ہوم / تازہ ترین / افسانہ: اپنی ہی کہانی…… طارق بلوچ صحرائی

افسانہ: اپنی ہی کہانی…… طارق بلوچ صحرائی

رحمت اللہ بلوچ جب اپنے دوست غلام محمد خان کو دفنانے کے بعد گھر پہنچا تو اُس کی آنکھوں میں صحرا کی پیاس جیسا کرب تھا۔ اپنی گھر والی سے بولا ”نیک بخت مرحوم کے تینوں بیٹے باپ کو کندھا نہ دے سکے ایک کو اطلاع نہ ملی اور دو کو فلائیٹ نہ مل سکی۔ جنازے میں لوگ بہت کم تھے ویسے غلام محمد نے دشمن بھی تو بڑے پال رکھے تھے۔“ وہ کچھ دیر خاموش رہا اور پھر بولا ہمارے جنازے سکڑتے جا رہے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں عرب کی ایک وادی میں دو قبیلوں کے سرداروں کے درمیان کسی بات پر تلخی ہوئی، دونوں قبائل کی طرف سے تلواریں نیام سے باہر نکل آئیں اس سے پہلے کہ خون کی ندیاں بہہ جاتیں اور لاشوں کا رقص شروع ہو جاتا، اُن میں سے ایک سردار نے تلوار نیام میں ڈالی اور بولا میں لڑائی سے دست بردار ہوتا ہوں مگر ہم دونوں میں سچا کون تھا، اس کا فیصلہ ہمارے جنازے کریں گے۔

اداسیاں میرے عہد کی علامت ہیں، تعبیر کے ڈر سے خواب سوئے رہتے ہیں۔ عشق کی اس خزاں میں عاشق کیکر بن گئے ہیں۔ پُراسرار تنہائیوں نے لوگوں کو اندر سے خالی کر دیا ہے۔ سخن طرازوں کو چپ سی لگ گئی ہے۔ بڑوں کے دُکھ بھی بچوں کی طرح روتے ہیں۔ جیت کے جنون نے لوگوں کو اندر سے خالی کر دیا ہے بانسری بھی تو اس لیے روتی ہے کہ وہ اندر سے خالی ہے۔ دادا دادی کے اندر برسات جاری تھی۔ آنکھیں نم تھیں مگر پوتوں کی محبت انھیں رونے نہیں دے رہی تھی۔ اُن کے تینوں پوتے پہلی بار پاکستان آئے تھے۔ اُن کی عمریں 9 سے 14 سال تک کے درمیان تھیں، اُن کے ماں باپ نے بچوں کے بے حد اصرار پر بڑا حوصلہ کر کے پاکستان دادا دادی کے پاس بھیجا تھا۔ رحمت اللہ بلوچ کے تینوں بیٹے جب سے امریکہ گئے تھے۔ ایک بار بھی پلٹ کر اپنے دیس نہیں آئے تھے۔ سب کی شادیاں بھی امریکہ میں ہی ہوئی تھیں۔ البتہ رحمت اللہ اور اُس کی بیوی وسائی مائی امریکہ میں اپنے بچوں سے ملنے کبھی کبھار آتے جاتے رہتے تھے۔ گاؤں والے انھیں خوش قسمت تصور کرتے تھے۔ یہ بہاولپور کے قریب چولستان کا علاقہ تھا، اُس دن حسب معمول سخت گرمی تھی۔ سب کی نظریں آسماں پہ لگی ہوئی تھیں، کہیں دور بادلوں کے چند آوارہ ٹکڑے ”چھپن چھپائی“ کھیل رہے تھے۔ خشک ہونٹ دُعا کے لیے بغیر آواز کے ہل رہے تھے۔ چولستانیوں کی صرف دو مرغوب دُعائیں ہیں بارانِ رحمت کے نزول کی دُعا اور پھر ”ڈھکن“ (صحرائی ہوا) کے چلنے کی دُعا، چولستان میں میٹھا پانی سب سے بڑی رحمت اور سوغات سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اس کا واحد ذریعہ بارش ہے چولستانی بارش کے پانی کو ”ٹوبھوں“ اور کنڈوں میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ صحرا خاموشی کی زبان میں ہم کلام ہوتا ہے، صحرا دل والوں کا گہوارہ اور درد مندوں کا مسکن ہوتا ہے۔ گہرا سکوت چولستان کی پھیلی ہوئی وسعتوں پر حکمرانی کرتا ہے۔ خامشی کے اس راج کو دن کے اُجالے بھی شکست نہیں دے سکتے۔ صحرا پیاسے کو حوصلہ دیتے ہوئے خود بھی رونے لگتا ہے۔ فطرت کو بھی وہ لوگ بہت اچھے لگتے ہیں جو دوسروں کو دلاسا اور حوصلہ دیتے ہوئے خود بھی رونے لگتے ہیں۔ صدیوں پہلے یہاں ایک بڑا دریا بہتا تھا، اُس دریا کا نام ہاکڑہ تھا۔ ہاکڑہ ایک عظیم دریا تھا پھر معلوم نہیں کیا ہوا دریا سوکھ گیا، ساری ہریالی ختم ہو گئی۔ بہاروں نے پودوں اور پھولوں کو رنگ رنگ کے لباس پہنانا بند کر دیے۔ درخت جو خاموش رونق ہوتے ہیں سوکھی ٹہنیوں کا غم برداشت نہ کر سکے اور خزاں کی موت کا شکار ہو گئے۔ ریت ہی ریت باقی رہ گئی۔ اب یہاں دریا تو کب کا فنا ہو چکا مگر اُس کی اُجڑی ہوئی راہ گزر، ویرانوں کی حیرت زدہ تنہائی صحرائے چولستان میں آج بھی نوحہ کناں ہے۔ دریا کیوں سوکھ جاتے ہیں؟ عظیم دریا ہاکڑہ کیوں صحرا بنا؟ اس بارے میں تاریخ خاموش ہے کیونکہ تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی، یہ صرف فتوحات گنتی ہے۔ کسی درویش کا کہنا ہے جس دریا کے کنارے کوئی پیاسا مر جائے وہ دریا سوکھ جایا کرتے ہیں۔ حقیقت کیا ہے یہ صرف اہل دل اور اہل ذکر ہی جانتے ہیں، یہ لوگ یہ بھی جانتے ہیں غلام قومیں صرف دوسروں کی تباہی پر بھنگڑے ہی ڈالتی ہیں اور تاریخ میں تو زندہ رہنے کے لیے آزاد ہونا پڑتا ہے۔

حضرت خواجہ غلام فریدؒ نے اپنی حیات کے اٹھارہ برس اس صحرا میں گزارے، وہ جانتے تھے۔ صحرائی لوگ بڑے دریا دل ہوتے تھے اور صحرا بچھڑنے والوں کو ملانے والا ہے اور خود شناسی و خدا شناسی کے سوتے اسی صحرا کے دامن سے پھوٹتے ہیں۔ آفتاب کا شیر اپنی کچھار میں جا چکا تھا۔ صحرا نے بھی اونٹ کی طرح اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔ تمام پوتے دادا دادی کے گرد جمع تھے اور یہاں کی روایت کے مطابق بچے رات سونے سے پہلے کہانی نانی یا دادی سے سُن کر سوتے تھے۔ دادی نے پہلے سب کو دودھ لا کر دیا اور پھر کہانی سنانا شروع کی۔ تمام پوتے غور سے سننے لگے۔ بیٹا یہ ایک چولستانی لوک کہانی ہے۔

ایک بڑھیا تنور تپائے مکئی کے دانے بھون رہی تھی، پاس ہی درخت پر ایک کوا تاک لگائے بیٹھا تھا۔ جونہی بڑھیا کی نظریں ٹوکری سے ہٹیں، کوا تیزی سے لپکا اور ٹوکری سے ایک بھنا ہوا دانہ اُٹھا کر درخت پر جا بیٹھا۔ بڑھیا کوے کی حرکت دیکھ کر آگ بگولا ہو گئی۔ اُس نے کوے سے کہا میرا بھنا دانہ لوٹا دے۔ اپنی بات منوانے کے لیے منت سماجت بھی کی مگر کوا نہ مانا۔ بولا نہیں لوٹاتا کر لے میرا کیاکرنا ہے۔ اس پر بُڑھیا کو بہت غصہ آیا، وہ درخت کے پاس گئی، کہنے لگی اے درخت! اے درخت! میرا کہا مان اپنی شاخوں کو زور زور سے ہلا،کوے کو اُڑا دے بیٹھنے نہ دے ”میں کوے کو کیوں اُڑانے لگا“، درخت نے جواب دیا، بھلااس نے میرا کیا بگاڑا ہے؟ بڑھیا درخت سے بھی بگڑ گئی، کہنے لگی اے ترکھان، اے ترکھان درخت میرا کہنا نہیں مانتا، ابھی چل اور اس کو کاٹ۔ ترکھان بولا میں کیوں درخت کو کاٹوں؟ بھلا اس نے میرا کیا بگاڑا ہے؟
”دادو! یہ درخت اور کوے بھلا انسانوں سے کیسے بات کر لیتے ہیں؟ میرے ساتھ تو نہیں بولتے۔“چھوٹے پوتے نے سوال کیا۔

دادی اور دادا مسکرائے۔ دادا بولا پُتر کائنات کی ہر شے بولتی، سُنتی اور محسوس کرتی ہے، صرف انسان بے حس اور خود غرض ہے جو اپنے مفاد کے سوا گونگا، بہرہ اور اندھا ہو جاتا ہے۔ دادی نے کہانی جاری رکھی۔

”اب کیا تھا بڑھیا کا پارہ اور بھی بڑھ گیا سیدھی کوتوال کے پاس پہنچی، بولی کوتوال، کوتوال ترکھان کو قید کر لے وہ درخت نہی کاٹتا کوتوال نے کہا ”بی بڑھیا! ترکھان نے کوئی جُرم کیا ہو تو میں اُس کو قید کروں بلا وجہ ایسا نہ کروں گا۔“ یہ سُن کر بڑھیا کا غصہ اور بھڑکا ”تیرا کچھ نہ رہے“ بڑھیا نے غصے میں کہا ”ابھی میں بادشاہ سے کہہ کر تیری نوکری ختم کرواتی ہوں“ بڑھیا شاہی دربار پہنچی اور کوتوال کے خلاف فریاد کی۔ بادشاہ نے بڑھیا کو اُلٹا ڈانٹ پلادی بادشاہ نے کہا ”جب تک کوتوال اپنے کام ٹھیک ٹھاک کرتا ہے میں اُسے نوکری سے کیوں نکالوں؟“

بڑھیا اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی، سوچنے لگی اب کیا کروں؟ کیوں نہ محل کے اندر جا کر ملکہ کو لگائی بجھائی کروں؟ یہ خیال آتے ہی وہ محل کے اندر پہنچی اور رو رو کر اپنی روئیداد ملکہ کو سنائی۔ بولی ”اے ملکہ اے ملکہ تم بادشاہ سے روٹھ جاؤ کیونکہ اُس نے میری فریاد نہیں سُنی۔“ دیوانی ہو گئی ہو کیا ملکہ نے کڑک کر جواب دیا، اپنے سرتاج سے بھلا میں کیوں روٹھ جاؤں؟ فسادن بڑھیا جا اور جا کر اپنا کام کر کیوں پھِرتی ہے ادھر اُدھر آگ لگاتی؟“اب کیا تھا بڑھیا کی ہمت جواب دینے لگی لیکن وہ ہمت ہارنے والی نہ تھی۔ وہ ملکہ سے بدلہ لینے کی راہ سوچنے لگی۔ آخر اس کو ایک راہ سمجھائی دی، سیدھی دریا کے پاس پہنچی اور رو رو کر اپنی دُکھ بھری کہانی سنائی۔

اے دریا تو مجھ دُکھیا کی مدد کر، اپنا رُخ ملکہ کے محل کی طرف موڑ لے تاکہ ملکہ کا محل غرق ہو جائے۔“
”پھر دریا نے کیا کہا؟“ منجھلے پوتے نے بے چینی سے پوچھا۔

”سب سے بڑا ظرف اور دل فطرت کا ہوتا ہے بیٹا اور دریا قانونِ فطرت پر چلتے ہیں۔ یہ سب کو سیراب کرتے کرتے چلتے جاتے ہیں۔ مخلوق کی خدمت کرتے جاتے ہیں مگر صلہ لینے کے لیے رُکتے نہیں ان کی منزل سمندر ہوتی ہے۔ جہدِ مسلسل اور ”مرکز“ کی طرف سفر شاید یہ سبق ہمارے لئے بھی ہے۔

دادو نے کہانی جاری رکھی۔ ”بڑھیا کی فریاد سُن کر دریا کا دل پسیج گیا۔ دریا نے اپنا رُخ بدل لیا، دیکھتے ہی دیکھتے دریا کا پانی شاہی محل کی طرف بڑھنے لگا، ملکہ نے جب طوفانی موجوں کو محل کی طرف بڑھتے دیکھا تو سمجھ گئی کہ یہ بڑھیا کی بد دُعا کا اثر ہو گا۔ اُس نے جھٹ سے بڑھیاکو بلا کر کہا ”میں تیرے کہے کے مطابق بادشاہ سے روٹھ جاؤں گی، خدا کے لیے دریا کو روک دے وہ میرا محل تباہ نہ کرے۔“

بادشاہ کو ملکہ کے ارادے کی خبر ہوئی تو وہ بولا ”رانی۔ رانی مجھ سے نہ روٹھ میں ابھی کوتوال کو نوکری سے نکالتا ہوں۔“ کوتوال نے سُنا تو اُسے اپنی جان کے لالے پڑ گئے بولا ”میں ابھی ترکھان کو قید کرتا ہوں، بادشاہ کے غضب سے مجھے بچا۔“ ترکھان کو خبر ہوئی ”اُس نے کہا میں ابھی درخت کو کاٹتا ہوں مجھے حوالات میں بند نہ کر۔“ درخت یہ ماجرا دیکھ کر چلا اُٹھا ”میں ابھی کوے کو اُڑتا ہوں مجھے کاٹو نہیں۔“ یہ دیکھ کر کوا بولا ”مجھے نہ اُڑا، میں ابھی بھُنا ہوا دانہ لوٹاتا ہوں۔“ کوے نے بھنا ہوا دانہ اُٹھا کر بڑھیا کی ٹوکری میں ڈال دیا یوں یہ چولستان کی ایک لوک کہانی اختتام کو پہنچتی ہے۔

تمام بچے خوش ہو گئے تھے۔ دادو آپ دونوں گریٹ ہیں۔ ابو بھی آپ دونوں کو بہت چاہتے ہیں۔ رحمت اللہ بلوچ نے اپنے پوتوں کی طرف دیکھا، اپنی آنکھوں میں لرزتے ہوئے موتیوں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کیا اور بولا کسی کی ذات سے انکار کر کے اور اُس کے وجود کو مسمار کر کے چاہا بھی جائے تو کیا حاصل کیا؟ آؤ بچو میں بھی تمھیں ایک کہانی سُناتا ہوں۔ یہ کہانی ایک اُداس، حیران خالی چارپائی کی کہانی ہے۔ بیٹا ہم سب کہانیوں میں رہتے ہیں، اِن سے نکلنے کا واحد راستہ انجام ہے۔

صحرائے چولستان کا ایک چرواہا تھا۔ اُس کے ہاں تین بیٹے پیدا ہوئے۔ اُس نے دن رات محنت کر کے اُن کو پالا اور پڑھایا لکھایا، خود روکھی سوکھی کھائی، فاقے کئے مگر اُن کو تعلیم دلائی۔ ماں باپ چاہتے تھے وہ جوان ہو کر اُن کے بڑھاپے کا سہارا بنیں مگر وہ پڑھ لکھ کر امریکہ چلے گئے۔ ماں باپ اُن کی راہ تکتے رہتے تھے مگر وہ کبھی نہ لوٹے پھر بچوں نے ماں باپ کو بھی امریکہ بلا لیا مگر وہ لوٹ آئے۔ اب بھی وہ کبھی کبھی امریکہ آتے جاتے رہتے ہیں گاؤں والے سمجھتے تھے کہ یہ دونوں بہت خوش قسمت ہیں۔ اُن کے بچے باہر خوشحال زندگی گزا رہے ہیں۔ مگر وہ چرواہا جانتا تھا کہ وہ جب تک ملک سے باہر رہیں گے، سفر میں رہیں گے، صحرا نشینوں کا قول ہے کہ سفر انسان کا دشمن ہے۔ اُسے جتنی جلدی ممکن ہو ختم کر دینا چاہیے مگر اُس کے بچے دُنیا کی بھیڑ میں گم ہو گئے تھے۔ یہ ہجوم طاقت تو دیتا ہے مگر شناخت چھین لیتا ہے۔ صحرا کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ شناخت دیتا ہے۔ میرے بچو جب عمر ڈھل جاتی ہے تو ماں باپ زندگی کی آکسیجن نظروں کے سامنے رہنے والے بچوں سے لیتے ہیں۔ انسان جب عمر کے دھاگے میں اپنے زخم پروتا ہے تو اولاد کی جدائی کے درد کو سب سے پہلے پروتا ہے کیونکہ صحرا نشینوں کو قول ہے صحرا کا بھولا کبھی گھر نہیں آتا جب انسان صرف اپنی ذات کے لیے جینے کے سرطان میں مبتلا ہو جائے اور احساس کے منصور کو سولی پر چڑھاوے تو دوستوں کی محفل میں بھی شب ہجراں کا گُمان ہونے لگتا ہے۔ والدین امریکہ اپنے بچوں سے ملنے جاتے اور اُن سے شبنمی آنکھوں سے ملک واپس پلٹ آنے کی التجا کرتے اور اُن سے کہتے بیٹا ماں باپ کی زندگی صرف بچوں سے ہوتی ہے۔ اولاد کی جدائی میں ماں باپ قبر میں پڑی اُس کی لاش کی طرح ہوتے ہیں جو اپنی تھکن کاٹ رہی ہو۔ مگر اُن کے بیٹے ملک واپس آنے سے مکمل گریزاں تھے۔ والدین کچھ عرصہ اُن کے ہاں گزارتے اور پھر چولستان اور اپنے ملک کی صدا نہیں واپس لے آتی۔ گاؤں والے اور عزیز و اقارب انھیں خوش اور نصیبوں والے سمجھتے تھے مگر وہ دونوں یہ جانتے تھے کہ وہ اُس خالی چارپائی کی طرح بے وقعت اور بے فائدہ تھے جو میت کو دفنانے کے بعد قبرستان سے کسی ملازم کے ہاتھ واپس گھر پہنچا دی جاتی ہے۔ تمام بچے خاموشی اور غور سے دادا سے کہانی سُن رہے تھے۔ رحمت اللہ بلوچ اور اُس کی بیوی وسائی مئی کی آنکھوں کے ”ٹوبھے“ تالاب بن چکے تھے۔ بڑے پوتے نے اپنے دونوں چچا زاد بھائیوں کے کانوں میں سرگوشی کی۔ ارے یہ تو داد کی اپنی ہی کہانی ہے۔

یہ بھی چیک کریں

جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل:نواز شریف کی سزا کے خلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

نیب کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد نواز شریف نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے