ہوم / بین الاقوامی / گجرات کے مسلم فسادات کا ماسٹر مائنڈ مودی آج بھارت کا وزیراعظم ہے

گجرات کے مسلم فسادات کا ماسٹر مائنڈ مودی آج بھارت کا وزیراعظم ہے

قسط نمبر: 1

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 5 اگست کے فیصلے کے بعد نریندی مودی نے سپاہیوں کا ایک تازہ دم دستہ کشمیر بھیجا۔ 11 اگست کو ایک سرکری ٹی وی کی خاتون رپورٹر کو ایک موٹر بائیک پر پھرتے دکھایا گیا۔ خاتون رپورٹر سری نگر کی مختلف سڑکوں پر گھومتی ہوئی کہہ رہی تھیں کہ کشمیر میں ہر جگہ سکون ہے۔ بینک کھلے ہوئے ہیں۔ بازاروں میں کام ہو رہا ہے۔ خاتون رپورٹر سویتا سری واستوا نے پوری رپورٹ میں کہیں کسی سے بھی بات نہیں کی کیونکہ گلیاں اور سڑکیں سنسان تھیں وہاں نہ بندہ تھا نہ بندے کی ذات لیکن خاتون رپورٹر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی تھیں کہ جیسے کشمیر میں 5 اگست کے فیصلے پر کوئی ردعمل نہیں ہیں اور زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔  نیویارک نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں لکھا کہ ایک اور سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں دکھایا گیا کہ لوگ کشمیر کی سڑکوں پر رقص کر رہے ہیں اور مودی کے 5 اگست کے فیصلے پر خوشیاں منا رہے ہیں۔ ٹی وی رپورٹس میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ ہندوستان کی واحد مسلم ریاست کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور لوگ اس فیصلے پر خوش ہیں۔ مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے جو کشمیر کو خصوصی دیتا تھا اب یہاں گوریلا وار ختم ہو گی اور کشمیر میں ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔ کشمیر میں تازہ دم دستے بھیجنے کے بعد سرکاری ٹی وی یہ خبریں نشر کر رہے تھے کہ جو لوگ اس فیصلے  کے خلاف مزاحمت کریں گے انہیں سرکاری گیسٹ ہاوٗسز میں نظر بند رکھا جائے گا۔ 2014 میں برسر اقتدار آنے کے بعد مودی نے بھارت کی ایک نئی تاریخ لکھنے کا عزم کیا۔ انتہاپسند ہندو تنظیم بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے خلاف ظلم و تشدد کی نئی داستانیں رقم کرتے ہوئے مودی نے ’’نیو انڈیا‘‘ کا نعرہ لگایا۔

کشمیریوں نے احتجاج اور مزاحمت کے ذریعے بھارتی وزیراعظم اور انتہاپسند ہندو رہنما نریندری مودی کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔انتہاپسند ہندو میڈیا جس میں ٹائمز آف انڈیا اور دیگر اخبارات شامل ہیں نے اپنے مضامین اور خبروں میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ کشمیریوں کی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ مودی کے فیصلوں سے خوش ہیں لیکن کشمیر کے مسلمان دہشت گردوں کے خوف سے یہ بات سرعام کہنے سے ڈر رہے ہیں۔ نئی دہلی سے آنے والے صحافیوں نے اپن کمیرے ڈال لیک پر لگائے اور دنیا کو یہ بآور کرانے کی کوشش کی کہ کشمیر میں سب اچھا ہے اور حکومتی موقف کو اپنی خبروں کا موضوع بنایا۔ ابھی یہ خبریں آ ہی رہیں تھیں کہ ممبئی میں رہائش پذیر ایک مسلم رپورٹر رعنا ایوب کا مجھے فون آیا اور کہا کہ وہ کشمیر جا رہی ہیں تاکہ وہاں کی اصل صورتحال سے دنیا کو باخبر کر سکیں۔ رعنا ایوب ایک دلیر صحافی ہیں اور وہ مودی اور ان کے انتہاپسند نظریات کو کئی بار بے نقاب کر چکی ہیں۔ رعنا ایوب نے بتایا کہ صورتحال ماضی کے مقابلے میں انتہائی خراب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دنیا کو وہ خبریں دیں گی جو مودی حکومت اپنے ظلم و تشدد سے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ رعنا ایوب نے مجھے ممبئی آنے کی دعوت دی۔ میرے لئے ایک کُرتا خریدا اور مجھ سے کمشیر ساتھ چلنے کو کہا۔ راستے میں رعنا ایوب نے کہا کہ دیکھو تم بس بولنا نہیں ورنہ پکڑے جاوٗ گے کیونکہ کشمیر میں کسی غیر ملکی صحافی کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ 5 اگست کے نریندر مودی کے فیصلے کے بعد میں اور رعنا ایوب ایک پرواز کے ذریعے سری نگر ایئرپورٹ پہنچے۔ وہاں غیر ملکیوں کی رجسٹریشن کیلئے ایک ڈیسک بنا ہوا تھا۔ وہ مجھے وہاں سے نکال کر باہر لائی۔ لاوٗنج میں سوائے پولیس اور فوجی اہلکاروں کے اور کوئی بھی نہیں تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ اپنا سر نیچے رکھنا اور ہم ایئر پورٹ سے باہر ٹیکسی کے بیٹھ کر سری نگر شہر کی طرف چل دیئے۔ کار میں جاتے ہوئے میں نے دیکھا کہ جو کچھ بھارت کے سرکاری اخبارات اور ٹی وی خبریں نشر کر رہے تھے صورتحال اس سے یکسر مختلف تھی۔ہر گلی کے نکڑ پر فوجی اہلکار مشین گنیں تانے کھڑے تھے۔ ہر سڑک اور گلی کی تمام دکانوں کے شٹر بند تھے۔ فوجی اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود گلیوں، بازاروں اور سڑکوں پر زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔شہر کی اٹھارویں صدی کی سب سے بڑی جامع مجسد خانقاہِ مولیٰ بند پڑی تھی کیونکہ یہاں جمعہ کی نماز پر پابندی تھی۔اسکول، بازار، تعلیمی ادارے سب بند تھے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس منقطع تھی۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی کے اہلکار ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوٗسز کی باقاعدہ نگرانی کر رہے تھے کہ کہیں کوئی غیر ملکی تو نہیں آیا۔ ان حالات میں رعنا ایوب مجھے اپنے ایک کیمرہ مین اوانی رائے کے ساتھ اپنے ایک دوست کے گھر لے گئیں۔ وہ ایک ڈاکٹر کا گھر تھا۔ انہوں نے ہمیں کہا کہ سب سے پہلے اسپتال کا دورہ کریں جہاں تشدد کے شکار کشمیری نوجوانوں کا علاج ہو رہا ہے۔ کشمیری پولیس اور فوجی اہلکار پیلیٹ گن استعمال کر رہے تھے جس کی وجہ سے بہت سے کشمیری نوجوان بینائی سے محروم ہو چکے تھے۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ اسپتال کے آنکھوں کے وارڈ کا ضرور دورہ کریں۔ اسپتالوں میں ہم نے انتہائی عجیب و غریب اور ریاستی تشدد کے شکار نوجوانوں اور ان کی فیملیز کو دیکھا۔ ظلم کی ان داستانوں کو دیکھ کر میں ابھی اپنے حواس پر قابو پا رہی تھی کہ رعنا ایوب نے مجھے آ کر جھنجھوڑا اور کہا کہ آئی وارڈ کے کمرہ نمر 8 میں جاوٗ وہاں پیلیٹ گنز کے شکار 33 مریض زیر علاج ہیں۔ ابھی ہم تینوں وارڈ کی طرف جا ہی رہے تھے کہ ایک داڑھی والے شخص نے رعنا ایوب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ اس نے مجھے اور کیمرہ مین سے کہا کہ تم یہاں سے بھاگ جاوٗ۔ داڑھی والا شخص رعنا ایوب کو سیکیورٹی گارڈز کے پاس گھسیٹتا ہوا لے گیا۔ رعنا ایوب ممبئ میں ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کے والد بائیں بازو کے ایک اخبار

Blitz

میں کالم لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اردو کے ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔ جس محلے میں رعنا ایوب کی فیملی رہتی ہے وہ پورے علاقے میں صرف ایک مسلم گھرانہ ہے لیکن وہ وہاں تنہائی کا شکار نہیں ہیں۔ رعنا ایوب اپنے ہندو دوستوں کے ساتھ ہندووٗں کے تہوار دیوالی اور ہولی بھی مناتی ہے۔

ہندو اور مسلمان بھارت کی سیکولر ریاست کے دو اہم ستون تھے جس کی بنیاد موہن داس مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو نے رکھی تھی۔ بھارت میں دنیا کے تقریباً تمام مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں مسلمان آبادی چودہ فیصد ہے۔ برطانوی راج کے خاتمے پر بھارت کے مسلمان اکثریتی ہندووٗں سے خوفزدہ تھے جس کی وجہ سے 1947 میں ایک علحیدہ ریاست پاکستان وجود میں آئی۔ تاریخ کی یہ سب سے بڑی ہجرت تھی جب ہندوستان کے مسلمانوں کی اکثریت یہاں سے ہجرت کر کے پاکستان چلی گئی تھی۔ ہجرت کے دوران دنگے فساد کے باعث قریباً 20 لاکھ قتل کر دیئے گئے۔ اس کے بعد کشمیر میں ایک طویل پراکسی وار لڑی گئی۔ بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں نے کانگریس پارٹی کے ساتھ الحاق کیا جس کی سیاست نصف صدی تک رہی۔ 1925 میں ایک فزیشن ڈاکٹر کے بی ہیج وار نے راشٹریہ سیام سیوک سنگھ کے نام سے ایک انتہاپسند جماعت بنائی جس کا نعرہ تھا کہ ہندوستان صرف اور صرف ہندووٗں کا ہے اور یہاں صرف ہندووٗں کو رہنے کی اجازت ہے۔ اس جماعت کا دعویٰ تھا کہ آج جو مسلمان ہیں وہ کبھی ہندو ہوا کرتے تھے اور طاقت کے ذریعے ان کا مذہب تبدیل کیا گیا۔ یہی نظریہ ان کا بھارت میں آباد عیسائیوں، بدھ ازم اور سکھوں سے متعلق تھا لیکن اس پر وہ کوئی تاریخی ثبوت نہیں دے پائے۔ انہوں نے ہندووٗں کو یہاں پیرا ملٹری ٹریننگ دینی شروع کی۔ آر ایس ایس نے مہاتما گاندھی اور نہرو کو مسلم اقلیت کو تحفظ دینے کی پالیسی کی سخت مذمت اور مزاحمت کی اور کہا کہ آزادی کی اصل جنگ آر ایس ایس نے لڑی تھی۔ آزادی کے فوری بعد 1948 میں آر ایس ایس کے ایک رکن نتھو رام گوڈسے نے مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد آر ایس ایس پر پابندی لگا دی گئی لیکن آہستہ آہستہ وہ دوبارہ منظم ہونا شروع ہوئی۔ 1975 میں فسادات اور بلووٗں کے باعث اندرا گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔ آر ایس ایس نے کانگریس کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر اس اقدام کے خلاف مزاحمت کی۔ آر ایس ایس کے کئی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد آر ایس ایس دوبارہ سیاست میں زندہ ہو گئی۔ آر ایس ایس پر اعلیٰ ذات کے ہندووٗں کا کنٹرل تھا لیکن بعد میں اس کی ممبر شپ نچھلی ذات کے ہندووٗں کے لئے کھول دی گئی۔ انہیں میں ایک نچلی ذات سے تعلق رکھنے والا 8 سال کا بچہ نریندر مودی بھی تھا جس کا تعلق گجرات کے ایک گاوٗں ودناگر سے تھا۔ نریندی مودی نچلی ذات کا ہندو تھا جس کی زیادہ تر کمیونٹی سبزیاں اور تیل بیچا کرتے تھے۔ مودی کا باپ ریلوے اسٹیشن پر چائے کا ایک کھوکھا چلاتا تھا جہاں مودی اپنے باپ کی مدد کیا کرتا تھا۔ 13 سال کی عمر میں اس کی شادی کر دی گئی لیکن جلد ہی مودی نے شادی توڑ کر اپنے آپ کو آر ایس ایس کیلئے وقف کر دیا۔ ابتدا میں مودی آر ایس ایس کے بڑے رہنماوٗں کے گھروں میں صفائی کیا کرتا تھا لیکن 1987 میں وہ آر ایس ایس کے سیاسی ونگ بھارتیہ جنتا پارٹی بی جے پی کا رکن بن گیا۔ جب مودی نے بی جے پی جوائن کی تو پارلیمنٹ میں اس پارٹی کی صرف دو نشستیں تھیں۔ آہستہ آہستہ مودی نے یہاں مذہبی تنازعات کو ہوا دی اور جلد ہی وہ ایودھیا کی اس تاریخی بابری مسجد کو نشانہ بنانے لگا جو 1528 میں اس وقت کے مسلم بادشاہ بابر نے تعمیر کی تھی۔ انتہاپسند ہندووٗں نے یہاں مورتیاں رکھ کر مہم چلانی شروع کی کہ یہ جگہ ہندووٗں کے دیوتا رام کی جائے پیدائش ہے۔ 1990 میں ایک انتہاپسند ہندو رہنما ایل کے ایڈوانی نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی مہم شروعی کی۔ اس کے بعد ملک بھر میں مظاہرے کئے گئے اور بلآخر 6 دسمبر 1992 کو ایل کے ایڈوانی اور نریندری مودی نے اس ہجوم کی قیادت کی جس نے بابری مسجد کو شہید کر دیا۔ مسجد کی شہادت کے بعد بھارت میں  ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ انہیں فسادات کے دوران رعنا ایوب کی فیملی سمجھتی تھی کہ وہ ہندووٗں کی آبادی میں محفوظ ہیں لیکن ایک رات ان کے سکھ پڑوسی بگا نے آ کر اطلاع دی کہ ایک ہجوم ان کے گھر کی طرف آ رہا ہے۔ رعنا ایوب جو اس وقت صرف 9 سال کی تھی وہ اپنی بڑی بہن کے ساتھ بگا کے ساتھ چلی گئیں جہاں وہ ایک سکھ کمیونٹی کے ساتھ تین مہینے رہیں۔ تین ماہ بعد جب حالات معمول پر آئے تو وہ اپنے والدی کے پاس واپس آئیں لیکن اب وہ گھر اور وہ محلہ ان کا نہیں تھا کیونکہ یہاں خوف نے انہیں اپنا آبائی گھر اور اسکول چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد آر ایس ایس اور بی جے پی کی ممبرشپ میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور 1996 میں بی جے پی پارلیمنٹ کی ایک اکثریتی جماعت بن گئی۔ پارٹی کے ایک بڑے دانشور اشیس ننڈے نے ایک سائیکالوجسٹ کے ساتھ مل کر بہت سے رہنماوٗں کے انٹرویو کئے جس میں نریندر مودی بھی شامل تھا۔ ننڈے نے نریندری مودی کے ساتھ کئی گھنٹے طویل انٹرویو کئے جس میں اس نے مودی کو ایک انتہائی سفاک اور انتہاپسند ہندو پایا۔ مودی نے بھات میں بسنے والے ہر مسلمان کو ایک ناسور قرار دیا اور پھر مودی کو پارٹی کی گجرات کیلئے انتہائی اہم عہدہ دینے کا فیصلہ ہوا۔ 27 فروری 2002 میں دہلی سے ایک ٹرین گجرات کے گودہرا اسٹیشن پر پہنچی جس میں آر ایس ایس کے کارکنوں کی بڑی تعداد سوار تھی۔ وہ ایودھیا سے آ رہے تھے جہاں دس سال پہلے بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا۔ اسٹیشن پر ہندووٗں اور مسلمانوں کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ کسی مسلمان نے چلتی ٹرین میں مٹی کے تیل کا ایک جلتا ہوا چولہا ٹرین کے اندر پھینک دیا۔ جیسے ہی دروازے کھولے باہر کی تیز ہوا نے ٹرین کے ڈبے کو اپنی آگ کی لپیٹ میں لے لیا۔ 58 لوگ جن میں زیادہ تر آر ایس ایس کے کارکن تھے زندہ جل کر مر گئے۔ یہی وہ وقت تھا جب گجرات میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے جس کے نتیجے میں گجرات کے کئی شہروں اور قصبوں میں مسلم خواتین کو نہ صرف ہندو بلوائیوں نے جنسی طور پر تشدد کیا بلکہ ہزاروں خواتین کو گینگ ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا اور انہیں زندہ جلایا گیا۔ ریاستی حکومت اس پر مکمل خاموش رہی اور پولیس کو کوئی کارروائی کرنے سے روک دیا گیا۔ پوری گجرات ریاست میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ ان کے گھروں کو آگ لگائی گئی اور خواتین اور لڑکیوں کو گینگ ریپ کے قتل زندہ جلا دیا گیا۔ اس وقت مودی کو گجرات کا وزیراعلیٰ بنے صرف پانچ ماہ ہی ہوئے تھے۔ ان فسادات کے نتیجے میں فوج کو طلب کیا گیا لیکن انہیں بیرکوں تک محدود رہنے کا حکم تھا۔ پولیس کے جوان بھی ہندو بلوائیوں کے ساتھ مل کر مسلم خواتین کی عزتیں لوٹتے اور انہیں زندہ جلاتے رہے۔ گجرات کے ضلع بھاو ناگر کے پولیس آفیسر راہول شرما نے ان فسادات کی انکوائری کرنے والے ٹربیونل کو بتایا کہ ان کے سینئرز کی طرف سے فسادات کو روکنے کیلئے کوئی احکامات نہیں دیئے گئے تھے۔ فسادات کے چوتھے روز ہندو انتہاپسندوں نے ایک مدرسے پر حملہ کیا وہ تلواروں اور تیز دھار آلوں اور چاقووٗں سے لیس تھے۔ انہوں نے مدرسے کے 400 بچوں کو قتل کرنے کیلئے عمارت کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ راہول شرما نے پولیس کو ہوائی فائرنگ کرنے اور ہجوم کو منتشر کرنے کے آرڈر دیئے جس کی وجہ سے ان 400 معصوم مسلمان بچوں کی جان بچ گئی۔ بعد میں راہول شرما نے پولیس کی مدد سے ان بچوں کو ان کے گھروں میں پہنچایا۔ فسادات کے بعد راہول شرما کا گجرات سے باہر تبادلہ کر دیا گیا۔ بعد میں جب ایل کے ایڈوانی وزیر داخلہ بنا تو اس نے راہول شرما کو یہ کہہ کر نوکری سے فارغ کر دیا کہ ان کی وجہ سے کئی ہندو مارے گئے۔ تین ماہ سے جاری ان فسادات میں 2000 سے زائد مسلمان قتل ہوئے۔ ڈیڑھ لاکھ لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے۔ مسلمانوں کو ایک کھلی جگہ پر جھونپڑیوں میں بسایا گیا جہاں بدبو کی وجہ سے رہنا ممکن نہیں تھا۔2002 میں جب رعنا ایوب 19 سال کی تھی وہ اپنے گھر یہ بتا کر کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہمالیہ جا رہی ہیں وہ مسلمانوں کی مدد کیلئے گجرات کے شہر وڈوڈہ پہنچ گئیں۔ رعنا ایوب نے اپنے ماتھے پر ہندو  کی طرح بِندی لگائی تاکہ کوئی اسے مسلمان سمجھ کر قتل نہ کر دے۔ وہ تین ماہ تک ریلیف کیمپ میں رہ کر خواتین کو اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف رپورٹ کرنے کیلئے راضی کرتی رہیں۔ ایک موقع پر 60 ہندو بلوائیوں نے ریلیف کیمپ پر حملہ کیا۔ رعنا ایوب نے ایک جھونپڑی میں پناہ لی۔ ان کا کہنا تھا کہ 1992 کے فسادات میں ممبئی میں اتنا ظلم نہیں ہوا جتنا 2002 میں گجرات کے مسلمان مارے گئے اور ان کی خواتین کو گینگ ریپ کے بعد زندہ جلا دیا گیا۔ فسادات کے بعد مودی نے مسلمانوں کی حفاظت اور ان کی گھروں میں واپسی کیلئے کوئی کام نہیں کیا۔ تمام کام رضاکارانہ طور پر مختلف مسلم تنظیموں نے کئے۔ دنیا کو دکھانے کیلئے آر ایس ایس کے کچھ کارکنوں پر مقدمات چلائے گئے اور ایک وزیر مایابین کوڈنانی کو قتل، اقدام قتل اور سازش پھیلانے کے جرم میں معمولی سزا دی گئی۔ جب بی جے پی کی مرکز میں حکومت قائم ہوئی تو اس وزیر کو بھی تمام سزاوٗں سے معافی مل گئی۔ گجرات میں ہونے والے فسادات کی جب انکوائری کمیٹی بنائی گئی تو پتہ چلا کہ اس پورے فساد میں گجرات حکومت براہ راست ملوث تھی۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ہاتھ بندھے تھے۔ انہیں ان فسادات کو روکنے کیلئے احکامات نہیں دیئے گئے اور ہندو بلوائیوں کو مسلمانوں کو قتل کرنے اور ان کی خواتین کو گینگ ریپ کے بعد زندہ جلانے کے سرکاری احکامات دیئے گئے۔ انکورائری کمیشن کے رکن سرکاری افسر ہرش میندر نے جب گجرات کا دورہ کیا اور وہاں لوگوں سے ملے تو انہیں پتہ چلا کہ کئی سرکاری اہلکار بھی ان فسادات میں ملوث تھے۔ اپنی رپورٹ میں انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کے خلاف یہ ظلم و تشدد سرکاری احکامات کے تحت کیا گیا اور مودی حکومت اس میں براہ راست ملوث تھی۔ بعد میں ہرش میندر نے استعفیٰ دے کر گجرات کے مسلمانوں کے ریلیف کام میں حصہ لیا۔ کئی سرکاری حکام نے حلف دیتے ہوئے بتایا کہ مودی نے ان فسادات کی براہ رات خود نگرانی کی اور ہندو بلوائیوں کو آزاد چھوڑا تاکہ وہ مسلمانوں کو قتل کریں اور ان کی خواتین کی عزتیں لوٹیں۔ مودی کے  کیبنٹ منسٹر ہیرن پانڈیا نے حلف دیتے ہوئے کہا کہ گجرات میں جو کچھ ہوا وہ سب مودی کے حکم پر کیا گیا۔ پانڈیا کے مطابق فسادات کے روز وہ مودی کے بنگلے میں ایک اجلاس کیلئے گئے تھے جب مودی نے سینئر پولیس آفیسر کو ان کے سامنے احکامات دیئے کہ ہندووٗں کو اپنا بدلہ لینے سے نہ روکا جائے۔ ایک اور پولیس آفیسر سنجیو بھٹ نے کہا کہ رات گئے ایک اجلاس میں مودی نے کہا کہ اب مسلمانوں کو سبق دے دیا گیا ہے کہ گودہرا جیسا واقعہ دوبارہ نہیں ہو گا۔ انکوائری کمیشن کے سامنے جس جس نے بھی مودی کو ان فسادات کا ذمہ ٹھہرایا اسے بعد میں قتل کر دیا گیا۔ پولیس آفیسر سنجیو بھٹ کو پولیس کسٹڈی میں ایک شخص کی موت کا ذمہ دار قرار دے کر انہیں اس جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا دی گئی۔ 2003 میں مودی کابینہ کے منسٹر ہیرن پانڈیا ایک روز احمد آباد میں اپنی کار میں مردہ پائے گئے۔ ان کی اہلیہ اسے ایک سیاسی قتل قرار دیتی ہیں۔ ان انکوائری رپورٹس کے منظر عام پر آنے کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے مودی کے داخلے پر دس سال کیلئے پابندی عائد کر دی۔ گجرات کے فسادات سے مودی نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔2004 میں مرکز میں بی جے پی کی اٹل بہاری واجپائی کی حکومت توڑ دی گئی۔ اٹل بہاری واجپائی نے اس سازش کا ذمہ دار مودی کو ٹھہرایا۔ مودی نے فسادات کے بعد ریاست گجرات میں کئی جگہوں پر جلسے کئے جس میں مسلمانوں کو گجرات سے پاک کرنے کے بیانات بھی دیئے۔ ایک جلسے میں مودی نے مسلمانوں کو عالیز، مالیز اور جمالیز  کہہ ک رپکارا اور کہا کہ اب یہ مسلمان ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ بی جے پی آہستہ آہستہ اپنی سیاسی حیثیت کھو رہی تھی کہ ایسے میں مودی نے اپنے آپ کو قومی سطح پر تاجر دوست رہنما کے طور پر متعارف کروایا۔ اسی دوران سپریم کورٹ کی تفتیشی ٹیم نے 2002 کے فسادات سے مودی کو بری الذمہ قرار دے دیا اور کہا کہ مودی کے خلاف ٹھوس ثبوت نہیں ملے۔ سپریم کورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس گروپ کی رپورٹس سیاسی قرار دے کر مسترد کر دی گئیں۔ انڈی ٹی وی سی این این آئی بی این پر سینئر صحافی کرن تھاپر نے جب مودی سے انٹرویو کرتے ہوئے کہا کہ گجرات کے فسادات پر انہیں کوئی ملال نہیں ہے۔ مودی نے کہا کہ اگر ایسا کچھ ہوتا تو وہ اسی روز ملال کا اظہار کرتے۔ جب کرن تھاپر نے ان پر زور ڈالا تو مودی نے مزید انٹرویو دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پیاس لگی ہے اور مجھے آرام کرنا ہے اور وہ اپنا مائیک اتار کر انٹرویو چھوڑ کر چلا گیا۔ 2013 میں ایک انٹرویو کے دوران جب مودی سے گجرات کے فسادات پر سوال کیا گیا تو مودی نے جواب دیا کہ اگر ہم ایک کار میں جا رہے ہوں اور پچھلی نشست پر بیٹھے ہوں اور ایک کتے کا بچہ گاڑی کے نیچے آ جائے تو ہم صرف افسوس ہی کر سکتے ہیں۔ مودی کے قومی سیاست میں آنے کے بعد بھارت میں ایک نئی سوچ پیدا ہوئی کہ مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو نے مسلمانوں کو بہت زیادہ تحفظ فراہم کیا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں بچے زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دہشت گرد ہیں لہذا ان کو زیادہ تحفظ دینے کی اب ضرورت نہیں ہے۔ بھارتی مسلمان دیگر شہریوں کے مقابلے میں کم تعلیم یافتہ اور بہت زیادہ غریب ہیں۔ گجرات میں ایک سائنسدان نرجہاری سنہا نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ہندو مودی سے بہت خوش تھے۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مودی کے گجرات میں ریاستی ظلم و تشدد کے بعد مسلمان اب کنٹرول میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اکثر پارٹیوں میں مجھے بتایا جاتا کہ مسلمان دہشت گرد ہیں اور مودی نے ان کے ساتھ جو ظلم و تشدد کیا وہ سب جائز تھا۔رعنا ایوب تعلیم مکمل کرنے کے بعد پولیس فورس جوائن کرنا چاہتی تھیں لیکن انہیں بتا گیا کہ وہاں کچھ نہیں کر سکتیں کیونکہ لامحالہ انہیں اپنے سینئر ہندو آفیسرز اور کرپٹ سیاستدانوں کو ہی جواب دہ ہونا ہے۔ لہذا انگلش لٹریچر میں ایم کرنے کے بعد وہ ایک میگزین تہلکہ کے ساتھ وابستہ ہو گئیں جہاں انہوں نے پولیس کے ماورائے عدالت قتل اور پولیس کی زیر سرپرستی  اسمگلنگ کے موضوع پر خبریں شائع کیں۔ 2010 میں رعنا ایوب نے تہلکہ میں ایک اسٹوری چھاپی جو امیت شاہ کے خلاف تھی کس طرح امیت شاہ نے مودی کے انتخابات میں گڑبڑ کروائی اور اسے اکثریت دلوائی۔ امیت شاہ آج بی جے پی کا صدر اور مودی حکومت میں وزیر داخلہ ہے۔ رعنا ایوب نے گجرات پولیس کے ایک جعلی پولیس مقابلے کی اسٹوری بھی فائل کی جس میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان سے بھیجے گئے ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا ہے جو مودی کو قتل کرنے سے ارادے سے آیا تھا۔ بعد کی  تحقیقات سے پتہ چلا کہ پولیس نے جھوٹے مقدمے میں ایک مسلمان سہراب الدین کو پولیس مقابلے میں مار ڈالا۔ سینٹرل گورنمنٹ کیطرف سے جب اس واقعے کی تفتیش ہوئی تو امیت شاہ اس کا ماسٹر مائنڈ نکلا جسے بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ امیت شاہ سمیت مختلف پولیس آفیسرز بھی اس مقدمے میں نامزد ہوئے۔ سہراب الدین کے قریبی ساتھی اور اس کی بیوی نے بتایا کہ کیسے پولیس والوں نے اس کے شوہر کو جلعی پولیس مقابلے میں قتل کیا۔ کچھ دنوں بعد سہراب الدین کی بیوی بھی قتل ہو گئی اور سہراب الدین کا ساتھی پولیس اسٹیشن میں پولیس تشدد سے جاں بحق ہو گیا۔ رعنا ایوب نے بتایا کہ امیت شاہ اور مودی کے خلاف ثبوتوں کے لئے تہلکہ کے ایڈیٹر سے ایک انڈر کور ایجنٹ بن کر کام کرنے کی اجازت لی۔ رعنا نے گجرات میں اپنے آپ کو انڈین امریکن اسٹوڈنٹ کے طور پر متعارف کروایا۔ اپنا حلیہ بدلا اور گجرات میں مودی اور امیت شاہ کے قریبی حلقوں تک رسائی حاصل کی۔ وہاں سرکاری حکام اور پولیس نے امیت شاہ اور مودی کے خلاف ثبوتوں کے ڈھیر لگا دیئے لیکن نہ تو تہلکہ اور نہ کسی اور نے یہ اسٹوری چھاپنے کی ہمت کی۔

جاری ہے۔

یہ بھی چیک کریں

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل:نواز شریف کی سزا کے خلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

نیب کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد نواز شریف نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے