ہوم / تازہ ترین / ڈیزل سے میرا پیار محبت

ڈیزل سے میرا پیار محبت

تحریر: نذر محمد چوہان (نیو جرسی)

مجھ سے روزانہ ایک ہی بلاگ لکھا جاتا ہے۔ ایک دن انگریزی میں لکھتا ہوں۔ کچھ امریکی دانشوروں سے متھا لگایا ہوا ہے ایک دن اردو میں سیاست پر۔ کل بہت سارے لوگوں نے میرے فضل الرحمان کو سپورٹ کرنے پر ایسے احتجاج کیا جیسا میں نے کوئی اور مذہب قبول کر لیا ہے۔ میرے جیسے لکھاریوں کو ہمیشہ یہ دَکھ رہے گا کہ کاش ہمیں زندہ رہتے ہوئے سمجھا جائے۔ ہمیں سمجھا ہی نہیں گیا اور مزید ذلالت کہ جب ہمارے مرنے کے بعد سعادت حسن منٹو کی طرح سمجھا جائے گا تو پَوجا پاٹ شروع ہو گی۔ اس طرح کے عمل پر در فٹے منہ۔ میں تو ہمیشہ کردار پر بہت زیادہ زور دیتا ہوں۔

زندگی ایک بہاؤ کا نام ہے، مسلسل تبدیلی۔جی صرف تبدیلی کو تغیر ہے زمانے میں۔ ہم اپنے پلیت جسموں میں جو روح لیے بیٹھے ہیں اس کا نہ تو کوئی مذہب ہے اور نہ ہی رنگ و بَود۔ وہ صرف اور صرف پیار محبت کا نام ہے اور جذبہ شکر گزاری کا۔ باقی سارا تو مادہ پرستی کا دنیاوی کھیل ہے۔ وہ لکھاری بہت ہی فضول اور بیکار ہوتے ہیں جو اپنے عقائد یا فلسفہ کو اعمال کی کسوٹی پر نہیں تلُوا سکتے۔

اعظم سواتی ایک پاکستانی لٹیرا سیاستدان یہاں امریکہ میں رہتا تھا  سیلیکون ویلی کے اربوں ڈالر کھا گیا۔ پہلے اسے مولانا فضل الرحمان نے پناہ دیئے رکھی اور آجکل عمران خان دے رہا ہے۔ عمران خان کسی سے مالی مدد لے رہا ہے اور کسی سے جسمانی۔ بالکل فضل الرحمان ڈیزل کی طرح۔ آج ایک ٹنل / سُرنگ کا نام مراد سعید رکھ دیا گیا ۔ واہ واہ۔

میں نے جب 2011 میں شہباز شریف کی حکومت سے نوکری چھوڑی تو نواز لیگ اور ان سب کو زبردست رگڑا دیا ۔ لیپ ٹاپ چین سے سترہ ہزار پر دینے کی آفر لگائی۔ لیکن جب عمران خان کی حکومت آئی اور اس نے بھی وہی کام شروع کر دیا تو سوائے ان کو رگڑنے کے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ لوگوں نے کہا کیا آپ نے ن لیگ جوائن کر لی ہے؟ کمال کی کم عقلی ہے۔ بھئی ابھی حکومت عمران خان کی ہے ۔ میری ن لیگ یا شریف برادران سے کوئی زاتی لڑائی نہیں۔ وہ تو آج بھی میری تعریف کرتے ہیں اتنی تنقید کے باوجود ۔

اسی طرح فوج کے ساتھ میری صرف تین سال محبت رہی۔ جب میں نے نیب سے جنرل صابر کے ساتھ ملکر ایک بہت طاقتور کواپریٹو مافیا کا قلع قمع کیا۔ جب بریگیڈئیر اعجاز اور پرویز الہی میرے اور جنرل صابر پر بھاری ہو گئے تو مجھے نوکری اور جنرل صابر کو نیب چھوڑنی پڑی۔ آج وہی جنرل مشرف کی ناک کا بال عمران خان کا گیسٹاپوُ ہے۔ اللہ اکبر

وہ اشخاص جو بکتے نہیں اور پیسہ نہیں لیتے جذباتی طور پر سچ کے لیے چوبیس گھنٹے جنگ کے لیے تیار بیٹھے رہتے ہیں۔ ان کا نہ تو نظریہ ہوتا ہے نہ مذہب اور نہ ہی کوئی عقیدہ سوائے حُسینی رقص کے۔ ہم فقیر لوگ ہیں۔ ہمارا کسی نے کیا بگاڑنا۔ آج امریکہ نے پناہ دی ہوئی ہے کل کوئی اور ملک دے دے گا۔ ہم سے منافقت نہیں ہوتی۔ سچ پر کھڑے رہ کر مر جانا گوارہ ہے۔ حُسینی رقص سے یاد آیا کے میرا بہترین پاکستان میں دوست پیلے مفلر والا  صوفی رُستمانی ہے۔ اس نے مجھے کل ہی پاکستانی منافقت پر ایک تازہ واقعہ تحریر کیا۔ صوفی صاحب لکھتے ہیں۔

یہ مہاورہ تو سب نے سنا ہوگا

نیم حکیم جان کا خطرہ

نیم مولوی ایمان کا خطرہ

جناب تین دن کے لیے ضلع ٹنڈو الہ یار کسی کے چہلم پر گیا تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو کوئی اسی سے سو افراد مجھ سے پہلے موجود تھے۔ سب کے سر جھکے ہوئے اور ایک خاموشی طاری تھی۔ اور ہمارا ایک رشتہ دار حب علی شیعہ ذاکر کا کردار ادا کر رہا تھا۔ مجلس خاموش تھی۔ جب اس کی نظر اس فقیر پر پڑی تو اس کی گفتگو کے الفاظ آگے پیچھے ہونے لگے ایسے سمجھو بابلینگ کرنے لگ گیا۔ کیوں کہ میں اس ذاکر صاحب کو بہت خوب جانتا تھا کہ وہ کس کردار کا بندہ ہے۔ جو آج کل ذاکر بھی بن گیا ہے اور کراچی کے سائیڈ میں حب چوکی کی طرف رہتا ہے اور وہاں اس نے بہت سے پلاٹوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ ان پر تعمیرات کرکے ان کو کرایہ پر بھی چڑھا دیئے ہے۔ جو وہاں اس نے اپنا گھر تعمیر کیا ہے اس میں دو کمرے اپنی پیری مریدی کرکے تعویز گنڈے بھی دینے شروع کردیئے ہیں۔ ان میں ایک کمرہ ان نیک عورتوں کے لیے جو ساس اور شوہر کو زیر کرنے کے لیے شاید تعویذ لینے آتی ہیں یا شوہر سے چھٹکارہ چاہتی ہیں۔ دوسرا کمرہ ہے ان مردوں کے لیے جو دوسروں کی بہو بیٹیوں کا پھنسانے یا جہاں نوکری کرتے ہیں اپنے بوس کو اپنے اوپر مہربان ہونے کے لیے یا اپنی ترقی کے لیے آتے ہیں۔ مگر یہ بیوقوف دیتے تو اس فراڈیئے کو ہزاروں روپیے ہیں مگر کام کسی کا بھی نہیں ہوتا۔ اگر کسی کا کوئی کام اتفاقی نصیب سے ہوجائے تو وہ یہی سمجھتے ہیں یہ سب بابا کے تعویزوں اور دعائوں کی بدولت سے ہوا ہے۔ یہی اس کی تعریف اس پکھنڈی کی شاید شہرت کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ اس پکھنڈی بابا کی پہلی شادی اپنے ہی خاندان سے تھی مگر اس بیچاری کو اس ظالم نے نوکرانی کی حیثیت سے ہی رکھا تھا۔ یہ پہلے نواب شاہ میں رہتا تھا اس نے وہاں سے ایک انتہائی شریف انسان کی بیٹی کو بھگا کر کراچی لے گیا جو عیسائی تھی۔ لڑکی کے باپ نے بیٹی کے اغوا کا مقدمہ اس سمیت اس کے بھائیوں پر بھی درج کروایا جو اس کے بھائی کوئی کسی شوگر ملز میں مزدوری کرتا تھا تو کوئی کسی کاٹن مل میں وہ بیچارے بھی اس کی گناہوں کی وجہ سے پولیس کے ڈر سے روزگار سے بیروزگار ہوگئے۔ انہوں نے بھی وہ گھر وہ شہر چھوڑدیا جہاں ان کی روزی روٹی تھی۔ سب اپنے بڑے بھائی کے کرتوتوں کی وجہ سے بے گھر اور بیروزگار  ہوگئے تھے۔ جب بھی مجھے ملتا تھا تو میں اس کو لعنت ملامت کرتا تھا شاید یہی اس کی وجہ تھی جو مجھے دیکھ کر اس کا انداز گفتگو بھی بدل گیا تھا کہیں صوفی فقیر مجمعے میں ننگا نہ کردے  اس کے بعد ایک اور شیعہ مولوی صاحب نے موت پر اپنی تقریر شروع کردی۔ کہنے لگے ہم مسلمانوں میں 73 امتوں میں سے صرف تین فرقوں کا الگ الگ خیال ہے اور الگ نظریہ ہے مرنے کے بعد۔ ایک امت ہے اہل حدیث۔ وہ کہتے ہیں مرنے کے بعد بس کچھ بھی نہیں ہے نہ کوئی حساب نہ کوئی کتاب۔ مر گیا مردود نہ ختمہ نا درود  (یہ اس شیعہ مولوی کے الفاظ تھے) اور دوسری امت ہے اہل سنت جماعت والے۔ وہ کہتا ہے انسان مرنے کے بعد قبر میں ہی رہتا ہے اسے صرف قیامت کے دن ہی اٹھایا جائے گا وہ اس کے حساب کتاب کا دن ہوگا۔ تیسری امت ہم شیعہ ہیں ہم کہتے ہیں جس کا محبوب زندہ ہے وہ بھی زندہ ہے جو حضرت علی کو نہیں مانتا وہ مسلمان ہی نہیں ہے۔ مجھے اس کے کسی بات پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہوا اور اس کی بات سے اتفاق بھی نہیں کیا۔ مگر مجھے جس ایک جملے نے مجلس میں بولنے پر مجبور کیا وہ لفظ تھا ۔۔ امت ۔۔ کا میں نے کھڑے ہوکر با ادب ہاتھ جوڑکر کہا محترم فی الحال اپنی گفتگو کو وقتی طور پر یہیں روک لیں مجھے ایک بات کا جواب دیں۔ پھر اپنی گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ میرا وہی فقیری حلیہ گلے میں پیلا کپڑا (گیڑو کلر)۔ اس کو میری بات تو بری لگی تھی جو میں نے کہا فی الحال اپنی گفتگو کو یہیں روکیں۔ اس نے کہا کونسی بات کا آپ کو جواب چاہئیے ۔ ۔ میں نے کہا جناب ہر پیغمبر کو ایک ہی امت تھی جس میں نیک صالحین بھی تھے کچھ ایمان لانے کے بعد بھی نا فرمان رہے۔ جیسے ہم مسمان آج بھی امت تو ایک ہی ہیں لیکن کچھ فرمانبردار ہیں کچھ نافرمان ہیں۔ آپ نے یہ بات کیسے کہدی کہ اہل حدیث الگ امت ہیں جماعت اسلامی والے الگ اور شیعہ الگ امتی ہیں۔ اور بقول ان تینوں کے علاوہ ستر امتیں اور بھی ہیں۔ ہاں اگر آپ ایسے کہتے 73 فرقے ہیں تو میری آپ سے کوئی بحث نہیں ہے۔ کیا ہمارے 73 پیغمبر ہیں نعوذ باللہ ۔ آپ تو لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں ۔ کیا قرآن مجید میں کہیں ہے کہ ہماری 73 امتیں ہیں۔ آپ کے پاس کس جامع کی سند ہے۔ مولوی صاحب کو غصہ آگیا کہنے لگا تم ان منافقین میں سے ہو جو حضرت علی کو نہیں مانتے ہو تم عمر کے پیرو کار ہو تم مسلمان ہی نہیں ہو۔ میں نے کہا مولوی صاحب میں تو عمر کو بھی مانتا ہوں اور علی علی کرنے والا بھی ہوں۔ لیکن میں آپ کی معلومات میں اضافہ کرتا ہوں اگر کوئی فرقوں کی بنیاد پر علی کو نہیں مانتا تو آپ اس کو کافر نہیں کہہ سکتے اگر کوئی عمر کو نہیں مانتا تو وہ بھی کافر نہیں ہے ۔ مسلمان ہونے کی بنیاد ہے

اشہد ان الا لہ الا اللہ

و اشہد ان محمد رسول اللہ

بس میرا اتنا کہنا مولوی صاحب سیخ پا ہوگیا غصے سے اٹھ کر روانہ ہوگیا۔ ایسا ہی ایک نیم مولوی کا ایک اور واقعہ میرے ساتھ 1986 میں پیش آیا میں سعودی عرب میں 1986 میں اپنی والدہ کے ساتھ حج پر گیا تھا۔ وہاں مکہ میں میری والدہ کے دو بھتیجے رہائش پذیر تھے۔ جو میرے سگے ماموں زاد بھی تھے۔ ان میں ایک کہیں مزدوری کرتا تھا کسی کارخانے میں دوسرا کسی مسجد میں پیش امام تھا۔ سات ذوالحج کو ہم منیٰ میں پہنچ گئے تھے۔ ہمارے ساتھ میرے دونوں ماموں ماموں زاد بھی تھے۔ اس وقت وہاں صرف ریت اور گرم پہاڑ تھے۔ مگر آج والے منیٰ کی طرح وہ پرانا منیٰ نہیں تھا۔ آج کل درخت لگائے گئے ہیں گرمی کو کم کرنے کے لیے بڑے بڑے پانی کے پھوہارے لگائے گئے ہیں۔ بجلی کا انتظام ہے مگر اس وقت یہ مقدس زمین تو تھی جو آج بھی ہے مگر کوئی اور سہولت نہیں تھی۔ شدید گرمی ہوتی تھی جب احرام باندھا جاتا ہے تو آپ کو اپنے جسم سے ایک بال بھی کھینچ کر نکالنا نہیں ہے نہ کسی درخت کا پتہ توڑنا یہاں تک کہ ایک مکھی بھی نہیں ماروگے۔ اگر کسی سے بھول چُک میں ایسے کچھ ہوجائے تو آپ پر دم واجب ہوجاتا ہے یعنے قربانی کے علاوہ آپ کو وہیں منیٰ کی حدود میں ایک اور جانور ذبح کرنا ہوگا۔ یعنی 10 ذوالحج کو آپ دو جانور ذبح کرکے پھر آپ احرام اتار سکتے ہیں اگر دم پڑ گیا ہے  ورنہ صرف ایک ہی قربانی کی جائے گی۔ گرمیوں کے دن تھے میں نے اپنے سر پر پانی ڈالا پانی ڈالنے کے بعد مجھے یاد نہیں آیا میں نے گیلے بالوں میں کنگھی کردی کنگھی کرنے سے میرے کچھ بال گر گئے میں نے یہ بات اپنے ماموں زاد سے پوچھی جو پیش امام بھی تھے ۔ تو اس نے کہا آپ پر اب دم پڑ گیا ہے۔ 9 تاریخ کو وقوف عرفات کے بعد یہاں جب لوٹیں گے تو اب آپ کو دو جانور ذبح  ہوں گے ۔ ایک دم کا دوسرا قربانی کا۔ چلو جی ہم نے مولوی صاحب کے فیصلے کو تسلیم کیا کیونکہ میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور آپشن بھی نہیں تھا ۔ خدا کی قدرت کو دیکھیے جو میں نے کیا وہی کام اس مولوی صاحب کے چھوٹے بھائی نے بھی کردیا ۔ میں نے فتویٰ دینے والے مولوی صاحب کو کہا ابراھیم بھائی عبداللہ بھائی پر بھی دم واجب ہوگیا ہے۔ پہلے اس نے اپنے چھوٹے بھائی سے پوچھا اور کہا یہ تو نیا بندہ ہے اس کو تو پتہ نہیں تھا مگر بیوقوف تم تو یہاں سالوں سے رہتے ہو تجھے تو سب پتہ ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد مولوی صاحب نے اپنے چھوٹے بھائی کے لیے میرے والے فتوے سے ہٹ کر یہ فتویٰ صادر کیا کہ مجھے کہنے لگا آپ نے رمضان کے کچھ روزے مکہ پاک میں رکھے ہیں اور باقی روزے پاکستان میں رکھے تھے اس لیے تیرے پر دم واجب ہوگیا ہے۔ باقی عبداللہ نے تیس کے تیس روزے مکہ پاک میں رکھے ہیں اس پر چھوٹا سا دم پڑگیا ہے۔ میں نے پوچھا ابراھیم بھائی چھوٹے دم میں عبداللہ کو کیا کرنا ہوگا ۔ کہنے لگا اس نے اپنے تیس روزے مکہ پاک میں پورے کیے تھے یہ جب واپس مکہ جائے گا تو یہ وہاں حرم پاک میں کبوتروں کو دانہ ڈالے گا۔

میں نے اس کی یہ بات سنکر دل ہی دل میں کہنا لگا کہ جب اپنی باری آئی تو ایک گھنٹے میں فتویٰ بھی بدل گیا ایمان بھی بدل گیا۔ اللہ سے بھی دھوکہ واقعی ہم کسی بھی شعبے میں رہیں جب اپنے سر پر آئے تو اس کا حل بھی آسانی سے نکال لیتے ہیں۔ کیونکہ ہم پاکستانی ہیں ۔۔۔۔۔۔

گُل بُخاری ، رضا رُومی اور بہت سارے لبرلز کو بالکل نواز شریف کی طرح آجکل مولانا فضل اور اس کا سرکس بہت پسند ہے۔ نواز شریف، شہباز شریف اور زرداری جو بمشکل توبہ تائب ہو کر باہر جانے کو تیار ہو گئے ہیں گُل بخاری جیسوں کو زرا نہیں بھاہ رہے۔ وہ چاہتے ہیں کے سب فوج سے ٹکراؤ کریں ۔ 2008 میں  چوہدری برادران نے فضل الرحمان پر بہت بڑا احسان کیا۔ جب مولانا فضل الرحمان کو دل کے دورے سے بچایا۔ لاہور میں ڈاکؤوں کا “ڈاکٹر ہسپتال’’ چوہدریوں کے دور حکومت میں بہت پروان چڑھا۔ ڈاکٹر فائزہ اور اس کا خاوند دونوں ہی چوہدریوں کے مشیر رہے۔ ڈاکٹر فائزہ دن کو چیئرمین چائلڈ پروٹیکشن اور رات کو کوئی ایک سو بچہ اندرون شہر سے ڈاکٹر ہسپتال میں تصویر کھینچا کر صبح واپس ۔ پیسہ ہی پیسہ۔

آج وہی چوہدری برادران مولانا فضل اور فوج کے درمیان صُلح کروا رہے ہیں ۔ فواد چوہدری جو ان ہی چوہدریوں اور جیوڈیشری کا اس دور میں دلال تھا وہ بھی آجکل مولانا کے دھرنے پر سیخ پا ہے۔ عمران خان کا تو جانا طے پا ہی گیا ہے مسئلہ باجوہ کا پھنسا ہوا ہے۔ فوج اسے اپنی بے عزتی سمجھ رہی ہے۔ کل ایک کور کمانڈر نے کہا “سر جی مروا دتا تُسی “ ۔

جب میں نے اپنے اسکول فیلو ، دوست اور فیملی فرینڈ  جسٹس فرخ عرفان کے خلاف پاناما کی پاداش میں سپریم کورٹ میں مواخذہ کی درخواست ڈالی تو میرے کیتھڈرل اسکول کے دوستوں، فیملی اور فرینڈز میں ایک بھونچال آ گیا۔ نہ صرف مجھے پانچ ملین ڈالر آفر کیا گیا بلکہ انکاری پر بُرا بھلا ، لُچا لفنگا وغیرہ وغیرہ کہا گیا۔ مجھے آخرکار ملک چھوڑنا پڑا۔ یار رہے کہ اس پیٹیشن میں نہ تو عاصمہ جہانگیر میرے ساتھ شامل ہونے کو تیار ہوئیں اور نہ ہی عمر چیمہ جو اپنے آپ کو پاناما لیکس کا کنگ سمجھتا تھا۔ میں اپنے ضمیر کی آواز پر قائم رہا اور آخر جیت گیا ۔

مولانا نے فوج کو آڑھے ہاتھ لیکر میرا دل جیت لیا۔ جنرل شجاع پاشا کا دوست بریگیڈئیر مان آج بھی اشتہاری ہے۔ کل ہی ای میل کے ذریعے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے لیے میرا بیان ریکارڈ کیا۔ قربان جاؤں ایسے فرض شناس افسروں پر جو آج بھی سچ کی خاطر جان تک دینے کو تیار ہیں۔13 ارب روپے کے غبن کے نو پرچے میں نے کٹوائے تھے مان کے خلاف۔ جب شجاع پاشا حاضر سروس آئی ایس آئی کے چیف تھے ۔ یہ جو بیان میں نے ریکارڈ کروایا یہ خانیوال ملز کی اربوں کی جائیداد اونے پونے دینے پر مان کے خلاف پرچے کا ہے ۔ آج ہی میں اپنے ان دنوں کے جرنلسٹ دوست خالد مسعود کٹہرا والے کا کالم پڑھ رہا تھا جس نے وزیر اعلی عُثمان بُزدار کے رشتہ دار کو تین یونیورسٹیوں کے سینیٹ میں ممبر بنائے جانے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایسے میں اگر حسن نثار یہ نہ کہے کے اسے موت کیوں نہیں آ جاتی یہ سب کچھ دیکھ کر تو میرے جیسے کو تو ویسے ہی مر جانا چاہیے جو سوچ رہا تھا عمران خان آئے گا اور ملک درست جانب چل پڑے گا ۔

یہی سچ ہے ۔ یہی حقیقت ۔ جیتے رہیں ۔ میرا اپنی روح اور اپنی ضمیر کے علاوہ کسی سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا کوئہ سگا نہیں ۔ یہ پوری کائنات مجھ میں سموئی ہوئی ہے اور میں اُس میں ۔ اسی پر میں بہت خوش ہوں ۔ اللہ نگہبان ۔

یہ بھی چیک کریں

رباّ میرے حال دا محرم تُوں

تحریر: نذر محمد چوہان (نیوجرسی) ہر تہذیب اپنے ہی گند تلے آ کر تباہ ہوئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے