ہوم / تازہ ترین / جیسے اس کی ہی ذمہ داری ہے ۔۔؟

جیسے اس کی ہی ذمہ داری ہے ۔۔؟

تحریر: آفاق فارقی (نیویارک)

حامد میر  عقل و شعور کے اندھوں کا غدار ہے۔ پاکستانی سیاسی سماجی دانشوروں کا  منصور حلاج یا سقراط اور اس خرابے کا شائد اکلوتا مرد  بھی جس کے پیٹ میں سچ حق بولنے اور پھیلانے کے جرم میں دو گولیاں پڑی ہوئی ہیں اور یہ گولیاں انہوں نے ہی چلائی تھیں جو  بتدریج پاکستان کو قبرستان میں تبدیل کیے جارہے ہیں۔ شعور کی آوازوں کا لاشوں کا قبرستان جہاں بولنا ہی جرم نہیں سوچنا بھی گناہ قرار پایا ہے۔ پاکستان کے ہر ہر حلقے اور طبقے بشمول مجھے پاکستانی میڈیا سے شکایت ہے کہ وہ سچ نہیں بولتا وہ حقائق چھپاتا ہے نظر انداز کرتا ہے۔ مگر ایمان کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی سماجی پسمنظر میں حامد میر تنہا ہے اور مکمل تنہا جو جھوٹ، مکاری، عیاری اور منافقت کی دھجیاں اڑانے اور اسکا تمسخر اڑانے میں  اکیلا ہی مصروف  نظر آتا ہے۔ پاکستانی سیاست دان جو جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادیوں کے نعرے مار کر ان نعمتوں کے دشمنوں سے ملکر چند دن کا اقتدار حاصل کرتے ہیں اگر ایک بار صرف ایک بار حامد میر  کی راہ پر چل پڑیں تو یقین سے کہا جاسکتا ہے پاکستان میں حقیقی جمہوریت کا سورج طلوع ہوسکتا ہے۔

پہلی بار جب میاں نواز شریف قائد حزب اختلاف بنے اور نیویارک آئے تو دوران انٹرویو پہلی بار یہ کہا “ مجھے فوج نے کام نہیں دیا ، ہر جگہ رکاوٹ کھڑی کیں اور جھوٹ بولا ۔ سندھ میں ڈاکووٗں کے خلاف آپریشن کے نام پر ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کی سازش تیار کر رکھی تھی اور مجھے اندھیرے میں رکھا گیا۔ جب میں نے ان سے پوچھا “آپ کو وزیر اعظم بننے کے کتنے دن بعد احساس ہوگیا تھا کہ فوج آپ کو کام نہیں کرنے دے رہی ہے ؟ جواباً میاں صاحب نے کہا “ ایک ڈیڑھ مہینے بعد ہی کھیل شروع ہوگیا تھا “ میں نے جوابا کاؤنٹر سوال کیا ، آپ کو نہیں چاہئیے تھا کہ جب کام نہیں کرنے دیا جارہا تو عوام کو سچائی بتا کر اقتدار چھوڑ دیں ۔۔؟  میاں صاحب لمحے بھر کو رکے اور پھر بولے “ یہ اتنا آسان نہیں ہوتا بطور وزیر اعظم بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے ، “تو پھر شکایت کیوں ۔۔ ؟ میں نے ہلکی سی تلخی کا مظاہرہ کیا  تو میاں صاحب کے چہرے پر ناراضگی کے آثار بڑے نمایاں تھے

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ دوسری بار برطرف ہوئیں تو یہی رونا انکا بھی تھا کہ فوج کام کرنے ہی نہیں دیتی۔ جب یہی سوال ان سے کیا گیا کہ جب وہ کام نہیں کرنے دیتے تو عین بھرے اقتدار کے دنوں میں ہمت کرکے اقتدار چھوڑ کیوں نہیں دیا جاتا ۔۔؟ انہوں نے جواباً پوچھ لیا تھا “ اس سے انکی صحت پر کیا فرق پڑے گا۔ وہ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ یا تو ہماری مرضی کے مطابق کام کرو یا چلو جاؤ ۔ اگر حکومت چھوڑ دیں تو عوام کے دو چار کام جو ہو جاتے ہیں پھر وہ بھی نہیں ہونگے۔ جب ان سے کہا گیا “ اگر ایک بار حکومت چھوڑیں گی بلکہ ایسی صورت حال میں لات ماریں گی اور عوام کو سچائی بتائیں گی تو اسٹیبلشمنٹ دباؤ میں آئے گی کیونکہ انہیں پتہ ہے وہ غلط کررہے ہیں۔ اگر انکی سوچ اور انکا طریقہ درست ہوتا تو سامنے آکر اظہار کرتے اور اسکے عمل کے لیے کھل کر مطالبہ کرتے۔ پیچھے سے چھپ کر کام کرنے والوں کو پتہ ہوتا ہے وہ غلط کررہے ہیں اس لیے معاملہ منظر پر آنے سے ڈرتے ہیں۔ مگر بی بی کے پاس ان باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔پھر بی بی نے مشرف کے ریفرنڈم کے بعد میر ظفر اللہ جمالی کی حکومت بننے کے بعد جس دن وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی بھی نیویارک میں تھے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت بنانے کے لیے مشرف سے معاملات طے پا گئے تھے مگر لاہور کے کور کمانڈر جنرل مہدی نے سارا معاملہ خراب کردیا اور وہی پیٹریاٹ بنانے کا ذمہ دار ہے۔ انکے اس انکشاف پر جب ان سے کہا آپ لوگ جب تک جمہوریت کے نام پر فوج سے جوڑ توڑ کرکے حکومت بناتے رہیں گے آپ کا کیا خیال ہے ایسی جمہوریت چل سکتی ہے ؟ جوابا بی بی بے بسی سے بولیں “ پھر اور کیا راستہ بچتا ہے ؟ مطلب آپ کو بس ایک اسی راستے کا پتہ ہے ۔۔؟ میں  بھی طنزیہ جواب دیکر اگلے سوال کی جانب بڑھ گیا تھا۔ وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کے نیویارک میں کیے جانے والے انٹرویو میں اس سوال  پر “ آپ اس امریکی دورے سے کیا حاصل کرکے جارہے ہیں ؟

جمالی صاحب نے کہا تھا اپنی اسمبلی اور وزارت عظمیٰ کی
legitimacy

لے کر جا رہا ہوں۔

جب انکے اس جملے کو انٹرویو کی ھیڈ لائن بنا دیا تو میرے اور اپنے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا “ آفاق سے کہنا “ہوئے تم دوست جس کے اس کا دشمن آسماں کیوں ہو “ ۰ بھٹو سے عمران خان تک پاکستانی عوام کو کوئی ایک جمہوری حکمران یا سیاست دان نہ مل سکا جو اس فوجی جنرلوں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرسکتا یا بھرے اقتدار پر لات مار عوام کو بتاتا ،”تم ووٹ ہمیں دیتے ہو مگر اقتدار انکے پاس سے تم تک کبھی منتقل ہی نہیں ہوتا “اس لئے بہتر ہے کہ جمہوریت کا ڈرامہ بند ہی کردیا جائے تاکہ عالمی برادری ان سے پھر براہ راست نمٹے۔آپ کمال تو دیکھیں یہ سیاست دان میڈیا سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اکیلا سچ بولے وہ منصور بنے وہ سقراط کہلائے مگر یہ بس چپ کا روزہ رکھے رہیں یا جب جب اور جتنا موقع ملے اقتدار اور اسکی سہولیات کے مزے لوٹیں۔ سچ وہ بھی ادھورا سچ بس اپوزیشن میں ہی رہ کر بولیں۔ میرا ایمان ہے جو جنرل کرنل اپوزیشن کے ادھورے سچ کے خوف میں برائے نام ہی سہی مگر جمہوریت جمہوریت کھیلنے پر مجبور ہیں اگر جس دن سیاست دانوں نے مکمل سچ بولنا کا فیصلہ کرلیا مجھے یقین ہے یہ جنرل ٹولہ پھر ایسی دوڑ لگائے گا اور کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔ کیونکہ پھر نہ امریکہ کو بہانہ مل سکے گا نہ برطانیہ کو جو یہ کہکر انکا سہارا بنے رہتے ہیں کہ امید ہے پاکستان میں جمہوریت مستحکم ہوگی اور چلتی رہے گی۔

یہ بھی چیک کریں

اپوزیشن خوش ،اسٹیبلشمنٹ بھی آرام سے ، بس عوام گئے کام سے

تحریر: آفاق فاروقی (نیویارک) جب کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑہ لگا کر تحریک …

تم سے بھی کیا ہوسکا محبت میں ۔؟

تحریر: آفاق فاروقی (نیویارک) پاکستانی عوام بالخصوص نوجوان ، فیس بک، ٹیوٹر پر بخار نکالنے …

پاکستان اور ہندوستان کے مسلمان

قسط 1 تحریر: آفاق فاروقی پاکستانی مسلمانوں نے آزادی حاصل کرنے کے فوراً  بعد ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے