ہوم / تازہ ترین / آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور ’’اپنا‘‘ کی منتخب صدر میں مماثلت

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور ’’اپنا‘‘ کی منتخب صدر میں مماثلت

مقدمات در مقدمات میں گھری اپنا پر ایک اور مقدمہ

اس بار مقدمے لڑنے والے وکیل نے مقدمہ کردیا

وکیل مقدمہ جیت گیا تو مقدمہ کی وجہ بننے والوں پر مقدمہ ہوگا

رپورٹ: آفاق فاروقی

نیویارک: امریکہ یورپ میں رہنے والے پاکستانیوں پر سب سے بڑا الزام یہ عائد کیا جاتا ہے کہ ان ملکوں کی جمہوریت آئین اور انسانی حقوق کی پاسداری کی روایتوں سے تمام سہولتیں حاصل کے والے ان پاکستانیوں نے اپنی خوشیوں اور اطمینان کے ساتھ دولت اور تعلیم کی وجہ بننے والی جمہوریت اور اس جمہوریت سے پیدا ہونے والی رواداری، تحمل، نظم و ضبط اور شخصی احترام کے ساتھ مخالف نظریات کو زندگی گزارنے کے ایک دوسرے رخ کے طور پر اسی طرح تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے جس طرح آبائی وطن میں ریاستی اداروں اور اسکے اہم شعبہ جات سے لیکر سیاست دانوں تک سب کو جمہوریت چاہئیے مگر وہ جمہوریت نہیں جس پر عمل کرکے مہذب دنیا نے ترقی اور خوشحالی حاصل کی اور اپنی سلامتی و بقا کو بھی یقینی بنایا۔

امریکہ و یورپ میں آباد  پانچ ملین سے زائد  پاکستانیوں میں یوں تو سینکڑوں سیاسی،سماجی اور فلاحی تنظیمیں موجود ہیں مگر جو شہرت احترام امریکن پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم اپنا کو حاصل ہے وہ عزت احترام اور شہرت کے ساتھ اثر و رسوخ ابھی تک کسی دوسری پاکستانی تنظیم کو نہیں مل سکا ہے۔ پاکستان سے باہر پاکستان کی سب سے بڑی سماجی فلاحی تنظیم تصور کی جانے والی اپنا جسکے قیام کو قریباً  بیالیس سال ہونے کو آئے ہیں دو ہزار کے ابتدائی سالوں تک ایک انتہائی منظم ، جمہوری، فلاحی اور سماجی پروفیشنل پاکستانی تنظیم تصور کی جاتی تھی جہاں جمہوریت اب بھی قائم ہے اور بیالیس سال سے اپنا میں اقتدار ہر سال انتہائی پر امن انداز میں منتقل بھی ہوجاتا ہے۔مگر اپنا کے جمہوری نظام میں بھی عین پاکستانی سیاسی اقدار کے مطابق چھبیس سو ممبران کی اس تنظیم میں اتنے سیاسی گروپ اور نظریات کو جنم دیا ہے جن کا بوجھ اب یہ تنظیم اٹھانے سے قاصر نظر آتی ہے۔ ان سیاسی گروہوں کی سرگرمیوں سے عام ممبر میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ جبکہ اپنا کے ممبران کی ایک بڑی تعداد اپنا کو ختم کرنے پر بھی غور کرنے لگی ہے۔ اپنا جہاں سالانہ انتخابات میں چھبیس سو ممبران میں سے سولہ سے سترہ سو ممبران ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں اور چھبیس سو ممبران میں سات سو ممبران وہ ہیں جو کوالیفائیڈ امریکی ڈاکٹر لائسنس نہیں رکھتے پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم اپنا گروہی سیاست کے باعث مقدمات در مقدمات کی خزاں کے گھیرے میں ہے۔ تازہ مقدمہ اپنا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چار ممبران، منتخب صدر ڈاکٹر ناہید عثمانی، سابق صدر ڈاکٹر اقبال ظفر حمید، سیکریٹری ڈاکٹر لبنیٰ نعیم ،خزانچی ڈاکٹر آفتاب خان نے اپنا کے صدر ڈاکٹر نسیم شیخانی کو ایگزیکٹو کمیٹی کی مشاورت سے فیصلے کرنے کا پابند بنانے کے لیے کیا تھا۔ اس مقدمے میں بورڈ آف ٹرسٹی کے چار پرانے اراکین کی نئی آئینی ترامیم کی روشنی میں اہلیت کو بھی چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنا کے منشور کے عین مطابق جہاں ڈاکٹر نسیم شیخانی کو ایگزیکٹو کمیٹی کی مشاورت سے فیصلے کرنے کی ہدایت کی تو وہیں بورڈ آف ٹرسٹی کے پرانے ممبران کو مستقل قرار دیکر دونوں پارٹیوں میں عدالتی فیصلے کی فتح آدھی آدھی تقسیم کردی تھی۔ تاہم اس مقدمے پر خرچ ہونے والی وکلا کی فیس پر اپنا کے تنظیمی ڈھانچے میں تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔اپنا کا بورڈ آف ٹرسٹی اور اپنا کے ممبران کی ایک بڑی اکثریت سمجھتی ہے مقدمہ کرنے والوں نے عدالت جانے سے پہلے نہ تو اخراجات کے حوالے سے بورڈ آف ٹرسٹی سے کوئی اجازت لی اور نہ ہی آگاہ کیا تھا۔ بورڈ آف ٹرسٹی کا استدلال ہے دس ہزار ڈالر سے زائد ہونے والے اخراجات کی بورڈ آف ٹرسٹی سے  پیشگی اجازت لازمی ہے۔ ایگزیکٹو کمیٹی پہلے ہی وکیل کی فیس کی مدد میں ایک خطیر رقم خرچ کرچکی ہے اور انکا پہلا وکیل مقدمے کے خاتمے پر قریباً پچاس ہزار ڈالر مزید طلب کررہا ہے۔ وکیل کی فیس نہ اپنا دینے کو تیار ہے اور نہ ہی مقدمہ کرنے والے ایگزیکٹو کمیٹی کے مذکورہ چاروں ممبران جو خود اس مقدمے کا سبب بنے۔ اب اس صورت حال پر مقدمے کے پہلے وکیل مسٹر کیون نے اپنی فیس کی وصولی کے لیے اپنا پر مقدمہ دائر کردیا ہے۔ اپنا کے اندورنی ذمہ دار ذرائع کا دعویٰ ہے وکیل مسٹر کیون سے بھاری فیس کی مد میں کمی کے لیے تین افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ جس میں منتخب صدر ڈاکٹر ناہید عثمانی، ڈاکٹر روبینہ عنایت اور ڈاکٹر ریاض چوہدری شامل تھے۔ تاہم یہ کمیٹی وکیل سے معاملات طے کرنے میں ناکام رہی۔ یہ ذمہ دار ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ کمیٹی کی ممبر ڈاکٹر ناہید عثمانی مبینہ طور پر وکیل سے بار گین چاہتی ہی نہیں تھیں۔ یہ ذمہ دار ذرائع کہتے ہیں کہ ایک طرف اپنا فنڈ کی کمی کا شکار ہے اور اس پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وکیل کی فیس تاحیات ممبران کی ادا کی گئی فیس کی مد میں جمع رقم سے ادا کی جائے۔ دوسری طرف اپنا کے ممبران کی اکثریت سمجھتی ہے جن افراد نے مقدمہ کیا ہے وہ افراد یہ فیس اپنی جیب سے ادا کریں اور تاحیات ممبران کی ادا شدہ فیس کو اس مقصد کے لیے ہرگز نہ استعمال کیا جائے۔ اپنا بورڈ آف ٹرسٹی کے ممبران کی اکثریت کا خیال ہے ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنا کو مالی نقصان پہچانے کی کوشش کی ہے۔ انہیں چاہئیے پہلے مقدمہ کا مؤجب بننے والے چاروں ممبرز اپنے طور پر فنڈریزنگ کریں اور جس حد تک ممکن ہوسکے وکلا کو ادا کی جانے والی فیس کی رقم جمع کریں۔ اگر فنڈ ریزنگ کے بعد بھی مطلوبہ رقم جمع نہیں ہوتی تو اپنا باقی ماندہ بچ رہنے والی رقم ادا کرنے کو تیار ہے۔  ‎

ان ذرائع کا دعویٰ ہے کہ  اپنا کو اس وقت اس مقدمے میں تین وکلا کے ساتھ اپنا کی سابقہ وکیل ربیکا سمیت چار وکلا کی مد میں کم از کم دو سے ڈھائی لاکھ ڈاکر کی رقم ادا کرنا ہے جس میں ایگزیکٹو کمیٹی کے دو وکلا مسٹر کیون جنھوں نے اپنا پر مقدمہ دائر کیا ہے جو اس مقدمے کے پہلے وکیل تھے دوسرے وکیل مسٹر منچ جنھوں نے مقدمے کو انجام تک پہنچایا شامل تھے۔ تیسرے وکیل جنھوں نے صدر ڈاکٹر نسیم شیخانی کی طرف سے مقدمے کا دفاع کیا اسکی فیس بھی اپنا کو ہی ادا کرنی ہے۔ یہ ذرائع دعویٰ کرتے ہیں دو ہزار اٹھارہ سے امسال دو ہزار انیس تک اپنا مختلف مقدموں کی مد میں وکلا پر قریباً چار لاکھ ڈالر خرچ کرتی نظر آتی ہے۔ اپنا کی منتخب صدر ڈاکٹر ناہئید عثمانی جنہیں پہلے ہی مواخذے کی کاروائی کے خدشہ کا سامنا ہے اور جنکی شہ پر صدر کو ایگزیکٹو کمیٹی کی مشاورت سے فیصلے کرنے کا پابند بنانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا اس صورت حال میں شدید مشکل میں گھری نظر آتی ہیں۔ ایک طرف جب ان کی صدارت کی مدت کے آغاز میں دو ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے مواخذے کی تحریک کا خدشے کا سامنا ہے تو دوسری طرف اس نئی ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کا پابند ہونا پڑے گا جس  کی بالادستی کے لیے وہ خود عدالت گئیں تھیں جہاں ان کے علاوہ باقی چاروں ممبران انکے نظریاتی مخالف بتائے جاتے ہیں۔ ان کے دائر کردہ مقدمے کی مد میں اگر اپنا کو وکلا کی فیس ادا کرنا پڑی تو یونائیڈ اپنا ان ان کے دیگر تین ساتھیوں سمیت ان پر بھی مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔ اپنا کے یہ ذرائع دعویٰ کرتے ہیں اپنا میں سیاسی تصادم نے جہاں ہر دو چار ماہ کے بعد مقدمات کے دروازے کھول دئیے ہیں وہیں ممبران میں تنظیم کی اہمیت و افادیت ختم ہونے کے ساتھ بڑے پیمانے پر بددلی اور مایوسی بھی پھیلتی جارہی ہے۔ ممبران کے کچھ بااثر حلقے اور موجودہ صورت حال کا ذمہ دار گروپ بھی صلح صفائی کا متمنی نظر آتا ہے۔ یہ ذمہ دار ذرائع کہتے ہیں اگلے تین سے چار ہفتوں میں صلح صفائی کی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آنے کی امید کی جارہی ہے مگر اس صلح کے نتیجے میں منتخب صدر اپنا کی تاریخ کی پہلی ایسی صدر ہونگی جیسے انگریز کے ہندوستان میں بہادر شاہ ظفر تخت دہلی کے وارث تھے۔

یہ بھی چیک کریں

رباّ میرے حال دا محرم تُوں

تحریر: نذر محمد چوہان (نیوجرسی) ہر تہذیب اپنے ہی گند تلے آ کر تباہ ہوئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے