ہوم / تازہ ترین / اب صفائی ہو کر رہے گی

اب صفائی ہو کر رہے گی

تحریر: نذر محمد چوہان (نیو جرسی)

کل میں اپنے نزدیکی اسٹور سے واپس گھر آ رہا تھا کہ ایک بوُڑھی عورت کو بھاری بھرکم تھیلے اُٹھائے دیکھا۔ میں نے کہا میں اٹھاتا ہوں۔ وہ بہت خوش ہوئی اور پوچھا کہاں سے ہو؟ جب میں نے کہا پاکستان سے۔ بولی مسلمان ہو؟ میں نے کہا جی۔ اس نے کہا آپ لوگ دنیا میں اتنے بدنام کیوں ہیں؟ میں نے کہا کیونکہ ہم میں سے کافی بڑی تعداد، منافق، فراڈ اور چور ڈاکو ہیں۔ پاکستان میں کوئی قانون نہیں۔ دہشت گردی سر عام ہے۔

اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور مجھ پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ ایسا زیادہ دیر نہیں چلتا۔ قدرت کی پکڑ بہت سخت ہے۔ یہ تھا ایک امریکی گوری خاتون کا پاکستانیوں کے بارے میں تبصرہ۔ دوسری طرف ہندوستان سے کل ایک جرنلسٹ نے مجھے لکھا کہ ماشا ء اللہ اب پاکستان ڈارک ویب کا بے تاج بادشاہ بن گیا ہے۔ رابی پیرزادہ کی ننگی وڈیوز نے بہت کمائی کی۔

ہندوستان میں پاکستانیوں کے لیے ویزا ناممکن۔ اور اگر آپ مقررہ تین شہروں اور تھانوں کی حدود سے باہر پائے گئے تو ناخن بھی اتار لیے جائیں گے اور جسم کی جلد بھی۔ اب تو کچھ بھی خفیہ نہیں رہا۔ رنجیت سنگھ نے جو مسلمانوں پر ظلم ڈھائے وہ ہم سب بُھول گئے۔ مسلمانوں کو اس بے غیرت نے چھتوں پر لیٹرین بنانے کا کہا تا کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے حُرمتی ہو۔ میری والدہ فرماتی تھیں کہ سکھوں نے آزادی کے وقت ان پر بہت شدید ظلم و ستم ڈھائے۔

جب میں نے پچھلے سال واشنگٹن سے پاکستانی نیوکلئیر اثاثوں پر اسرائیل اور بھارت کے متوقع حملوں کا پلان بے نقاب کیا تو پاکستان نے مجھے غدار ڈیکلئیر کیا۔ وہ سکُوُپ مجھے امریکی اداروں کے بھی مزید قریب کر سکتا تھا لیکن میں نے پاکستان سے حُب الوطنی دکھائی اور یہ صلہ ملا؟ پاکستانی فوجی جرنیلوں کے بچے جو امریکہ میں پاکستان کے خلاف گُل کُھلا رہے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چُھپے نہیں۔ لندن میں امریکہ نے عارف نقوی کو منی لانڈرنگ پر گرفتار کر کے  رکھا ہوا ہے جو ابھی بھی کے الیکٹرک کا ڈائریکٹر ہے۔ اور ابھی بھی تمام سیاستدانوں کو سر عام پیسہ کھلا رہا ہے۔ حال ہی میں امریکہ کے ایک تھنک ٹینک نے وہ لسٹ ایک امریکی جریدے میں چھاپی تھی جس میں ان تمام رقوم کا تفصیلاً تذکرہ کیا گیا ہے۔ پاکستان بحیثیت ریاست اور پاکستانی قوم بحیثیت عوام اس وقت تمام اقوام عالم میں بلکل ننگے کھڑے ہیں۔

یہ کھیل امریکہ سے ہی ایک تنظیم نے پاناما لیکس سے شروع کیا تھا۔ اب مولانا فضل الرحمان جو بظاہر تو اسی گند کا حصہ رہے اور ابال کم کرنے کے لیے لائے گئے تھے  لیکن قدرت کے انصاف کے نیچے روندے جانے کے بعد اس کو انجام تک پہنچاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کل مولانا کی آنکھوں میں لوگوں کی مجبوری اور بے بسی دیکھ کر آنسو آ گئے۔ کل ہی صادق ملک پاکستان کے مشہور دست شناس نے ایک وڈیو میں فرمایا کہ اب تبدیلی کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ جی وہ تبدیلی جو پاناما لیکس سے شروع ہوئی اب مکمل صفائی تک نہیں رُکے گی۔

کل رابی پیرزادہ کی تصویریں قرآنی آیات کے ساتھ وائرل ہوئیں۔ رابی پیرزادہ کو پاکستانیوں کی منافقت کو عیاں کرنے پر نشان پاکستان ملنا چاہیے۔ مہوش حیات تو مفت میں پرائیڈ آف پرفارمنس لے گئی۔ یہاں امریکہ کی ایک بہت بڑی کمپنی میکڈونلڈ نے کل اپنا  چیف ایگزیکٹو افسر صرف اس بنا پر تبدیل کر دیا کہ اس کا ایک ایمپلائی کے ساتھ باہمی رضامندی والا تعلق پایا گیا۔ سٹیو ایسٹر بُروک پچھلے چار سال سے میکڈونلڈ کا سی ای او تھا۔ اپنے آپ کو میکڈونلڈ کا بہت پاٹے خان چیف سمجھتا تھا۔ اس سے پہلے سٹیو یورپ اور شمالی امریکہ میں میکڈونلڈ کا چیف رہا۔ پوری دنیا میں میکڈانلڈ کی کوئی چالیس ہزار کے قریب آؤٹلیٹز ہیں۔ لیکن چیف کی نازیبا اور اخلاق سے گری ہوئی حرکت پر میکڈونلڈ نے نہ صرف اسے نوکری سے برخاست کیا بلکہ پوری دنیا میں اپنے صارفین سے معذرت بھی کی۔ میکڈونلڈ کے اس قدم سے گو کے میکڈونلڈ کے شیئر کو جھٹکا لگا لیکن اخلاقیات کو بزنس پر فوقیت دی گئی۔

پاکستان میں بستر گرم کرنے پر وزارتیں ملتی ہیں، انعام و کرام، تمغہ امتیاز وغیرہ وغیرہ۔ پچھلے دنوں ایک اور پاکستانی آوارہ خاتون حریم شاہ نے سرعام وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھ کر ویڈیو بنائی اور اسے وائرل کیا۔ آخر میں اُلٹا حکومتی اداروں کو سر عام دھمکیاں بھی دیں۔ سارے کے سارے اس حمام میں ننگے ہیں۔ ابھی تو قدرت نے ہتھ بہت ہولا رکھا ہوا ہے۔ اس طرح کی فحاشی اور منافقت پر تو قوموں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ انشاء اللہ اب قدرت پاکستان سے ان بدمعاشوں، منافقوں اور دہشت گردوں کا صفایا کر کے دم لی گی۔ یہ 70 سال کا گند ضرور صاف ہو گا۔ میرا ایمان ہے۔ عمران خان بھی اور یہ سارے لُچے لفنگے بدمعاش سوداگر۔

بہت خوش رہیں۔ اللہ تعالیٰ سے رحم و کرم اور ہدایت کی دعا مانگیں۔ قوموں پر ایسے وقت آتے ہیں۔ اور اس گند سے گزر کر ہی قومیں ترقی کرتی ہیں۔ میکڈونلڈ کا سالانہ بجٹ پاکستان کے سالانہ بجٹ سے بہت زیادہ ہے اگر وہ فحاشی پر اپنے چیف کو ہٹا سکتا ہے تو ہم اپنی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کو کیوں نہیں؟ میں مولانا فضل کے اس مطالبہ پر ان کی مکمل حمایت کرتا ہوں اور رب تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ پاکستان کو اپنے نیک لوگوں کے سپرد کر۔ آمین۔

پاکستان پائیندہ باد ۔

یہ بھی چیک کریں

امریکہ کے ایک اسپتال میں پہلی بار دونوں پھیپھڑوں کی ایک ساتھ پیوندکاری

امریکہ کے ایک اسپتال میں پہلی بار ایک ساتھ دونوں پھپھڑوں کی ٹرانسپلانٹ کا آپریشن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے