ہوم / بین الاقوامی / دولت اسلامیہ: شدت پسند تنظیم کی بڑی ڈیجیٹل لائبریری جسے ختم کرنا تقریباً ناممکن ہے

دولت اسلامیہ: شدت پسند تنظیم کی بڑی ڈیجیٹل لائبریری جسے ختم کرنا تقریباً ناممکن ہے

انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک ڈائیلاگ کی ایک تحقیق کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ آن لائن مواد شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کی ملکیت ہے۔

یہ مواد نیٹ پر ڈیجیٹل لائیبریری کی صورت میں دستیاب ہے۔

اس ڈیجیٹل لائبریری میں 90 ہزار سے زائد کتب ہیں اور تقریباً ہر ماہ دس ہزار سے زائد نئے لوگ اس لائبریری کا رُخ کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر اس طرح کی سرگرمیاں انتہا پسند گروہوں کے خیالات کو پنپنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

اس ڈیٹا کو انٹرنیٹ سے ہٹانا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ کسی ایک جگہ پر نہیں رکھا کیا گیا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ میں دہشتگردی کی روک تھام کے اداروں کی طرف سے اس طرح کے مواد کی بیخ کُنی کرنے کے لیے تمام تر تیاری کے باوجود اس رحجان میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔
گذشتہ سال اکتوبر میں نام نہاد دولت اسلامیہ کے اہم رہنما ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کے بعد اس ڈیجیٹل لائیبریری کے بارے میں پتا چلا تھا۔

اُس وقت اِس تنظیم کی حمایت کرنے والی بہت ساری سوشل میڈیا پوسٹوں میں ایک مختصر سا لنک موجود تھا۔ ریسرچرز نے اس مواد کو مختلف نو زبانوں میں ترجمہ کیا اور اس کی ویڈیو تیار کرائی۔

اس میں ان تمام حملوں کی تفصیلات بھی شامل تھیں، جس میں 22 مئی 2017 کے مانچسٹر میں ہونے والے حملے، سات جولائی 2005 کو لندن اور 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے حملے بھی شامل ہیں۔

انسٹیٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مصطفیٰ آیاد جنھوں نے اس مواد کا پتا چلایا کا کہنا ہے کہ اس میں ہر طرح کی معلومات ملتی ہیں۔ حملے کی منصوبہ بندی اور پھر حملہ کرنے تک کی سب کارروائی کا احوال ملتا ہے۔

’اس میں وہ سب تراکیب ہیں جو آپ کو بالآخر ایک اچھا دہشتگرد بننے کے بارے میں بتاتی ہیں۔‘

انسٹیٹیوٹ نے اس لائبریری کا نام ’خلافت کیشے‘ رکھا ہے۔

اس انسٹیٹیوٹ کے محققین نے کئی ماہ تک اس مواد کا مطالعہ کیا اور اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کی کہ یہ کیسے آگے بڑھتا ہے، اسے کیسے پھیلایا جاتا ہے اور کون کون اس مواد کی تلاش میں نیٹ پر موجود ہے۔ ایک کمپیوٹر کے بجائے یہ ڈیٹا مختلف جگہوں سے شیئر کیا گیا ہے۔

اس مواد کو ہر کوئی کہیں سے بھی ویب پر شیئر کر سکتا ہے یعنی یہ کئی کمپیوٹر سرور سے شیئر کیا جا سکتا ہے۔ یوں اس مواد کو ہٹانے کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہو پاتیں۔

جب تک ’خلاف کیشے‘ دستیاب ہے یہ نام نہاد دولت اسلامیہ کو اپنا مواد مزید ذہنوں کو پراگندہ کرنے کے لیے مدد فراہم کرتا رہے گا۔انسٹیٹیوٹ کے مطابق خلافت کیشے ہی منفرد چیز نہیں ہے۔ کچھ دیگر چھوٹے گروہ بھی جن کا تعلق دیگر انتہا پسند تنظیموں سے ہے کا بھی مواد آن لائن دستیاب ہے۔ یہ گروہ کسی ایک پلیٹ فارم کے بجائے بکھرے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے