ہوم / بین الاقوامی / شہریت کے متنازعہ بل پر ہنگامے، آسام فوج کے حوالے

شہریت کے متنازعہ بل پر ہنگامے، آسام فوج کے حوالے

مودی حکومت نے مذہب کی بنیاد پر شہریت کے نئے قانون کے خلاف شمال مشرقی ریاست آسام جاری پُرتشدد ہنگاموں اور فسادات کو روکنے کیلئے فوج طلب کر لی۔ آسام کے بڑے اضلاع میں ہنگاموں کے باعث ریاستی حکومت نے کرفیو نافذ کیا ہے لیکن عوام کی طرف سے پُرتشدد احتجاج جاری ہے جس کو روکنے کیلئے فوج طلب کر لی گئی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندی مودی نے آسام کے شہریوں کو پُرامن رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آسام میں ہنگاموں اور بلوے کے باعث مواصلات کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ ٹرینیں بند ہیں۔ بسوں کے اڈے ویران ہیں اور سڑکیں سنسان پڑی ہیں۔ مودی حکومت نے افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے غیر مسلموں کیلئے مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کا قانون پاس کیا ہے۔ اس قانون سے سب سے زیادہ آسام کی ریاست متاثر ہو گی جہاں لاکھوں کی تعداد میں بنگلہ دیش سے آئے ہندو پناہ گزین مہاجرین کیمپوں میں آباد ہیں۔ دوسری طرف تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکومت کا منصوبہ یہ ہے کہ نئے آنے والے شہریوں کو مسلمانوں کی آبادی والے علاقے میں بسایا جائے گا تاکہ مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی آواز کو کمزور کیا جا سکے اور انہیں تتر بتر کیا جا سکے۔ آسام میں تین دن سے ہنگامے اور احتجاج جاری ہے۔ کل بھی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کی اور آنسو گیس استعمال کی۔ پُرتشدد مظاہرے میں اب تک کئی لوگ زخمی ہو چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے