی بن جاتا ہے۔

گاﺅں میں جگنو، تتلیاں اور پرندے بھی کثرت سے ہوتے ہیں۔ پرندے ہم سے زیادہ خوش نصیب ہیں، ان کو ماﺅں سے بھی دعائیں ملتی ہیں اور پودوں سے بھی، پرندے پودوں کے عیال ہوتے ہیں۔

میں نے وطن سے محبت کا سبق پرندوں ہی سے سیکھا ہے۔ پرندے صرف مقامی درختوں پر ہی اپنا گھونسلہ بناتے ہیں۔ ہر گاﺅں میں ایک بڑا برگد ضرور ہوتا ہے، یہاں لوگ فیصلوں کے لئے مل کر بیٹھتے ہیں، اسی سے تو گاﺅں میں اجتماعی سوچ پیدا ہوتی ہے۔

حاجی عبدالکریم، جو گاﺅں کے پرائمری سکول کا ہیڈ ماسٹر تھا، اٹھا اور بولا:

اے داستان گو! تیری باتیں ہمیں اچھی لگیں، یہ داستان ہم اگلی بار سنیں گے، تم نے ہزاروں لوگوں کی داستانیں سنائی ہوں گی، ہماری خواہش ہے آج تو اپنی کہانی سنا۔

پنڈال سیٹیوں، تالیوں اور خوشی کی آوازوں سے گونج اٹھا۔

داستان گو کے چہرے پر حیرت پھیل گئی۔

اب گاﺅں والے حیرت کی خوبصورتی کے حصار میں تھے۔

داستان گو مسکرایا اور گویا ہوا۔

کون کیا ہے؟ کہاں سے آیا ہے، کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے، اس کے آباﺅ اجداد کون تھے؟ میرا باپ کہتا تھا ہر انسان کا شجرہ نسب اس کی زباں پر لکھا ہوتا ہے۔

میرا دادا بہت امیر آدمی تھا، وہ سینکڑوں ایکڑ اراضی کا اکیلا مالک تھا۔ وہ ایک بہت بڑی گدی کا سجادہ نشین تھا، اس کے مریدین کی تعداد لاکھوں میں تھی، اس کے سات بیٹے تھے۔ روایتی جاگیرداروں اور حاکم وقت کی طرح اس کے نزدیک بھی انسان کیڑے مکوڑوں کی طرح تھے، جن کے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات ہوا کرتی ہے۔

میرا باپ اسے سمجھاتا کسی پر ظلم کرنا اور کسی کی ناحق جان لینا کتنا بڑا گناہ ہے۔

قابیل کے ناحق خون کی وجہ سے کائنات کی ہر شے متاثر ہوئی۔ درخت خاردار ہو گئے۔ کھانے سڑنے لگے۔ پھلوں میں ترشی پیدا ہونے لگی۔ پانی شور ہوگیا۔ زمین غبار آلود ہوگئی اور حضرت آدم علیہ السلام سو سال تک نہیں ہنسے۔

اے اللہ میرے پیارے دیس اور خصوصاً کراچی کو قتل و غارت سے نجات دلا۔ مولوی عبدالرﺅف کے منہ سے بے اختیار دعا نکلی۔

پنڈال آمین کی آواز سے گونج اٹھا۔

داستان گو نے اپنی بات جاری رکھی۔

میرے دادا نے اپنے طور طریقے نہ بدلے کیونکہ وہ طاقت کے نشے میں تھا۔ اور طاقت کے نشے کو دنیا کی کوئی ترشی نہیں اتار سکتی۔ میرا باپ دادا سے ناراض ہو کر بہت دور دوسرے شہر میں چلا آیا۔ اس نے روکھی سوکھی کھائی مگر دادا کی دولت قبول نہیں کی۔

اس نے بازار میں کھلونے بھی بیچے۔ جس شہر میں بچے نہ روئیں وہاں کھلونے بیچنے والا روتا ہے۔

میری ماں بہادر عورت تھی۔ آنکھوں پہ دوپٹہ رکھ کر بچوں کو بھوکے پیٹ تھپک تھپک کر سلا دیتی تھی، میں نے اس کی آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں دیکھے۔ شاید وہ ہمارے سو جانے کے بعد رویا کرتی تھی۔

میرا باپ آئینہ صفت آدمی تھا، اس لئے ہمیشہ پتھروں کے زیر عتاب رہا۔ وہ کہا کرتا تھا آکسیجن کا پہلا جھونکا جو میری زندگی کی پہلی سانس بحال کرنے کاباعث بنا وہ میرا استحقاق تھا، باقی سب اللہ کا فضل ہے۔

میں نے اپنے باپ سے کہا دادا کی دولت میں سے ہمارا بھی حق بنتا ہے۔ آپ ان سے اپنا حصہ لیں مگر میرا باپ نہ مانا، وہ عمر بھر شاہین کی طرح جیا، وہ بھوکا بھی رہا مگر مردار نہیں کھایا۔ مگر میرے اندر کا گدھ ابھی جوان تھا، میں اپنے باپ سے ناراض ہو کر دادا کے پاس چلا آیا اور پھر ویسی ہی پرتعیش زندگی شروع کر دی۔ میرا باپ اپنے وجود کی سلطنت کا بادشاہ تھا، اس نے مجھے دل بدر کر دیا۔

زندگی مزے سے گزر رہی تھی مگر اندر ایک عجیب سا خلا تھا، کچھ ایسا تھا جو کہ گم تھا۔ اکثر سوچتا کچھ تو ہے جسے تلاش کرنا ہے اسی لئے تو انسان کو مسافر پیدا کیا گیا ہے۔

بظاہر زندگی میں ایک اہم بات یہی لگتی ہے کہ انسان کی افزائش کے لئے اس کی بنیادی ضرورتیں بھی پوری ہوں تو ایسا کچھ باقی رہتا ہے جس کی ضرورت ہر باشعور انسان محسوس کرتا ہے۔

اسے فلاح کہتے ہیں یا تلاش ذات یا معرفت الہٰی کی تمنا۔ یوں محسوس ہوتا تھا اندر کے سناٹوں میں تاریک راستوں پر کچھ مسلسل ٹوٹ پھوٹ رہا ہے۔

اور پھر ایک دن میں دادا کی پرتعیش زندگی چھوڑ کر اپنے باپ کے قدموں میں آبیٹھا اور معافی کی درخواست کی اور التجا کی بابا میرے لئے دلی سکون کی دعا کریں۔

میرے باپ نے مجھے اٹھا کر اپنے گلے لگا لیا اور بولے پُتر آج نئے سال کا پہلا دن ہے۔

اپنی نئی زندگی کا آغاز کرو۔ توبہ کر کے شیطان کے گروہ سے نکل جا کیونکہ شیطان نے اب تک توبہ نہیں کی، اپنے اندر من میں دیا جلاﺅ، باہر کی روشنی سے چیزوں کی ہیئت نظر آتی ہے فطرت کا علم نہیں ہوتا۔ اور یاد رکھو۔ روشنی سے دیا نہیں جلتا بلکہ دیا جلانے سے روشنی ہوتی ہے۔ اور جب داستان گو گھر جانے کے لئے گھوڑے پر سوار ہو رہا تھا تو اس نے دیکھا گاﺅں والے اس نئے سال میں اپنی پرانی رنجشیں بھلا کر دل سے معاف کر کے ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے۔ اور گاﺅں میں سینکڑوں دیے جل رہے تھے۔

یہ بھی چیک کریں

افسانہ: اپنی ہی کہانی…… طارق بلوچ صحرائی

رحمت اللہ بلوچ جب اپنے دوست غلام محمد خان کو دفنانے کے بعد گھر پہنچا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *