ہوم / تازہ ترین / آخری راستہ

آخری راستہ

تحریر: آفاق فاروقی

کوئی حقیقی جمہوریت پسند میاں برادران کی “جمہوری “ سیاسی فکر سے اتفاق نہیں کرسکتا۔ جو لوگ ملک میں تھانیدار سے کمشنر تک اپنی پسند اور اپنے مفادات اور شخصی وفاداری ہی میرٹ بنا کر اور دیکھ کر لگاتے ہوں ان کی جمہوریت قوم کو کیا دے سکتی ہے؟ مجھے ایک زمانے سے معلوم ہے نواز شریف کبھی کسی طاقتور سے اس لیے نہیں لڑے کہ وہ سماج کی بھلائی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ پاکستان کے ایک سنئیر ترین اور پاکستان کے واحد صحافی جو ملک کے دو سب سے بڑے اخباروں جنگ اور نوائے وقت کے ایڈیٹر رہے اور ایک زمانے تک نواز شریف کے انتہائی قریب ہیں نے خود بتایا تھا نواز شریف جب پہلی بار ضیا کے زمانے میں وزیر اعلی بنے تو پہلے ہی ہفتے میں کہنے لگے تھے “ مزہ نہیں آرہا “ جب پوچھا گیا  کیوں مزہ نہیں آرہا؟ تو فرمایا  گورنر ہاؤس مسئلہ بنا ہوا ہے۔ سب کچھ تو اس کے پاس ہے  پھر ایک ماہ میں گورنر تبدیل ہوگیا اور شاہ محمود قریشی کے والد گورنر بنا دئیے گئے۔ پھر میاں صاحب کی بالادستی کی پوری ایک طویل داستان ہے۔ اس داستان میں جونیجو سے بے وفائی سے لیکر جہانگیر کرامت اور پھر مشرف تک کے وہ تمام قصے آتے ہیں کہ مشرف کو کس سوچ کے تحت آرمی چیف بنایا گیا۔ پھر ابھی جب میاں صاحب کے دور میں بلدیاتی انتخابات ہوئے اوراس ایجنڈے پر ہوئے کہ طاقت کا سرچشمہ جاتی امرا میں ہی بہتا رہے۔لاہور کا مئیر بنانے کا مسئلہ پیش ہوا تو میاں صاحب نے ایک کمزور اور گمنام کرنل کو اس لیے مئیر بنایا کہ وہ کبھی اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہوسکے گا۔ بالکل ویسے ہی جیسے عمران خان کو پنجاب کا وزیر اعلی مقرر کرنے سے پہلے ہدایات دی گئیں کہ کوئی ایسا بندہ وزیر اعلیٰ بنایا جائے جس میں نواز شریف بننے کی صلاحیت نہ ہو۔ اسٹیبلشمنٹ اور میاں نواز شریف  یہ دونوں پارٹیاں ہی طاقت اپنے پاس رکھنے کی لت میں مبتلا ہیں۔ اسی لئیے ان کی جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پاکستانی عوام جمہوریت کی اصل روح سے واقف نہیں ہوجاتے۔ یہ کون نہیں جانتا میاں صاحب نے عدلیہ بحالی کی تحریک کے نام پر مارچ کس کے کہنے پر نکالا تھا۔ 2013 کے الیکشن میں پینتیس پنچر لگانے والے کون تھے ؟ پھر میاں صاحب نے کس کے ایما پر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا؟ وہ پیپلز پارٹی جو سندھ میں شیعہ اقتدار کو ہی جمہوریت تصور کرتی ہے اور کراچی کو کچھ بھی دینے کو اس لیے تیار نہیں کہ کراچی والے اسے ووٹ نہیں دیتے۔

اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے میاں صاحب ملک چھوڑ کر چلے جائیں مگر اس وقت لڑائی یہ ہورہی ہے کہ میاں صاحب جانے سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کی لکھی ڈیل پر سائن کردیں۔ جیسے مشرف کے دور میں میاں صاحب نے جدہ جانے سے پہلے کی تھی۔ مگر میاں صاحب کو خوب معلوم ہے کہ خان کی حکومت پہلے ہی سال میں ناکام ہوچکی ہے۔ پھر اپوزیشن کے ساتھ وزرا اور وزیراعظم کے اپنے بیانی رویہ نے ملک میں سیاسی افراتفری کا تاثر اس قدر مظبوط کردیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہر طرف سے پھنس کر رہ گئی ہے۔ وہ سمجھتی ہے میاں صاحب کو ملک سے نکال کر اس صورت حال پر قابو پایا جاسکتا ہے میاں صاحب بنا کسی لکھت پڑھت کے باہر جاکر علاج کے بعد واپس آنا چاہتے ہیں۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں اور خود مسلم لیگ کے وہ ذرائع جو شریف خاندان کے قریب ہیں انکے لہجے بھی بتاتے ہیں میاں صاحب کی حالت اتنی خراب نہیں جس قدر ظاہر کی جارہی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے پہلے کون ٹوٹتا ہے میاں صاحب یا اسٹیبلشمنٹ ۔؟ مگر یہ طے ہے کہ عمران خان اور انکا ٹولہ زیادہ عرصے اس افراتفری کے ماحول میں حکومت کرتا نظر نہیں آتا۔ اسٹیبلشمنٹ بھی اب زیادہ عرصے اسٹیٹس کو کو تسلسل دینے میں کامیاب نظر نہیں آتی۔ سوشل میڈیا نے اسکی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ میجر جنرل غفور کی روز کی صفائیاں اور ہر ہر بات پر کہنا کہ فوج کا سیاست سے کوئ تعلق نہیں یہ اسٹیبلشمنٹ کی کانپتی ٹانگوں پر دلیل ہی تو ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہوگا کیا؟ اگر اسٹیبلشمنٹ نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے موجودہ فرسودہ نظام کو مکمل تبدیل کرنے کے لیے مکمل ایماندار اور میرٹ پر آنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں پر مشتمل قومی حکومت کی راہ ہموار نہ کی تو اب نہیں لگتا کہ ریاست اپنا جغرافیہ بھی قائم رکھ سکے گی۔ کیونکہ جس بُری طرح ریاستی اداروں کے ساتھ سماج ٹوٹا ہے اسے کوئی ایک ایسی حکومت متحد رکھ کر ریاست بچا سکتی ہے جس کے مخالفین کے اجتماعی ووٹوں کی تعداد اس حکومت کے ووٹوں سے زیادہ ہو۔ اپوزیشن نے گذشتہ دس سالوں میں جو روایات قائم کی ہیں یا حکومت میں آنے والے سیاست دانوں نے جو رویہ اپنایا ہے وہ اس ریاست کو متحد رکھ کر ترقی خوشحالی کے ساتھ پُر امن بھی رکھ سکے۔ پاکستان کو ایک ایسی قومی حکومت کی ضرورت ہے جسے عوام کا مکمل اعتماد حاصل ہو اور جو عدلیہ سے لیکر فوج تک ہر ہر ادارے اور محکمے کا احتساب کرے۔ نوکر شاہی کو ایمانداری سے کام کرنے کا پابند بنائے اور جو کام نہ کرے اسے کان سے پکڑ  کر نہ صرف نکالے بلکہ اس کا احتساب بھی کرے۔ موجود صورت حال میں کوئی فوجی یا جمہوری حکومت کسی طور بھی ایسے اقدامات کا رسک نہیں لے سکتی۔

یہ بھی چیک کریں

شہریت کے متنازعہ بل پر ہنگامے، آسام فوج کے حوالے

مودی حکومت نے مذہب کی بنیاد پر شہریت کے نئے قانون کے خلاف شمال مشرقی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے