ہوم / تازہ ترین / جبر کی حکومت کے خلاف شرعی جہاد کر رہے ہیں،مولانا فضل الرحمان

جبر کی حکومت کے خلاف شرعی جہاد کر رہے ہیں،مولانا فضل الرحمان

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے باطل کے خلاف علم بلند کیا ہوا ہے۔ ایک جبر کی حکومت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ اسلام آباد میں آزادی مارچ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی شریعت میں جبر کی حکومت قبول نہیں۔برصغیر کی پوری تاریخ ان لوگوں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے جبر کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔ جبر کافر کا ہو یا مسلمان کا اس کے خلاف بغاوت فرض ہے۔ پاکستانیوں نے آمر جنرل ضیا ٗ الحق کے جبر کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ کہتے تھے کہ آئین چار صفحوں کا ایک مسودہ ہے اسے اٹھا کر پھینک دو۔ آج بھی اگر ہم دو سو سال کی تاریخ کا تسلسل دیکھیں آزادی ہماری تاریخ ہے اور ہم نے آزادی اپنے خون سے حاصل کی ہے اسی لئے آزادی مارچ شروع کیا ہے۔  مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کو قوم کے مطالبے کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس حکومت کی پشت پر بڑی طاقتیں ہیں کہ  اس حکومت کے خلاف بات کرنا جوئے شیر لانا ہے ہم نے ان تمام طاقتوں کو اپنی قوت دکھا دی ہے۔معاشرے میں اس حکومت کی دو ٹکے کی حیثیت نہیں ہے۔ حکومت نے ملک کے محترم اداروں کی بے توقیری کی۔ ہم نے 70 سال 9 نومبر کو یوم اقبال منایا۔ اس حکومت نے 9 نومبر کے تقدس کو پامال کر دیا اب یہ دن بابا گُرو نانک کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ ہندوستان نے اس کے جواب میں بابری مسجد ہندووٗں کے حوالے کر دی۔ مسلمانوں نے اس کیلئے قربانیاں دیں اپنا خون دیا۔ حکمران کہتے ہیں کہ ہم یہاں بابا گُرو نانک کا دن منا رہے ہیں اس دن بھارت کو ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان تم کو شرم آنی چاہیئے۔ پاکستان کی شناخت اس کا نظریہ، اس کا آئین، اس کا اسلام اور اس کی جمہوریت ہے۔ ہم نے پاکستان کی اسلامی، نظریاتی، جمہوریت کی شناخت کو زندہ رکھنا ہے۔ کسی کو بھی اس ملک کے اداروں، شناخت، جمہوریت اور معیشت سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ زرعی پیداوار مسلسل گِر رہی ہے۔ ان لوگوں نے ملک کو مذاق بنا دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک خسارے میں جا رہا ہے۔ جس شخص کو اس ملک کی عدالتوں نے نااہل قرار دیا اس نے اپنی شوگر مل میں چینی ذخیرہ کر کے مہنگے داموں بیچی۔ کیا ایسے لٹیروں کیلئے پاکستان بنایا تھا۔ جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ فاٹا والوں کے خواب ریزہ رہزہ ہو گئے۔ حکومت نے کہا تھا کہ فاٹا کو ہر سال ایک ہزار ارب روپے دیں اور دس سال تک دیں گے۔ تم نے آج تک فاٹا کو ایک پیسہ نہیں دیا۔ این ایف سی میں فاٹا کو حصہ دینے کیلئے کوئی صوبہ تیار نہیں ہے۔ کہا تھا کہ فاٹا کے کارخانوں کو دس سال تک ٹیکس چھوٹ دیں گے۔ پھر پانچ سال کئے اور آج انہیں ٹیکس کے نوٹسز جاری کئے جا رہے ہیں۔ آج فاٹا کا قانون پورے خیبر پختون خوا میں نافذ کر دیا ہے۔ جس میں جب چاہیں گے فوج کو پورے صوبے میں کہیں بھی بھیج سکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ  آج بھی فارن  فنڈنگ کیس کو موخر کرتے کرتے سات اپیلیں کیں جو تمام مسترد ہو گئیں۔ اب دیکھیں کہ الیکشن کمیشن کتنا بے اختیار ہے۔ اب الیکشن کمیشن کے خلاف ہائی کورٹ میں چلے گئے۔ ہمیں مشورہ دے رہیں کہ الیکشن کمیشن میں جائیں۔ خود عدالتوں اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو مانتے نہیں اور ہمیں عدالتوں میں جانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس حکومت کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ تمام سیاسی جماعتیں رابطے میں ہیں۔ آئندہ کا لائحہ عمل سیاسی جماعتوں سے مل کر کریں گے۔

یہ بھی چیک کریں

شہریت کے متنازعہ بل پر ہنگامے، آسام فوج کے حوالے

مودی حکومت نے مذہب کی بنیاد پر شہریت کے نئے قانون کے خلاف شمال مشرقی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے