ہوم / بین الاقوامی / چین سے باہر کرونا وائرس کا پھیلاوٗ رُک گیا لیکن چین میں بڑھتی ہلاکتوں پر تشویش ہے، عالمی ادارہ صحت

چین سے باہر کرونا وائرس کا پھیلاوٗ رُک گیا لیکن چین میں بڑھتی ہلاکتوں پر تشویش ہے، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ چین سے باہر دیگر ممالک میں کرونا وائرس کی وبا میں تشویشناک پھیلاوٗ کا خطرہ ٹل گیا ہے تاہم چین میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر تشویش ہے۔ اب تک صرف جاپان کے بحری جہاز پر وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ مزید نئے 44 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 218 ہو گئی ہے۔ اب دنیا کے دیگر ممالک میں کرونا وائرس مدھم پڑ گیا ہے جو ایک مثبت اشارہ ہے۔ چین میں وائرس سے مزید 121 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جس کے بعد کرونا وائرس کی وبا سے مرنے والوں کی تعداد 1380 ہو چکی ہے۔ چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق ووہان اور ہوبئی میں مزید پانچ ہزار سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس طرح چین میں اب تک اس موذی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 55 ہزار 748 ہو چکی ہے۔ چین کا صوبہ ہوبئی کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے کیونکہ اس موذی وائرس نے یہیں سے جنم لیا تھا۔ ہوبئی میں جمعہ کو مزید 116 افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس طرح ہوبئی میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 823 ہو  گئی۔ عالمی ادارہ صحت کے ہیلتھ ایمرجنسیز پروگرام کے سربراہ مائیک ریان کے مطابق ہوبئی میں اس مرض کی تشخیص انتہائی پیچیدہ ہو چکی ہے۔ اب تک چین سے باہر صرف تین افراد وائرس سے متاثر ہو کر زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جس میں ایک شخص فلپائن اور ایک ہانگ کانگ میں جاں بحق ہوا تھا۔ جاپان نے بھی ایک 80 سالہ خاتون کے وائرس سے متاثر ہو کر جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ جاپانی میڈیا کے مطابق ٹوکیو کے مضافات میں رہنے والی خاتون کا چین کے سب سے متاثرہ صوبے ہوبئی سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اس کے باوجود خاتون وائرس سے متاثر ہو کر جاں بحق ہو گئی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے شمالی کوریا میں وائرس سے متاثرہ ایک شخص کی ہلاکت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ امریکہ نے عالی امدادری اداروں کے ذریعے شمالی کوریا کو مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ جاپان کے یوکوہاما ساحل پر لنگر انداز بحری جہاز کے تمام 3 ہزار 700 مسافروں کا ابھی تک ٹیسٹ مکمل نہیں ہوا ہے تاہم بحری جہاز کے متاثرہ افراد کو اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ جاپان نے ایسے تمام افراد جن کی عمریں 80 سال یا اس سے زیادہ ہیں اور ان کے کرونا وائرس ٹیسٹ نیگیٹو آئے ہیں انہیں بحری جہاز ڈائمنڈ پرنسیس سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم جہاز سے باہر آنے والے تمام مسافروں کو حکومت کی طرف سے فراہم کی گئی خصوصی رہائش گاہوں میں قرنطینہ کیلئے رکھا جائے گا۔ ایک دوسرا مسافر بحری جہاز ایم ایس ویسٹر ڈیم اس وقت کمبوڈیا کے ساحل پر کھڑا ہے جس میں 2000 مسافر سوار ہیں۔ ادھر وہائٹ ہاوٗس کے اکنامک ایڈوائزر لیرے کوڈ لو نے امریکہ میں وائرس کے نئے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے چین کی حکومت کی شفافیت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ چین امریکہ کو اس بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کر رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے چین کی طرف سے امریکی ماہرین کی خدمات نہ لینے کے فیصلے پر مایوسی ظاہر کی ہے۔

passenger on diamond princess cruise ship

یہ بھی چیک کریں

بھارت میں گائے کے پیشاب اور گوبر سے کورونا کے علاج پر دنیا بھر میں مذاق بن گیا

بھارت میں گائے کے پیشاب اور گوبر سے کورونا وائرس کے علاج پر بھارتیوں کا …

ایشیائی ممالک کو وائرس کے دوسرے حملے کے چیلنج کا سامنا

جنوبی کوریا، سنگاپور اور چین کورونا وائرس کے دوسرے مرحلے کے حملے  کیلئے کیا تیاریاں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے