ہوم / تازہ ترین / مہاجر اپنا قبلہ درست کریں

مہاجر اپنا قبلہ درست کریں

قسط نمبر: 2

تحریر: آفاق فاروقی

الطاف حسین کی متشدد فطرت اور تربیت کو ریاست نے اپنی متعصبانہ پالیسوں سے جو جلا بخشی اس کی تازہ مثال ابھی وہ گرفتار ہونے والا 96 افراد کا قاتل ٹھیلے والا ہے جو دو سال پہلے سے ہی رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہے۔ جس زمانے میں رپورٹنگ کیا کرتا تھا گرفتاری کے ایسے درجن بھر ڈراموں کا خود  گواہ ہوں۔ ملزم پہلے سے کسی الزام میں گرفتار ہے مگر کراچی پولیس سال دو سال بعد پھر کسی الزام میں گرفتار کرکے نمبر بناتی دیکھی گئی۔ کراچی ملک کا واحد شہر ہے جہاں گزشتہ چالیس پچاس سال سے پولیس ریاستی دھشت گردی میں ملوث ہے۔ اب تیس سال ہوچلے اس دہشت گردی میں رینجرز کے ذریعے فوج بھی براہ راست ملوث نظر آتی ہے۔ میں نے تو یہ بھی دیکھا ہے فیڈرل بی ایریا دستگیر کالونی میں ایک بہن اپنے دو سگے بھائیوں کے ساتھ رہتی تھی۔ گھر میں چور گھس آیا۔ دونوں بھائیوں نے بھاگتے چور کو محلے والوں کی مدد سے پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔ تین بعد پولیس نے دونوں بھائیوں کو تھانے بلا کر کہا “ آپ اپنا مقدمہ واپس لیں ہم پر اوپر سے دباؤ ہے۔ جب بھائیوں نے مقدمہ واپس لینے سے انکار کیا تو جواب دیا گیا ، “ اوکے پھر ٹھیک ہے ملزم کی طرف سے بھی ایک مقدمہ درج ہوگا کہ وہ آپ کی بہن کے کہنے پر اس سے ملنے آیا تھا۔ میں یہاں ایسے درجنوں مقدمات اور کیسوں کا حوالہ دے سکتا ہوں۔ ایم کیو ایم کو ریاستی زیادتیوں نے قدم قدم پر مضبوط کیا۔ مرحوم نصیر اللہ بابر نے یہیں نیویارک لانگ آئی لینڈ میں میرے گھر کے نزدیک رہنے والے اپنے صاحبزادے کے گھر ایک ملاقات میں خود اقرار کیا کہ بینظیر بھٹو کے دور میں ایم کیو ایم کے خلاف ہونے والے آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے کارکنوں کو گرفتار کرکے قتل کرنا ریاستی پالیسی تھی۔ عدالتوں میں جانے کے لئیے ثبوت چاہئیے ہوتے ہیں اور ہمارے پاس نہ ثبوت تھے اور نہ ہی اتنا وقت کہ ثبوت تلاش کرتے۔

ابھی جب نواز شریف کے دور میں ایک بار پھر ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تو حامد میر نے اپنے پروگرام میں بتایا کراچی کے لڑکوں کو گرفتار کرنے کے بعد رینجرز والے دوران تفتیش پوچھتے ہیں تیری ماں ہندوستان گئی تھی یا کوئی ہندو تیرے گھر آیا تھا۔ تم لوگ پاکستان سے بھارت واپس کیوں نہیں چلے جاتے۔ ایسے کئی مواقع آئے جب کراچی کے عوام میں ایم کیو ایم اپنی اہمیت کھونے لگی تھی مگر عین ایسے مواقع پر ریاستی تشدد کے ذریعے ایم کیو ایم میں نئی روح پھونکی گئی۔ آفاق احمد اور عامر خان 90 کی دہائی کے ابتدائی دنوں میں پورے کراچی میں اپنے ہی لوگوں میں دہشت کی علامت بن چکے تھے۔ ایم کیو ایم انکی اس دہشت گردی کے باعث رسوا ہونا شروع ہوچکی تھی۔ ریاست نے انہی کے ساتھ ملکر ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع کیا اور وہ کون ہے جو نہیں جانتا فوجی آفاق اور عامر کو اپنے ٹرکوں پر بٹھا کر ایم کیو ایم کے مراکز پر چھاپے مارنے جایا کرتے تھے اور یہ دونوں فوج کے پاس ملیر چھاؤنی میں ہی رہا کرتے تھے۔

یہ درست ہے فوج نے حالیہ سالوں میں ایم کیو ایم اور کراچی کے دیگر جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف آپریشن کرکے امن قائم کردیا۔ مگر کوئی ریاست سے یہ بھی تو پوچھے یا ریاست خود ہی بتائے  حالیہ امن کے قیام سے یہ ثابت ہوتا ہے ریاست میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ جب اور جہاں چاہے امن قائم کرسکتی ہے۔  جب اس میں یہ صلاحیت موجود تھی اور ہے تو پھر مشرف کے پورے آٹھ سالہ دور میں کراچی میں ہزاروں افراد کے قتل کا ذمہ دار کون ہے ؟اور صرف دو سو سے زائد پولیس اہلکاروں کے قتل کا الزام کس کے سر رکھا جائے ؟ بالکل اسی طرح سوات میں بھی ہوا۔ جہاں دہشت گرد کئی سال تک دندناتے پھرتے رہے اور شہر میں موجود فوج خاموش تماشائی بنی رہی۔ سوات سے تعلق رکھنے والے متعدد امریکن پاکستانیوں نے مجھے خود بتایا تھا  ہمارے خاندان کے بہت سے لوگ دہشت گردوں کے ہاتھوں صرف اس لیے مارے گئے کہ انہوں نے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع فوج کو دی تھی اور یہ اطلاع دینے والوں کے گھر دہشت گرد اسی رات پہنچ کر انھیں مار ڈالتے تھے کہ تم نے فوج کو ہماری موجودگی کی اطلاع دی ہے۔

وہ پیپلز پارٹی جو بظاہر فوج کی نظریاتی مخالف ہے مگر  کراچی کے معاملے میں پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن سے کہیں بڑھکر فوج کا ساتھ دیا ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف ہر آپریشن میں پیپلز پارٹی نے شاہ سے بڑھکر شاہ کا کردار ادا کیا۔ ایک طرف پیپلز پارٹی الطاف حسین کو ساتھ ملا کر حکومت بھی کرتی رہی ہے تو دوسری طرف فوج کے ساتھ ملکر ایم کیو ایم کے کارکنوں پر ہی نہیں عام اردو بولنے والوں کے خلاف تشدد میں ملوث رہی ہے۔ یہی وہ اہم وجہ ہے کراچی میں الطاف حسین تحفظ کی علامت بنے رہے۔ یہاں دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ کراچی کے اکثر لوگ اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ الطاف حسین نے ریاست کے مقابلے میں کم ظلم و تشدد نہیں کیا مگر اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں پیلز پارٹی اور ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے مظالم کا مقابلہ کرنے کے لیے ایم کیو ایم کا موجود رہنا غنیمت ہے۔

ایم کیو ایم کے سینئر ذرائع کہتے ہیں قائد کی بڑھتے مظالم کی خو نے ان کی تنہائی اور عدم تحفظ کے ساتھ پارٹی پر انکی گرفت  ایک مسئلہ رہا ہے۔  عالم وحشت میں جہاں بے تحاشا غصے میں آکر مخالفین کے وجود کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے  وہیں انکا لہجہ، انداز گفتگو بھی انکا فطری ساتھ چھوڑ گیا۔ وہ برسوں سے فوری طبی امداد کے مستحق ہیں۔ انکی تقاریر میں انکا انداز  تخاطب پہلے مذاحیہ تھا تو اب قابل رحم ہوچکا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کی موجود لیڈر شپ برسوں سے اپنے قائد کی اس بیماری کو نفسیاتی سمجھتی ہے۔ بتانے والے بتاتے ہیں دو ہزار سترہ سے پہلے پانچ بار کراچی کی پوری قیادت لندن گئی اور دھمکی دی اگر قائد نے اپنا علاج نہ کرایا تو وہ سب کے سب ایک ساتھ تنظیم سے مستعفی ہوجائیں گے۔ اور اسطرح تین بار قائد کو ری ہیبی ریلٹیشن سینٹر لے جاکر چھوڑا  گیا مگر قائد تینوں بار چند دنوں میں ہی  وہاں سے بھاگ آئے ۔۔۔
 جاری ہے

یہ بھی چیک کریں

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل:نواز شریف کی سزا کے خلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

نیب کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد نواز شریف نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے