ہوم / بین الاقوامی / میری بیٹی دو ممالک کے تجارتی جنگ میں سودے بازی کی وجہ بن گئی ہے، سی او او ہواوے

میری بیٹی دو ممالک کے تجارتی جنگ میں سودے بازی کی وجہ بن گئی ہے، سی او او ہواوے

مواصلات کے آلات تیار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی چینی کمپنی ہواوے کے چیف فنانشل آفیسر مینگ وانزو کہتے ہیں کہ ان کو اپنی بیٹی پر فخر ہے جو امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کیلئے سب سے بڑی سودا بازی
Bargaining Chip
کی وجہ بن گئی ہے۔ سی این این بزنس کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی کی گرفتاری ان کیلئے ایک فخر بن گئی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی جنگ زوروں پر ہے۔ ہواوے کمپنی کی بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر رین زینگ فائی کو پچھلے سال کینیڈا نے امریکہ کی درخواست پر حراست میں لیا تھا تاہم ابھی تک ان کے مقدمے کی سماعت شروع نہیں ہوئی ہے۔ انہیں کینیڈا کے شہر وینکور میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اب تک اپنے گھر میں نظربند ہیں جہاں انہیں لکھنے پڑھنے، ٹی وی دیکھنے اور پینٹنگ کرنے کی اجازت ہے۔ وہ وینکو شہر میں ایک ایک الیکٹرانک واچ پہن کر گھوم پھر سکتی ہیں تاکہ حکام ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکیں۔ امریکہ میں انہیں بینک فراڈ، تجارتی راز چُرانے اور امریکہ کی ایران پر پابندیوں کے باوجود ایرانی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے جیسے الزامات کا سامنا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ ہواوے کے مواصلاتی آلات امریکی سیکیورٹی کے لئے خطرہ ہیں اور ہواوے ایسے کاروبار میں ملوث ہے جو امریکی خارجہ پالیسی کے خلاف ہیں۔ امریکی حکومت نے گوگل، مائیکرون اور انٹیل کو ہواوے کے ساتھ کاروبار کرنے سے روک دیا ہے۔ ان کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ ہواوے کے ساتھ کام کرنے سے پہلے امریکی حکومت کی پیشگی اجازت لازمی ہو گی۔ کچھ دن پہلے مائیکرو سافٹ نے ایک لائسنس کے ذریعے ہواوے کے ساتھ محدود کاروبار کرنے کی اجازت حاصل کی ہے۔ ہواوے اب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ رین زینگ فائی کی نشاندہی پر ہی امریکہ نے دو افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ان میں سے ایک مائیکل سپے وور ہے جن پر شمالی کوریا کے ساتھ کام کرنے کا الزام ہے۔ جبکہ دوسرے زیر حراست شخص مائیکل کوونگ پر جاسوسی کا الزام ہے۔

یہ بھی چیک کریں

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل:نواز شریف کی سزا کے خلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

نیب کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد نواز شریف نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے