ہوم / تازہ ترین / چمن اُداس ہے یارو،صبا سے کچھ تو کہو

چمن اُداس ہے یارو،صبا سے کچھ تو کہو

قسط نمبر: 2

تحریر: آفاق فاروقی

ہم دونوں بہت دیر اطراف کے نظاروں اور سحر انگیز مناظر میں کھوئے رہے تھے۔ وہ میرا دوست جس کی جولانیت کبھی مشہور ہی نہیں محفلوں کی جان بھی ہوا کرتی تھی۔ جس کے چہرے پر اب اُس لاپرواہی، بے فکری اور زندہ دلی کے آثار و نشان جیسے قصہ کہانی بن چکے تھے۔ اسے ان مناظر اور ماحول کی خوبصورتی میں گُم مسکراتے اور خوش ہوتے دیکھ کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ ماحول کا انسانوں پر کتنا گہرا اور دیرپا اثر ہوتا ہے۔ اگر آپ کے اطراف کے مناظر خوبصورت ہوں، فضاؤں میں شفافیت اور نگاہ دور تک صاف اور واضح دیکھنے کے قابل ہو اور قدموں تلے زمین کا چہرہ بچوں کے چہروں جیسا صاف دھلا ہوا ہو، گندگی اور غلاظت سے پاک ہو تو انسان بہت سی مشکلات میں گھرا ہونے کے باوجود بھی مسکرانے اور خوش ہونے پر قادر ہوجاتا ہے۔اس وقت میرے دوست کی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی۔ یہ میرا دوست جو پاکستان میں کبھی طلبا سیاست کے ساتھ صحافت میں بھی مذہبی نظریات کے ان چند اہم افراد میں شمار کیا جاتا تھا جنکی صداقت، ایمانداری اور دیانت کی مثال بائیں بازو کے ان طبقات میں بھی فخر یہ دی جاتی تھی جو بظاہر فرد کی آزادیوں اور انسانی حقوق کی سربلندی کے قائل تھے اور مذہب کو ان آزادیوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ تصور کرتے تھے۔ مگر ان کی ذات میں وہ کچھ بھی تو نہیں تھا جس کی مثال میرا یہ دوست تھا۔ گو کہ میرے نظریات بھی میرے دوست کے نظریات سے یکسر مختلف و متضاد تھے اور آج بھی ہیں مگر اس تضاد کے باوجود ہماری دوستی مثالی ہی نہیں اطراف کے لوگوں کے لیے باعث حیرت بھی رہی ہے۔میں اپنے اس دوست کو چھوٹا اللہ میاں کہ کر تنگ کیا کرتا تھا۔جو ہمیشہ دوسروں کے کام آتا، رات کے چار بجے ہوں یا سردی، گرمی اور بارش کا کیسا ہی سخت موسم ہو وہ دوسروں کی مدد کے لیے ہمیشہ، ہر جگہ اور  ہر وقت ہر شخص کے لیے موجود نظر آتا۔مگر اپنے لیے کبھی کسی سے کچھ کہتے کچھ مانگتے نہ کبھی کسی نے دیکھا اور نہ ہی سنا۔ مجھے زندگی بھر یہ فخر رہے گا وہ میرا دوست ہے۔ ابھی چند سالوں پہلے کی بات ہے وہ ایک دن بالکل اچانک نیویارک پہنچ گیا اور میرے اور اپنے ایک مشترکہ دوست کے گھر سے مجھے فون کیا اور کہا “ جلدی پہنچو بس تم سے فوراً ملنا ہے۔ ایک تو تم شہر سے اتنی دور رہتے ہو کہ کوئی مسافر کم از کم تم تک فوراً نہیں پہنچ سکتا۔ پھر اپنے مخصوص شرارتی لہجے میں بولا ڈالر خرچ ہوتے ہیں ناں بھائی پاکستانی روپے میں ڈالر تبدیل کرکے حساب لگاؤ تو ہم جیسے غریب آدمی کا تو دم ہی نکل جاتا ہے۔

میں اس سے ملنے اپنے اور اس کے مشترکہ دوست کے گھر پہنچا تو وہ جانے کیوں بہت دیر تک مجھے بس گھورتا ہی رہا۔ اپنی ہر بات کا جواب دیتے ہوئے وہ میری آنکھوں میں براہ راست دیکھتا بالکل ایسے جیسے نوکری کے امیدوار کا انٹرویو لینے والے بورڈ کے اراکین اعتماد چیک کرنے کے لیے امیدوار کے چہرے کے تاثرات چیک کرتے ہوئے براہ راست اسکے چہرے کو دیکھتے ہوئے اسکی آنکھوں میں بھی دیکھتے ہیں۔

پھر ملاقات کے کسی مرحلے میں اس نے بالکل اچانک ہی پوچھا تھا تو اتنا پریشان کیوں ہے؟ بالکل نہیں میں تو بالکل بھی پریشان نہیں۔میں اس کے اچانک کیے جانے والے حملے پر گڑبڑا سا گیا تھا۔ ارے تو یہ کہنا چاہتا ہے امریکہ میں رہنے والے پریشان نہیں ہوتے؟ اور پریشانیاں ہم پاکستانیوں کا ہی مقدر ہیں؟۔ وہ شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ طنزیہ لہجے میں بولا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں اسے جواب دیتا  وہ دوبارہ بولا مگر اس بار اس کا لہجہ انتہائی سنجیدہ اور چہرے پر متانت تھی۔ میرے لیے پیار اور چاہ کے سارے رنگ بھی صاف بکھرے پھیلے اس کے چہرے پر دیکھے جاسکتے تھے۔ دیکھ بے میں صرف تیرے لیے یہاں آیا ہوں کیونکہ میں نے دو دن خواب میں مسلسل تجھے پریشان ہی نہیں بہت پریشان دیکھا ہے۔ اور مجھے پتہ ہے یہاں تیرا کوئی ایسا دوست نہیں جس سے تو اپنی پریشانی یا دکھ شئیر کرسکے۔ چل جلدی سے بتا کیا مسئلہ ہے۔ اسکی باتیں سن کر کچھ دیر کے لیے تو میں سکتے میں آگیا تھا۔وہ بالکل درست اور ٹھیک بات کہہ رہا تھا۔میں ان دنوں واقعی بہت پریشان تھا۔ پھر میں نے اسے پریشانی کی وجہ بتائی تو وہ دھمیے سے مسکرایا اور کہنے لگا بات تو پریشانی کی ہے مگر ایسی پریشانی کی بھی نہیں کہ انسان اپنا حوصلہ ہی ہار بیٹھے اور خواب میں آکر دوسروں کو بھی پریشان کرے۔چل اب پریشان نہ ہو کوئی نہ کوئی حل نکال لیں گے۔ مگر یہ افسوس رہے گا تجھے اپنی پریشانی مجھ سے شئیر کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ہاں بھئی پاکستان میں رہنے والے بیچارے امریکہ میں رہنے والوں کی کیا مدد کرسکتے ہیں۔ ہیں ناں؟ اس کے شرارتی طنز  میں اپنائیت بھرا گلہ مجھے جیسے کو سر سے پاؤں تک شرمندہ کر گیا تھا۔ آج کی دنیا میں بھی ایسے دوست موجود ہیں جو کسی دوست کو خواب میں پریشان دیکھیں تو سوا لاکھ روپے کا ٹکٹ خرید کر پاکستان سے فوری امریکہ چلے آئیں۔ اور پھر اس نے میری پریشانی کا تین دن میں حل تلاش بھی کرلیا تھا اور جس خاموشی سے وہ آیا تھا چوتھے روز چلا بھی گیا اور ائر پورٹ پر جاتے ہوئے کہا تھا۔ تمھاری پریشانی دور تو ہو گئی مگر اس پریشانی کے آنے میں جب تک اپنی غلطی کی وجہ تلاش کرکے اس غلطی کا مکمل ازالہ نہیں کرو گے یہ پریشانی پھر کسی بھی وقت دوبارہ سامنے آکر کھڑی ہوجائے گی۔ جاری ہے

یہ بھی چیک کریں

ایئر ایمبولینس پہنچ گئی،نواز شریف کی برطانیہ جانے کی تیاریاں مکمل

سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن روانگی کی تیاریاں مکمل ہو گئی ہیں۔ وہ منگل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے