ہوم / بین الاقوامی / ریکوڈک: چھ ارب ڈالر جرمانے کی ادائیگی پر حکم امتناع، پاکستان کے لیے کتنا بڑا ریلیف ہے؟

ریکوڈک: چھ ارب ڈالر جرمانے کی ادائیگی پر حکم امتناع، پاکستان کے لیے کتنا بڑا ریلیف ہے؟

صوبہ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے اربوں ڈالر مالیت کے ریکوڈک پراجیکٹ میں ورلڈ بینک کے ثالثی ٹریبونل کی جانب سے عائد کردہ چھ ارب ڈالر کے جرمانے کے فیصلے کے خلاف پاکستان نے حکم امتناعی حاصل کر لیا ہے اور اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید کے مطابق اس اقدام سے جرمانے کی ادائیگی کے سلسلے میں ملک کو مئی 2021 تک کا ریلیف حاصل ہو گیا ہے۔

گذشتہ سال جولائی میں بین الاقوامی ثالثی ٹریبیونل نے پاکستان کی جانب سے آسٹریلیا اور چلی کی ایک مشترکہ کان کنی کی کمپنی کی مائننگ لیز منسوخ کرنے پر پاکستان پر چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

پاکستان کو کہا گیا تھا کہ وہ مائننگ کمپنی کو چار ارب ڈالر ہرجانے کی ادائیگی کے علاوہ 1.7 ارب ڈالر کی اضافی رقم بھی ادا کرے۔

تاہم اب پاکستان نے اس فیصلے کے خلاف ثالثی ٹریبیونل سے مستقل حکم امتناع حاصل کر لیا ہے جسے چند حلقے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

اس وقت پاکستان مالی طور پر چھ ارب ڈالر کا جرمانے ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب پاکستان کو مئی 2021 تک کا وقت مل چکا ہے۔‘
سٹے آرڈر سے اب پاکستان بہتر طور پر اس مقدمے کے دیگر فریقوں سے بات چیت سے حل نکال سکتا ہے۔
ایڈووکیٹ فیصل صدیقی اس مقدمے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اُن کے مطابق یہ ایک عارضی ریلیف ہے بالکل اسی طرح جس طرح مقامی عدالتوں سے مختلف کیسز میں عارضی ریلیف حاصل کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر قانونی پوزیشن دیکھی جائے تو ’پاکستان یہ مقدمہ ہار چکا ہے اور اب ’ایوارڈ ریونیو‘ کرانا ہے، جس کے نظرثانی کے مرحلے میں امکانات بہت کم ہیں کیونکہ اصل مصیبت یہ ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ ابھی اپنی جگہ موجود ہے۔
فیصل صدیقی کے اس پوائنٹ پر ردعمل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’یہ درست ہے کہ ابتدائی فیصلہ ہمارے خلاف آیا، لیکن اس کے بعد ثالثی سے متعلق کچھ ایسی پیش رفت ہوئی ہے جو پاکستان کے لیے خوش آئند ہے۔‘

اُن کے مطابق اب پاکستان کے پاس اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کا آپشن بھی موجود ہو گا۔

یاد رہے کہ ثالثی ٹریبیونل کے مطابق پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکو ڈیک کان میں تانبے اور سونے کے ذخائر کے لیے کان کنی کی کمپنی ٹی سی سی کو غیر قانونی طور پر لیز کی تردید کی تھی۔ ٹریبونل کا کہنا تھا پاکستان نے آسٹریلیا، پاکستان دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کے تحت غیر قانونی قبضہ کرنے کا ارتکاب کیا ہے۔

بعد میں ٹی سی سی نے پاکستان پر عائد جرمانے کے نفاذ کے لیے پانچ مختلف ممالک کی عدالتوں سے رجوع کیا۔

گذشتہ نومبر میں پاکستان نے کئی بنیادوں پر اس جرمانے کو منسوخ کرانے کے لیے آئی سی سی کے سامنے درخواست کی۔ جب پاکستان کی درخواست رجسٹرڈ ہوئی تو ٹی سی سی کے ذریعہ شروع کردہ عمل پر ازخود ایک عبوری قیام کی منظوری دی گئی۔

اس حکم کی تصدیق کے لیے سماعت اس اپریل میں ویڈیو لنک کے ذریعے ہوئی جبکہ بدھ کے روز ٹریبونل نے بالآخر پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا اور سٹے آرڈر کی تصدیق کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے