ہوم / تازہ ترین / مہاجر اپنا قبلہ درست کریں

مہاجر اپنا قبلہ درست کریں

قسط نمبر 4

تحریر: آفاق فاروقی

ایم کیو ایم کے واقفان حال سمجھتے ہیں پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری کو رحمٰن ملک کے ذریعے یہ اندازہ ہوگیا تھا الطاف حسین خود پر اپنا کنٹرول کھو چکے ہیں۔ رحمن ملک متعدد مواقع پر باتوں باتوں میں اس امر کا اظہار کیا کرتے تھے۔ قائد  اہم مواقع پر بالکل اچانک بے معنی گفتگو شروع کردیتے اور بولتے ہی رہتے۔ پھر کسی کی سنتے ہی نہیں اور اس گفتگو میں اپنے مستقبل کے ارادے بھی بیان کرنے لگتے ہیں جو اس کے سوا کبھی اور کچھ سامنے نہیں آئے کہ پاکستان جب ٹوٹے گا تو وہ اپنا ملک کیسے اور کسطرح چلائیں گے؟ بادشاہت کی طرز پر سیاست کرنے والے الطاف حسین کی نفسیات نے پیپلز پارٹی کو تو جیسے انہیں گود کھلانے کا نسخہ ہاتھ میں دیدیا تھا۔ رحمٰن ملک جنہیں ایک بار ملاقات کا وقت دیکر الطاف حسین  دو دن ملے ہی نہیں اور جب ملے تو رحمٰن ملک انکے سامنے ملا دو پیازہ بن گئے۔ جب جب رحمٰن ملک ملتے وہ قائد پر ثابت کردیتے تھے آپ دنیا پر راج کے لیے پیدا ہوئے تھے مگر غلط جگہ پیدا ہوگئے۔ پھر پیپلز پارٹی نے الطاف حسین سے ہر وہ بات منوانی شروع کردی جس کی مخالفت کراچی میں بیٹھی ایم کیو ایم کی قیادت کرتی تھی۔ یہ واقف کہتے ہیں قائد کے اس رویئے کے باعث کراچی سے ایم کیو ایم کا انتظامی اثر ختم ہونا شروع ہوگیا۔ پیپلز پارٹی نے تیزی سے وہ انتظامی تبدیلیاں شروع کردیں جو ایم کیو ایم کے اثر کو ختم کرنے میں سندھ حکومت کی مدد گار تھیں۔ الطاف حسین جو اپنے ملاقاتیوں کے اثر و رسوخ اور انکی  بڑی حیثیت دیکھ کر بچہ بن جایا کرتے تھے اور کسی مسخرے کی طرح  لطیفے  سناتے ہوئے اپنی فرمائشیں بھی شروع کردیتے وہ سمجھے تھے انکے اس مسخرہ پن سے سامنے والا بہت خوش ہوچکا ہے اور اب جو وہ کہیں گے مان لیا جائے گا۔ ایسا ہی انہوں نے امریکی سفیر سے ملاقات کے دوران کیا۔ جب وہ امریکی سفیر کو اپنی جانب سے خوش کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اچانک فرمائش کردی امریکہ ہمیں کراچی اور حیدر آباد میں مسلح کرنے میں مدد کرے تاکہ ہم آزادی کی جنگ لڑ سکیں۔ بتانے والے بتاتے ہیں امریکی سفیر یہ سن کر بھونچکاں رہ گئیں تھیں۔ کیو ایم کے ایک اور انتہائی ذمہ دار رہنما کا دعویٰ ہے ایک طرف تو پیپلز پارٹی سے رابطہ کمیٹی کی شدید مخالفت کے باوجود ہر معاملے پر ہاں کردیتے تھے تو جب اس ہاں کے منفی نتائج سامنے آتے تو دباؤ ڈالا جاتا شہر بند کردو ، جلوس نکالو اور پورے شہر کو اس جلوس میں شرکت پر مجبور کرو۔ کراچی کے لوگ جو روز کی ہڑتالوں سے تنگ آنے لگے تھے جب  انہوں نے ہماری اپیلوں پر کان دھرنے  چھوڑ دئیے تو قائد کہتے زبردستی لوگوں کو مجبور کیا جائے جب جواباً ہماری طرف سے مزاحمت کی جاتی تو مغلظات پر اتر آتے دھمیاں دینے لگتے۔ یہی وجہ ہے ایم کیو ایم پاکستان بننے کے بعد ایک طرف نہ صرف کراچی میں بیٹھی قیادت ساتھ چھوڑ گئی بلکہ لندن میں ہر وقت ساتھ رہنے والے ندیم نصرت اور واسع جلیل بھی ساتھ نہ رہے کہ رات دن کس کی ہمت ہے کہ گالیاں دھمکیاں سنے۔ قائد کو بالکل اچانک جوئے کی لت بھی پڑ گئی تھی اور انہوں نے کسینو جانا شروع کردیا تھا۔

جب رابطہ کمیٹی کو پتہ چلا اور قائد کو سمجھانے کی کوشش کی گئی تو جواب ملا “ تم لوگوں کو کیا پتہ میں کتنا بڑا کام کررہا ہوں جس دن بھی میں جوا جیت گیا ایم کیو ایم کی تقدیر بدل جائے گی ہمارے سارے مسئلے حل ہوجائیں گے‘‘۔ اس ذمہ دار رہنما کا کہنا ہے جس دن قائد نے پاکستان کے خلاف تقریر کی اور ریاست نے ایم کیو ایم کو کچلنے کا فیصلہ کیا اس سے بہت پہلے کراچی میں بیٹھی قیادت قائد کے رویے سے مکمل تنگ ہی نہیں مایوس بھی ہوچکی تھی۔ اسی لیے کسی نے بھی ریاست کے اقدامات کے خلاف مزاحمت نہیں کی۔ حالانکہ قائد نے جو کہا تھا اس کا ایک مثبت پہلو بھی تھا کہ لوٹ مار، بد عنوانی، ناانصافی، عدم مساوات پر مشتمل پاکستان کا نہ کسی نے خواب دیکھا تھا نہ کسی نے ایسے پاکستان کے قیام کی جدوجہد کی تھی۔ مگر قائد اس تقریر سے بہت پہلے سے کراچی کی قیادت کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسا ہی نہیں رہے تھے بلکہ عمل نہ کرنے کی صورت میں دھمکیاں دینے پر اتر آئے تھے۔ ایم این اے رشید گوڈیل جو ایک واقع میں  گولی لگنے کے باعث شدید زخمی ہوگئے تھے ان سے ناراضگی ہی یہ تھی کہ ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا میڈیا پر بیٹھ کر ریاست کے خلاف بیانات دئیے جائیں جس پر رشید گوڈیل نے خاموشی اختیار کرکے خود کو پارٹی معاملات سے الگ کرلیا تھا۔ ایم کیو ایم کے بہت سے رہنما اب یہ تسلیم کرتے ہیں قائد ایک متشدد ذہن کے مالک سیاست دان ہیں اور ہر مسئلے کا حل طاقت کے ذریعے ڈھونے پر یقین رکھتے ہیں۔

 پارٹی نے تقریباً پندرہ سال انکی اس فطرت تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ انکے مشورے اور فیصلوں کو کبھی حکمت عملی سے تو کبھی مشترکہ ناراضگی سے نظر انداز کیا جس کا نتیجہ قائد کے تقریباً پاگل پن کی شکل میں برآمد ہوا۔ قائد جس طرح اپنی تقریروں میں زنانہ حرکتوں کے ساتھ رونا دھونا ڈالتے اور عام کارکنوں کو تشدد پر اکساتے تھے یہ اسی حکمت عملی کا حصہ تھا کہ نائن زیرو پر ایک ایسی ہی تقریر کے ذریعے کراچی کی قیادت کو عام کارکنوں کے ہجوم سے پٹوایا گیا اور جس کے نتیجے میں مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی مار کھا کر گئے تو پھر باغیوں کی شکل میں کراچی کے منظر پر ابھرے کہ ریاست نے انہیں فوراً اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا ۔۔

 جاری ہے

یہ بھی چیک کریں

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل:نواز شریف کی سزا کے خلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

نیب کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد نواز شریف نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے