ہوم / بین الاقوامی / سیاسی بحران میں گِھرے ٹرمپ کو ایک اور عدالتی دھچکا

سیاسی بحران میں گِھرے ٹرمپ کو ایک اور عدالتی دھچکا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف اپنے خلاف کانگریس میں مواخذے کی تحریک سے پریشان دکھائی دیتے ہیں تو دوسری طرف ان کو ایک اور بحران کا سامنا ہے۔ نیویارک کی ایک عدالت نے 2016 کی صدارتی مہم کے فنڈز میں خورد بُرد پر ڈونلڈ ٹرمپ کو 20 لاکھ ڈالر جُرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت کا ماننا ہے کہ یہ رقم ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خیراتی ادارے میں خردُ برُد سے حاصل کی۔ لہذا امریکی صدر خیراتی ادارے کو 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے کے پابند ہیں۔ڈونلڈ جے ٹرمپ فاوٗنڈیشن کو 2018 میں بند کر دیا گیا تھا تاہم پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کر رہے تھے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خیراتی ادارہ چلانے والے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے تین بڑے بچے سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔ عدالت کی جج نے کہا ہے کہ 20 لاکھ ڈالر امریکی صدر اپنی ذاتی جیب سے ادا کریں گے۔عدالت کی جج سیلین اسکار پُلا نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اگر یہ فاوٗنڈیشن ابھی تک قائم ہے تو 20 لاکھ ڈالر اس کے اکاوٗنٹ میں جمع کرائے جائیں۔ یہ رقم ان بیس خیراتی اداروں میں تقسیم کی جائے جن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔امریکی صدر نے خیراتی ادارے کیلئے جمع کی گئی رقم اپنی صدارتی مہم میں استعمال کی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت کانگریس کی مواخذہ تحریک کا بھی سامنا ہے۔ اب تک ٹرمپ انتظامیہ کے کئی حکام اور مشیروں نے یوکرین کے معاملات پر ٹرمپ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی کانگریس صدر ٹرمپ کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال پر ان کا مواخذہ کر رہی ہے۔امریکی صدر پر الزام ہے کہ انہوں نے یوکرین کے اپنے ہم منصب کو ٹیلی فون پر سابق نائب امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کرنے کیلئے دباوٗ ڈالا تھا۔

یہ بھی چیک کریں

رباّ میرے حال دا محرم تُوں

تحریر: نذر محمد چوہان (نیوجرسی) ہر تہذیب اپنے ہی گند تلے آ کر تباہ ہوئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے