ہوم / خصوصی خبر / میں تے میرا ڈھولن ماہی

میں تے میرا ڈھولن ماہی

تحریر : آفاق فاروقی

مولانا فضل الرحمان اور انکے اتحادیوں کا لانگ مارچ اور دھرنا کامیاب ہوگا یا نہیں۔۔؟ آج کے پاکستان میں ملین ڈالر کا سوال بن چکا ہے۔ نئے پاکستان کی  دعویدار عمران خان حکومت لانگ مارچ کو روکنے کے لیے وہی روایتی حربے استعمال کررہی ہے جو پاکستانی حکومتوں کا وطیرہ رہا ہے۔ گرفتاریاں، نظر بندیاں اور سڑکیں بند کرنے کے لئے غریب ڈرائیورں کے کنٹینرز چھین چھین کر ذخیرہ کیے جارہے ہیں۔ اسی کے ساتھ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی شدید علالت کی خبروں کے ساتھ رانا ثنا اللہ منشیات کیس حکومت کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہی۔ ایک افراتفری ہے جو پھیل بھی چکی ہے اور جس میں کمی کے امکان کی بجائے تیزی بھی  آتی نظر آرہی ہے۔ خان حکومت کے قیام کے ساتھ ہی پہلی بار سیاسی افراتفری نے جو پاکستانی سماج میں ہمیشہ ہی موجود رہی ہے عروج حاصل کیا ہے۔اس افراتفری کی بنیادی وجہ تحریک انصاف کے قائد اور انکے ساتھیوں کا لہجہ ہے جس نے سیاسی نظریاتی تقسیم کو ذاتی دشمنیوں میں تبدیل کردیا ہے۔ کہا جاتا ہے کسی بھی معاشرے میں ترقی، خوشحالی اور امن کا راستہ سیاسی ہم آھنگی سے گزر کر جاتا ہے جو اس وقت پاکستان میں قطعی ناپید ہے۔یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں خان حکومت میاں نواز شریف اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات کا شاخسانہ ہے۔ دو ہزار اٹھارہ کے قومی انتخابات ہائی جیک کرنے کے نتیجے میں خان صاحب کو حکومت بنانے کا موقع دیا گیا۔یہ درست ہے ملکی معیشت کی حالت کچھ زیادہ بہتر نہیں تھی مگر معشیت کی خرابی کی مکمل ذمہ داری لوٹ مار بد عنوانی پر ڈالنے کا تاثر کچھ زیادہ درست یوں نہیں ہے کہ میاں نواز شریف کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی فوج اور میاں صاحب کے درمیان بھارت کو لیکر شدید اختلافات شروع ہوگئے تھے۔ جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کو بڑی احتجاجی سیاست کرنے کا موقع دیا گیا۔پھر جو ہوا وہ سب کو معلوم ہے۔ خان صاحب نے اقتدار ملنے کی صورت میں معشیت کے ڈوبتے جہاز کو راتوں رات طوفانوں سے نکال کر ساحل پر لا کھڑا کرنے کے دعوے تو ہمالیہ سے بھی اونچے کیے مگر جب اقتدار ملا تو قوم کو پہلی نوید یہ ملی کہ آنے والوں کی اقتدار چلانے کی تربیت کے ساتھ تیاری بھی کوئی نہیں تھی۔ اسد عمر جو عالمی معشیت کے ماہر ہی نہیں اسے چلانے بڑھانے کے جادو گر کے طور پر پیش کیے جاتے تھے وہ معاشی سرکس کے جوکر نکلے۔اسد عمر پہلے چھ ماہ میں ہی فارغ کردئیے گئے۔ ایمانداری کی بات یہی ہے حفیظ شیخ اور باقر رضا نے معاشی سدھار کے لیے کڑوے کسیلے فیصلے کیے وہ ناگزیر ہی نہیں ملکی سلامتی و بقا کے لیے بھی اہم تھے۔ قومیں اپنے تحفظ کے فیصلے  اور کسی امتحان یا میدان جنگ میں اترنے سے پہلے اپنی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی کو یقینی بناتی ہیں مگر خان اور انکی حمایتی اسٹیبلشمنٹ نے ایسا کرنے کی بجائے سیاسی انتشار اور  افراتفری کو یقینی بنایا جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ایوب خان دور سے ہی لڑاؤ اور حکومت کو کٹھ پتلی کی طرح گھماؤ کی ایک ہی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ پاکستانی سیاست دانوں میں بھی ایک سوچ گھر کرچکی ہے کہ سیاسی ہم آھنگی اور گڈ گورنس پر توجہ دینے کی بجائے لوٹ مار کرو اور فوج کو کسی طور ساتھ ملا کر اپنی مدت پوری کرنے کی کوشش کرو۔ مگر اس بار فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی شکست کی بڑی وجہ یہ بنی ہے کہ ملکی سیاسی پارٹیوں میں تحریک انصاف کی حمایت کے الزام میں سب ہی اس کا ساتھ چھوڑ گئیں۔ ایسے میں معشیت کی بحالی کے لیے کیے جانے والے سخت اقدامات گلے پڑ گئے اور معشیت سدھرنے کی بجائے مذید سکڑنے لگی ہے۔ جس نے ان لوگوں کو بھی موجود حکومت کے خلاف مضطرب کردیا ہے جو رات دن خان کے گن گایا کرتے تھے ۔

اور پھر ورلڈ کپ کی فتح کا سہرا اپنے سر باندھنے والے عمران خان کے ماضی کے ساتھ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم سے واقف جانتے ہیں جہاں اس ٹیم میں میاں داد ، انضمام الحق ، وسیم اکرم ،رمیزراجہ ، عاقب جاوید ، محمد مشتاق سے لیکر ایک سے ایک بڑھکر وننگ کھلاڑی موجود تھا تو وہیں خان صاحب نے ورلڈ کپ سے پہلے ہی جاوید برکی کے ساتھ ملکر سازش کرکے جاوید میاں داد کو ٹیم سے باہر کروادیا تھا اور میاں داد نے کراچی میں باقاعدہ آنسووٗں سے روتے ہوئے پریس کانفرنس میں جو دکھڑے سنائے تھے وہ یقیناً بہت سے لوگوں کو یاد ہونگے۔ پھر پورے کراچی میں  ڈاکٹر پرویز محمود مرحوم نے میاں داد کے حق میں مہم چلاتے ہوئے کراچی میں فرسٹ کلاس کرکٹ بند کرادی تھی اور کراچی کی ہر دیوار اور کھمبے پر بینر لگوا دئیے تھے “ نو میاں داد نو کرکٹ ’’۔ اس وقت بے نظیر بھٹو مرحوم کے دیرینہ ساتھی منور سہروردی مرحوم میاں داد کو بی بی کے پاس لے گئے تھے۔اس ملاقات کے بعد بی بی کی کوششوں سے میاں داد دوبارہ قومی کرکٹ کا حصہ بن گئے۔ میاں داد نے ورلڈ کپ کے حصول میں کیا کردار ادا کیا تھا وہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ آج عمران خان کی حکومتی ٹیم میں بھی ایک بار پھر وہی انتشار ہے۔ پرویز خٹک سے فواد چوہدری تک آدھے سے زیادہ وزیر خاں صاحب سے ناراض یا تنگ ہیں یا وہ ہیں جنکی عقلوں پر قوم روز ماتم کرتی ہے۔ خاں صاحب گڈ گورنس پر توجہ دینے کی بجائے صرف سیاست دانوں سے لوٹی ہوئی دولت وصول کرنے کی آڑ میں انھیں گندہ کرکے تاقیامت تک اقتدار کے خواب دیکھنے میں مصروف ہیں۔ ان کے اس نعرے سے ڈر کر بدعنوان اعلیٰ بیوروکریسی نے انکا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور نچلے درجے کی بیوروکریسی نے انکے وزیروں مشیروں کے ساتھ ملکر لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے۔ اب کہا جارہا ہے پورا قومی پروجیکٹ ہی ناکامی سے دوچار ہے۔

آرمی چیف کو یہ پروجیکٹ لانے اور چلانے کے عوض ایکسٹینشن دینے کے معاملے کو پہلے خاں صاحب کے اپنے ہی لوگوں نے متنازعہ بنایا تو چیف کی اپنی صفوں میں بھی تحفظات پھیل گئے۔ دھرنا سیاست میں میڈیا سے لیکر چیف کی صفوں میں موجود بہت سے جوان اس وقت خان حکومت پر تنقید کے ساتھ دھرنا لانے والوں کی حمایت کرکے فوراً سے پیشتر نوٹیفکیشن کے حصول کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ خاں صاحب کی اپنی صفوں میں موجود زلفی بخاری جیسے ساتھی اور چیف کی صفوں میں موجود کچھ لوگ دھرنا کے ڈراپ سین سے پہلے نوٹیفکیشن جاری کرنے کے حق میں نہیں۔خواہش ہے  نوٹیفکشن بھی مل جائے اور دھرنا سیاست سے حکومت کو پولا کرکے اپنی صفوں کے مخالفین کو بھی صاف کرکے نئے سال کے ابتدائی مہینوں میں تبدیلی کے راستے  ڈھونڈے اور نکالے جائیں۔ سیاسی سیانے کہتے ہیں ابھی آئی ایم ایف کی بہت سی شرائط پر عمل کرنا باقی ہے۔ کاروباری حلقہ پہلے ہی شدید ناراض ہے اور اس نے سرمایہ کاری روک کر حکومت کو ناکام بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وہ مڈل کلاس طبقہ جو کل تک عمران خان کی ورلڈ کپ کی فتح کو عمران خان کا مرہون منت سمجھتا تھا آلو، ٹماٹر اور دال آٹے کے نئے بھاؤ کے ساتھ تیزی سے پھیلتی افراتفری نے اسے بھی سمجھا دیا ہے کہ ڈپریشن اور غصے میں دیکھے جانے والے خوابوں کی تعبیر ہمیشہ الٹی نکلتی ہے۔لانے والوں کو بھی احساس ہوگیا ہے  جلد بازی اور ضد انا نے ملکی معشیت کا ہی دیوالیہ نہیں نکالا سیاسی انتشار اور افراتفری نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر بھی ہڑپ کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ نوازشریف یا بی بی ہوتیں تو بھارت ایسی جرات کبھی نہیں کرسکتا تھا۔ نواز شریف نے مودی کو دوستی کے جھانسے دے رکھے تھے تو بی بی بین الاقوامی تعلقات کے ذریعے بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت کو یہ اقدام اٹھانے سے روک سکتی تھیں۔کہنے والے کہتے ہیں حکومت لانگ مارچ دھرنا سیاست کو روکنے کے لیے جو احمقانہ فیصلے کررہی ہے وہ صاف ظاہر کرتے ہیں  کوئی ہے جو خان حکومت کو گھیر کر مارنے گرانے کے لیے ان اقدامات کی حوصلہ افزائ کررہا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی مولانا اور انکے ساتھیوں کے حوصلے بتا رہے ہیں انھیں اگر تھپکی نہیں بھی دی جارہی تو یہ تھپکی ضرور حاصل ہے “آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا ’’۔ کہنے والے کہتے ہیں اگر لانگ مارچ اور دھرنا سیاست کے دوران دس پندرہ بندے کام آئے تو حکومت پولا ہو کر جنوری فروری میں بآسانی گرالی جائے گی۔ اگر مرنے والوں کی تعداد چالیس تک پہنچ گئی تو فوری کوئی انتظام کرنا پڑےگا کہ شاہ محمود قریشی کے مفہامتی بیانات مستقبل کی حکومتی سیاست کے پہلے اشارے قرار دئے جارہے ہیں۔ مگر ایک حلقہ ایسا بھی ہے جو کہتا ہے حالات وہاں پہنچ گئے ہیں جہاں دونوں بڑوں کو گھر بھیج کر ہی سدھار ممکن ہے۔  یہ حلقے کہتے ہیں بارہ سال تک حکومت کرنے کے خواب دیکھنے والے “ میں تے میرا ڈھولن ماہی’’ ان دنوں بہت پریشان ہیں۔ بظاہر طاقت کے سرچشمہ تمام اداروں پر انکا مکمل کنٹرول ہے مگر  سیاسی افراتفری میں تیزی، بھارت کی بڑھتی جارحیت کے ساتھ ڈوبتی معشیت اور پھر عوامی غیظ و غضب نے کنٹرول کے سارے بٹن ہی جیسے بند کردئیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے پولا حکومت لانے والے حکومت کو مذید پولا کرکے خود کو مظبوط کرنے میں کامیاب ہونگے یا یہ سب پولے ہوکر ایک ساتھ ہی جائیں گے۔ آخری چال بلاشبہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ساتھ تاجر دوکاندار چلیں گے۔ اگر لانگ مارچ کے دوران چار پانچ دن کے لیے ملک بند ہوگیا تو جانو میں تے میرا ڈھولن ماہی کا بارہ سالہ قومی پروجیکٹ ناکامی سے دوچار ہو جائے گا۔ تحریک انصاف کی سونامی کے نقصانات کا اندازہ لگانے کے لئیے ایک قومی کمیشن نما حکومت قائم ہوگی۔ کچھ حلقے یہ بھی کہتے ہیں عین ممکن ہے قومی معاملات میں ضد انا بالادستی کی سزا دینے کے لیے قدرت نے کوئی اور سنگین فیصلہ ہی نہ کر رکھا ہو کہ جب انتشار اور افراتفری کسی سماج میں گھر کرلے تو کوئی نہیں جانتا اس افراتفری اور انتشار کے پیٹ سے کیا برآمد ہوگا۔

یہ بھی چیک کریں

آخری راستہ

تحریر: آفاق فاروقی کوئی حقیقی جمہوریت پسند میاں برادران کی “جمہوری “ سیاسی فکر سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے