ہوم / تازہ ترین / نواز شریف کو باہر بھیجنے کی اسٹیبلشمنٹ کی کوششیں آخر رنگ لے آئیں،اگلے چند دن میں چلے جائیں گے

نواز شریف کو باہر بھیجنے کی اسٹیبلشمنٹ کی کوششیں آخر رنگ لے آئیں،اگلے چند دن میں چلے جائیں گے

میاں نواز شریف گزشتہ چھ ماہ سے شدید بیمار تھے اور اسٹیبلشمنٹ خوفزدہ تھی ایک اور وزیراعظم کے قتل کا الزام نہ لگ جائے

علاج کے لئیے میاں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کو ڈیل کہنے والے پہلے بتائیں اگر یہ ڈیل ہے تو مر جانے تک ڈیل نہ دینے کے دعوے کہاں گئے

کہا جارہا ہے میاں نواز شریف اگلے تین سے چار دن میں علاج کی غرض سے بیرون ملک روانہ ہوجائیں گے۔ میاں نواز شریف کے جانے کے چند بعد اپنے ان کی صاحبزادی مریم نواز  والد کی تمیارداری کی اجازت ملنے پر بیرون ملک چلی جائیں گی۔ میاں نواز شریف کا نام اگلے چوبیس گھنٹوں میں ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا۔ نواز شریف کے ہمراہ میاں شہباز شریف بھی جائیں گے۔میاں نواز شریف جو کافی غرصے سے جیل میں شدید علیل تھے اور جنہوں نے پنجاب حکومت کے شدید اصرار کے باوجود جیل سے ہسپتال جاکر علاج کرانے سے یکسر انکار کردیا تھا اور انکی یہ بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے میاں شہباز شریف کو درمیان میں لاکر میاں برادران کی والدہ کے ذریعے میاں نواز شریف کو ہسپتال منتقل کیا تھا۔ ڈاکٹروں نے انکی حاکت دیکھ کر ہی اُس وقت بیرون ملک لے جانے کو مشورہ دیدیا تھا۔ تاہم ایک بار پھر میاں نواز شریف نے علاج کی غرض سے بھی بیرون ملک جانے سے یہ کہ کر انکار کردیا تھا کہ وہ عوام کو یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ وہ دوبارہ پھر ڈیل کے ذریعے ملک سے فرار ہوگئے ہیں۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ جو میاں نواز شریف کی حالت کے پیش نظر گذشتہ چھ ماہ سے کوشش کررہی تھی کہ میاں نواز شریف کو بیرون ملک بھیج کر نہ صرف ایک طرف میاں نواز شریف کے ساتھ ہونے والے کسی حادثے کی ذمہ داری سے محفوظ رہنا چاہتی تھی تو دوسری طرف اس کا خیال تھا میاں نواز شریف کے ملک سے چلے جانے کی صورت میں ملک میں موجود سیاسی افراتفری میں بھی کمی واقع ہوگی اور خان حکومت کو کام کرنے کا موقع بھی مل سکے گا جس کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے میاں شہباز شریف کو رضا مند کرلیا تھا تاہم جہاں ایک طرف میاں نواز شریف ملک سے باہر جانے پر رضا مند نہیں تھے تو دوسری طرف وزیراعظم عمران خان بھی میاں نواز شریف کو ملک سے باہر  نکالنے کے حق میں نہیں تھے۔ مگر جوں جوں میاں نواز شریف کی حالت بگڑتی جارہی تھی وہیں اسٹیبلشمنٹ کا میاں شہباز شریف اور انکے خاندان پر دباؤ بڑھتا جارہا تھا کہ وہ میاں نوازشریف کو علاج کی غرض سے باہر جانے پر رضا مند کریں۔ دوسری طرف عمران خان پر بھی میاں صاحب کو ملک سے باہر جانے دینے کی اجازت دینے پر مجبور کیا جارہا تھا۔ مقتدر حلقوں کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس امر سے شدید خوف ذدہ تھی کہ اگر میاں نواز شریف کو جیل میں کچھ ہوگیا تو اس پر ملک کے تیسرے وزیراعظم کو بھی قتل کرنے کا الزام لگے گا۔ یاد رہے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے ساتھ محترمہ بے نظیر بھٹو کی حفاظت نہ کرنے کے باعث قتل ہونے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ جبکہ ایک اور وزیراعظم زوالفقار علی بھٹو کو عدالت کے ذریعے پھانسی کی سزا دلوا کر قتل کرنے کا الزام بھی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر عائد کیا جاتا ہے۔

یہاں دلچسپ امر یہ بھی ہے ایک طرف پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میاں نواز کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کے لئیے ہر ممکن کوششوں میں مصروف تھی اور جب اسے اندازہ ہوگیا کہ میاں نواز شریف کے خاندان کو یقین ہوگیا ہے اگر میاں نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک نہ لے جایا گیا تو انکی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ نے میڈیا میں موجود اپنے ایجنٹوں کے ذریعے یہ خبر پھیلا دی میاں نواز شریف لوٹی ہوئی رقم میں سے ایک بھاری رقم دیکرسیاست سے کنارہ کش ہوکر  ملک چھوڑ کر جانے پر تیار ہوگئے ہیں۔ ادھر مسلم لیگ ن کے اہم ذمہ دار ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ کے قائد نہ جیل سے آکر علاج پر تیار تھے نہ انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنی ضمانت کی درخواست دی تھی۔ یہ درخواست میاں شہباز شریف کے ذریعے دلوائی گئی تھی۔ مسلم لیگی ذرئع کہتے ہیں میاں صاحب کی صحت شدید خراب ہے اور وہ بیرون ملک جاکر اگر صحت مند ہوگئے تب بھی وہ واپس لوٹیں گے اور خدانخواستہ انھیں کچھ ہوگیا تب بھی وہ اپنی زمین میں اپنے آبائی قبرستان میں اپنے والد اور اپنی اہلیہ کی قبروں کے درمیان رہنا پسند کریں گے۔ یہ ذرائع کہتے ہیں ہمیں معلوم ہے میاں صاحب کے جانے کے بعد  حکومت کیا پروپگنڈہ کرے گی ۔۔؟مگر پروپگنڈہ کرنے والوں کو پہلے اپنے دعووٗں وعدوں پر غور کرنا ہوگا کہ اگر میاں صاحب کسی ڈیل کے نتیجے میں ہی جارہے ہیں تو یہ نعرہ لگانے والے قوم کو کیا جواب دیں “جب تک زندہ ہوں این آر او نہیں دوں گا “۔ مسلم لیگ کے یہ ذرائع کہتے ہیں میاں شہباز شریف بھی جانتے ہیں اور مریم نواز بھی جانتی ہیں  موجود سیاسی حالات میں کسی این آر او کے ذریعے ملک سے باہر جانے کا مطلب ہوگا میاں خاندان نے اجتماعی طور پر سیاسی خودکشی کرلی ہے۔انھیں معلوم ہے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت لانے والے بھی اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں اور عوام بھی حکومت کی نااہلی کے باعث اضطراب کا شکار ہیں۔ اس حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں ایک ایسے وقت میں جب ملک کا سیاسی منظر صاف پڑھا جاسکتا ہے اس موقع پر ڈیل کرکے جانا ایک بڑی سیاسی حماقت کے سوا کچھ نہیں سمجھا جائے گا۔ ادھر میاں نواز شریف کو جیل سے ضمانت پر رہا کرکے علاج کی غرض سے بیرون ملک روانہ کرنے پر ملک کے دانشور حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔ کیا انسانی تاریخ میں کسی مجرم کو جیل سے رہا کرکے علاج کی غرض سے بیرون ملک روانہ کرنے کی کوئ نظیر ملتی ہے ؟ دانشوروں کے حلقوں میں کہا جارہا ہے  کہنے والوں نے بہت پہلے کہ دیا تھا پاکستانی ریاست کا مشکوک عدالتی نظام اور کمزور ہوتا ریاستی ڈھانچہ اور سیاسی انتشار نواز شریف جیسے سیاست دان کو سزا سنا بھی دے تو جیل میں رکھنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اور اگر ایسا کیا گیا اور بعد ازاں انھیں تمام ملکی قوانین توڑ کر رہا کرنا پڑا تو عوام میں پہلے سے موجود احساس محرومی نہ صرف بڑھے گا بلکہ ریاست سے عوام کی بیزاری و مایوسی میں بھی اضافہ ہوگا۔

یہ بھی چیک کریں

امریکہ کے ایک اسپتال میں پہلی بار دونوں پھیپھڑوں کی ایک ساتھ پیوندکاری

امریکہ کے ایک اسپتال میں پہلی بار ایک ساتھ دونوں پھپھڑوں کی ٹرانسپلانٹ کا آپریشن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے