ہوم / تازہ ترین / جسٹس کھوسہ جیت گیا

جسٹس کھوسہ جیت گیا

رسوائی پاکستانیوں کے مقدر میں لکھی ہے

تحریر: نذر محمد چوہان (نیویارک)


کوئی ادھر کیا کرے ؟ جب جسٹس کھوسہ نے پناما پر نواز شریف کو نااہل قرار دیا تو اسے پاگل اور جانب دار کہا گیا ۔ اب جب مشروط طور پر جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن ملی تو ایک دفعہ پھر جسٹس کھوسہ تنقید کا نشانہ ۔ ہم بائیس کروڑ کا ہجوم کوئی قانون ، کوئی اخلاقیات اور کسی قسم کی پابندیوں کے شدید خلاف ہے ۔ ہم نے ایک دوسرے کی جیبیں کاٹنی ہیں ، گلا دبانا ہے اور ٹانگیں کھینچنی ہیں ۔

میں پہلے دن سے کہ رہا تھا کے عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ ملک کے لیے بہت خطرناک ہے ۔ فوجی چیف جو وزیراعظم کے نیچے ہے وہ تو اس کے حکم کا پابند ہے اس سے کیا ایک پیج یا دو پیج پر ہونا ؟ وہ بھی قوم کا ملازم اور آپ ان کے امین ۔ جنرل کیانی نے جب جسٹس افتخار کو اس کا عہدہ دوبارہ دلوایا ، اس کی عوض اسے آرام سے چیف جسٹس نے ایکسٹینشن لینے دی ۔ حالانکہ اسی وقت ایکسٹینشن کے معاملے پر سول ملازمین پر جسٹس افتخار نے قیامت برپا کی ہوئی تھی ۔ ایک ہنگامہ برپا تھا اور درجنوں ایسے سول ملازمین کی چُھٹی کروائی گئی ۔

کبھی بھی ؟ کسی نے  آئین ، قانون اور اصولوں کی پاسداری نہیں کی۔  ذاتی مفادات کو ترجیح دی ۔ آج کا فیصلہ بہت ہی اچھا ہے میرا سیلوٹ جسٹس کھوسہ کو جس نے اپنی سپریم کورٹ میں تعیناتی کے درمیان دو بڑے فیصلہ لیے ۔ آج کے فیصلہ پر میرا تبصرہ بالکل ہمارے نیویارک میں مقیم دوست صحافی آفاق فاروقی والا ہے جو لکھتے ہیں ؛

‎بہتتر سالہ تاریخ میں کسی حکومت کو اتنی بڑی شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پہلا آرمی چیف جسے مشروط توسع دی گئی۔ کیا وہ اپوزیشن آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے تعاون کرے گی جسے برباد کرنے کا سہرا جنرل باجوہ کے سر باندھا جاتا ہے ، کیا جنرل باجوہ اتنی بڑی شرمندگی کے بعد بھی یہ چھ ماہ کی مشروط نوکری کریں گے اور کیا اب یہ حکومت جس کا وزیراعظم عدالت کا فیصلہ سنتے ہی اپوزیشن کے خلاف بیان دینے لگا ہےاور اسے مافیا قرار دے رہا ہے ان حالات میں اپنی مدت پوری کرنے کے قابل رہ گئی ہے ۔۔ یہ وہ سوالات ہیں جنکے جوابات اگلے چند میں سامنے آنا شروع ہوجائیں گے

آفاق فاروقی

ہم سب آج بحیثیت قوم ہار گئے ہیں ۔ جسٹس کھوسہ جیت گیا ۔ وہ امر ہو جائے گا اپنے اس قدم سے ۔ میرا پھر ایک سیلوٹ اس کو ۔ ہم میں نہ اخلاقیات ہے نہ جرات اور نہ سمجھ ۔ ہم نے تو ہینس کیلسن کا نظریہ ضرورت بھی کبھی سمجھا ہی نہیں ؟ کیلسن ایک بہت پہنچا ہوا روحانی شخص تھا ۔ اس نے آسٹریا کو 1920 کا آئین دیا تھا جو آج بھی کافی حد تک اُسی طرح ہے ۔ ہینس کیلسن کو بھی 1933 میں پہلے جینئوا اور پھر امریکہ ہجرت کرنی پڑی اور زندگی کے آخری پینتیس سال یہاں امریکہ میں گزارے ۔ کیلسن ، برکلے یُونیورسٹی کا چمکتا دمکتا ستارہ تھا ۔ برکلے ، کیلیفورنیا میں ہی اس نے آخری سانسیں لیں ۔ وہ کہتا تھا تاریخ مجھے آسٹرین قانون دان کی بجائے امریکی فلاسفر کے طور پر جانے پہچانے گی ۔ بہت ہی خوبصورت شخص تھا ۔ کیلسن نے کہا کیا تھا اور اس کی تھیوری مشہور کیسے ہوئی ؟

کیلسن دراصل ایمینوئل کانٹ کا بہت بڑا مداح تھا جس نے کہا تھا کہ سب کچھ تو ہے ، موجود ہے ۔ صرف آگہی کی ضرورت ہے ۔ قانون تو ایک چھتری کی طرح ہے بارش یا باقی آفات سے بچاؤ کا عارضی ذریعہ ۔ یہ کبھی بھی تمام حالات واقعات کو کور نہیں کر سکے گا ۔ جیسا کے کل پاکستان کے نالائق ترین اٹارنی جنرل نے بھری عدالت میں کہا کہ قانون چھڑی کی مانند ہے ٹوٹ جائے گا ۔ ان موصوف نے قانون پڑھا ہی نہیں ۔ سارے کے سارے چھولے دے کر پاس ہوئے اور سفارشی بھرتیاں ہیں ۔

نظریہ ضرورت کو کسی نے سمجھا ہی نہیں ، وہ زمینی حقائق کی نظیر نہیں بن سکتا تھا یا مستقبل کے اندازوں پر نہیں لگ سکتا ۔ جب بھی ملٹری ڈکیٹر کے خلاف ملٹری کُو کے بعد کیس آیا یہ کہا گیا کے حالات بہت خراب تھے یہ وجہ بن ہی نہیں سکتی ۔ اوہ بھئی مسئلہ مولوی تمیز الدین کیس میں حالات کی خرابی نہیں تھا ، بلکہ ان کے اس وقت ریورس نہ ہونے کا معاملہ تھا؟ جیسے اسمبلی ٹُوٹ چُکی تھی ۔ دوبارہ سب کچھ اسی پوزیشن پر لانا مشکل تھا ، لہٰذا ہینس کیلسن کو یاد کیا گیا اور اس کا نظریہ ضرورت لایا گیا ۔

کیلسن کے نزدیک تو وہ قدرت کا قانون یا عمل ہے جس کو ہم اکثر ایکٹ آف نیچر بھی کہتے ہیں یا ایکٹ آف گاڈ۔ اسی لیے جسٹس کارنیلیس نے اختلافی نوٹ میں اسے سمجھایا کے گورنر جنرل کا یہ قدم غیر آئینی ہے اور اب دراصل آئین سے غداری سے بچنے کا طریقہ اب یہی رہ گیا ہے کے اسے عارضی حمایت فراہم کی جائے لیکن نئی قانون ساز اسمبلی ان اقدام کی اگر توثیق کرے ۔ تقریباً یہی آج سپریم کورٹ نے پاکستان میں جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کے کیس میں کیا ہے ۔

حال ہی میں ناروے میں جو کیس ہوا وہ بھی بالکل یہی تھا کہ انتظامیہ کو پتہ تھا کہ جب وہ مقدس کتاب جلائے گا کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن ناروے کی انتظامیہ آئین کے مطابق دی ہوئی شہری آزادیاں صلب نہیں کر سکتی تھی لہٰذا ہونے دیا ۔ اس کی مثال اکثر میں برطانوی قانون ، بیٹی مقابلہ گلبینکز ، کی دیتا ہوں جو ہمیں لاء میں پڑھایا گیا تھا جہاں بالکل ناروے والا معاملہ تھا ۔ سلویشن آرمی کا جلوس تھا جس سے سو فیصد ہنگامہ کا خطرہ تھا اس کو سمجھنے کے لیے میں ایک سادہ سی سکرین شُوٹ لگا رہا ہوں ۔

پاکستان میں جب تک ریاست کو بدمعاشوں ، اٹھائی گیروں اور اصل غداروں سے نہ چُھڑوایا گیا کچھ نہیں ہو گا ۔ تبدیلی کے نعرے دھوکہ ہے عوام کے ساتھ ۔ کوئی وکیل اس میں پیٹیشنر تک نہ بنا جو بنا وہ بھی پیٹیشن واپس لینے کے ترلے کرتا رہا ۔ کاش میں پاکستان میں ہوتا تو میں اس کا پیٹیشنر ہوتا ۔ فرخ عرفان کے کیس میں بھی عاصمہ جہانگیر نے بھی پٹیشنر بننے سے انکار کیا تھا اور مجھے بننا پڑا اور اس میں بھی جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اسے منطقی انجام تک پہنچایا۔ سب کچھ ہم اپنے سامنے ختم اور برباد ہوتا دیکھ رہے ہیں لیکن تماشائی بنے ہوئے ہیں “ سانوں کی” اب سانوں کی سے بات “ اچھا مینویں” تک پہنچ گئی ہے ، اللہ کرے یہ سفر چلتا رہے ۔ آمین ۔

یہ بھی چیک کریں

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل:نواز شریف کی سزا کے خلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

نیب کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد نواز شریف نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے