ہوم / تازہ ترین / ماسی ، مالشیا اور مُجرا

ماسی ، مالشیا اور مُجرا

تحریر: نذر محمد چوہان (نیو جرسی)

امریکہ نے سعودی بادشاہ کو پاکستان بابت احکامات جاری کر دیئے ہیں۔
کل ایک پاکستانی نے مجھے لکھا کے “ آپ کی عمران خان کے استعفے کے بارے میں پشین گوئی لگتا ہے غلط ثابت ہو گی۔ “ میں نے جواب میں لکھا “ جی بلکل، جب ریاست ہی نہیں رہے گی تو کونسا عمران خان اور کونسا استعفی؟۔ جنرل نیازی نے استعفی نہیں دیا تھا حضور، سرینڈر کیا تھا۔ عمران خان پاکستان دشمن طاقتوں کے سامنے سرینڈر کریں گے “۔ دیکھیے تو صیح آگے آگے ہوتا ہے کیا جناب۔

جب کراچی سے میں اور سبین محمود، جنرل راحیل شریف کو ہوش کے ناخن لینے کا کہتے تھے تو سوشل میڈیا ہمیں کاٹنے کو دوڑتا تھا۔ آج وہی سوشل میڈیا جرنیلوں کے کالے کرتوت ننگا کرنے میں پیش پیش ہے۔ کل ایک اور خان صاحب، ایمسٹرڈیم سے میرے وکیل اور لکھاری دوست نے لکھا کے “باہر بیٹھ کر پاکستان کو اس طرح جلتے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ’’۔ میرا جواب تھا کہ قدرت کو سوائے انسانیت، سچ اور محبت کے کچھ منظور نہیں ہوتا۔ کوئی قدرت کا سگا نہیں ہوتا۔ پاکستان سے انسانیت، سچ اور محبت 1952 میں ہی ختم ہو گئی تھی جب ایک لاغر اور اپاہج انسان غلام محمد نے فوج کے پیچھے لگ کر طاقت کے نشہ میں دُھت ایک کاغذ کے ٹکڑے کے زریعے عوام کے نمائندوں کو گھر بھیج دیا تھا۔ عدلیہ نے نہ صرف اس اقدام کو درست کہا بلکہ اگلے ساٹھ سال سے اس فیصلے کو نظیر بنا کر فوج کی دہشت گردی کو قانونی تحفظ فراہم کیا۔ اب تو آخری رسومات پچھلے پینسٹھ سال سے جاری ہیں۔

ایلیٹ بہت خوش تھی کہ پاکستانی جیسے مزے کہیں نہیں۔ جی بلکل۔ ماسی، مُجرا اور مالشیا کلچر اور دنیا میں کہیں نہیں ملتا۔ کالا دھن کہیں اور بنانا اتنا آسان نہیں جتنا پاکستان میں ہے۔ ایک چینی نے مجھے کراچی میں2008 میں کہا تھا کہ پاکستان سونے کی کان سے کم نہیں۔ ویسے تو چینی تانبا نکالنے کے بہانے اصلی سونا بھی بلوچستان سے لے دوڑے۔ پاکستانی فوج کے جرنیلوں نے پچھلے بیس سال سے فاٹا، کراچی اور بلوچستان سے اتنا زیادہ کالا دھن بنایا کے اب اگلے دس سال پیسہ سفید کرنے کی اسکیموں سے ملک باآسانی چلایا جا سکتا ہے اگر امریکہ اور بائیس کروڑ عوام اجازت دیں۔ بائیس کروڑ نے بھی اپنے تئیں کالا دھن بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جس کا جہاں جتنا داؤ لگا لگا لیا۔ کسی نے ٹرین کی ٹُوٹیاں اور پنکھے اتار لیے اور کسی نے اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادیں ان کی غیر موجودگی میں ہتھیا لیں۔ کمال کی بدمعاشی، غنڈہ گردی اور ذلالت ہے ۔

نیوجرسی میں رہائشی کے دوران ایک دفعہ ہمارے کونڈو کی سرکار نے سالانہ مینڈیٹری انسپیکشن کی جو زیادہ تر اس بات پر تھی کے سموک الارم کام کر رہا ہے یا نہیں ؟ میں نے اس انسپیکشن والی گوری خاتون سے کہا آپ کیوں اتنے پریشان ہیں؟ مریں گے تو ہم مریں گے اس غفلت کے نتیجے میں؟ وہ بہت ہنسی۔ اس نے کہا دراصل ہر اس طرح کی موت ہماری روزی روٹی چھین لیتی ہے کیونکہ یہ ہماری زمہ داری ہے۔ پاکستان میں دو دن پہلے  پانچ درجن لوگ ایک ٹرین میں شارٹ سرکٹ یا سلینڈر پھٹنے سے لقمہ اجل بن گئے۔ محکمہ سے لیکر مسافروں تک کوئی زمہ داری نہیں لے رہا۔ ہر کوئی اس بھیانک دھندے اور اس طرح کی وارداتوں اور حادثوں میں برابر کا شریک جرم ہے۔ تبلیغی جماعت بھی ٹرین میں سلنڈر لیجانا اور استمعال کرنا اپنا اسلامی فرض سمجھتی ہے۔ ایک دوست سے بحث کرتے ہوئے کچھ سال پہلے لڑائی ہو گئی۔ وہ کہتا کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا۔میں اس کا شدید مخالف ہوں۔ حضرت محمد ﷺ والا دین اسلام کسی جبر یا تلوار کے زور پر نہیں پھیلا۔ یہ میرا ایمان ہے  بلکہ قرآن پاک میں ان کو واضح” لکُم دینُکم ولی الدین “ کا حُکم ہوا۔ ہاں البتہ آجکل اسلام ٹرینوں میں سلنڈر لیجانے اور جلا کر پھیل رہا ہے بہت ہی ڈھٹائی اور کمال دلیری سے۔ طارق جمیل اور اس کا تماشہ زندہ رہے، باقی جل جائیں بائیس کروڑ زندہ ۔

اب کونسا آقا ؟ کیسے ؟ پاکستان میں حکومت کرے گا ؟ یہ تو وقت بتائے گا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ قدرت نے جو ہمیں ایک زبردست نعمت سونا اُگلنے والی زمین کی صورت میں ستر سال پہلے عنایت کی تھی اس کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے آگ بھی لگائی اور جلتے دیکھ کر نہ صرف رقص کیا بلکہ لُڈیاں ڈالیں۔ مولانا فضل الرحمان کا پاکستان کے دارالحکومت میں پڑاؤ ایک علامتی رقص ہے، ڈاکووٗں اور قاتلوں کے ناچنے کا۔ جو پیسہ ڈاکو اپنا دین ایمان بیچ کر کماتے ہیں وہ ہمیشہ اسی طرح کے قتل و غارت اور ناچ گانے میں برباد بھی کرتے ہیں۔ کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ قدرت نے تو خزاں کے رنگوں میں بھی کیا عجب جزبیئیت رکھ دی ۔

لیکن ہم شیطان کے چیلے نہ کبھی سُدھریں گے اور نہ سدھرنے کا بھاشن سُننے کو تیار 

 خوش رہیں ۔ انگریزی کی ایک کہاوت ہے کے “جب ریپ یا زنابالجبر ناگزیر ہوتا ہے تو اسے اینجوائے کریں “ کیونکہ اور کوئی آپ کے پاس چوائس نہیں ہوتی۔ اب بائیس کروڑ پاکستانیوں کے پاس بھی میرے نزدیک اس ریپ کو کوسنے کی بجائے اینجوائے کرنے کے سوا اور کوئی چوائیس نہیں ۔ اللہ نگہبان ۔

یہ بھی چیک کریں

آسٹریلیا کے جنگلات تاریخ کی بدترین آگ کی لپیٹ میں

آسٹریلیا کی مشرقی ساحلی پٹی اور سڈنی کے مضافات کا علاقہ تاریخ کی بدترین آگ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے