ہوم / کالم و مضامین / کانگریس میں کشمیر میں مظالم پر سماعت، کس نے کیا کردار ادا کیا؟

کانگریس میں کشمیر میں مظالم پر سماعت، کس نے کیا کردار ادا کیا؟

قسط 1

‎تحریر: آفاق فاروقی

‎جب کسی ریاست کا سربراہ اور اسکے ساتھی جھوٹ در جھوٹ بولنے پر اتر آئیں تو سمجھ لینا چاہئیے وہ حکمراں عوام میں اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔ اقتدار کے تسلسل کے لیے جھوٹ اور مکاری کا سہارا لینا ان حکمرانوں کی مجبوری بن چکی ہے۔ عمران خان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی کر رہے ہیں۔عام انتخابات سے قبل کیے گئے ان وعدوں اور دعووں پر وہ یہ کہہ کر فخر یا یو ٹرن لے چکے ہیں کہ وہ سیاسی لیڈر ہی کیا جسے یو ٹرن لینا نہ آتا ہو۔ مگر وہ روزانہ کے ریاستی امور چلانے اور اپنی ساکھ بچانے کے لیے بھی تسلسل کے ساتھ جھوٹ کی بیساکھیوں پر کھڑے ہیں۔ کل ہی انہوں نے اور امریکہ میں انکے سفیر نے تازہ جھوٹ یہ بولا ہے کہ امریکی کانگریس کی ذیلی کمیٹی میں مقبوضہ کشمیر  کے موجودہ حالات پر ہونے والی سماعت کا سہرہ امریکی کانگریس میں پاکستانی کاکس کا کارنامہ ہے۔ اس دعوے کی بنیاد انہوں نے اپنے دورہ واشنگٹن کے موقع پر رکھی تھی۔ وہ پاکستانی کاکس  جسکا کوئی ایک ممبر بھارت کے خلاف بولنا تو درکنار اشاروں میں بھی کچھ کہنے کو تیار نہیں۔کاکس کی چیئر پرسن کیسے اور کیوں اور کس کے کہنے پر منظر پر آئیں یہ بھی پوری ایک کہانی ہے۔ سب جانتے ہیں پاکستانی کاکس ایک افسانوی قصہ کہانی ہے۔ کانگریس کی ذیلی کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ وادی کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد کشمیر یوں کے شہری و انسانی حقوق غضب کرنے پر جب اس مسئلہ پر سماعت کا اعلان کیا تھا اس وقت بھی پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہی دعویٰ کیا تھا کہ یہ کارنامہ عمران خان کے بنائے ہوئے پاکستانی کاکس نے سر انجام دیا ہے۔ مگر امریکہ میں رہنے والے متحرک پاکستانی حلقے اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ کانگریس کی ذیلی کمیٹی برائے ساؤتھ ایشیا کے چئیرمین کانگریس مین بریڈ شرمن نے یہ معاملہ اپنے ذاتی دوست اور امریکی سیاست میں سب سے زیادہ متحرک امریکن پاکستانی ڈاکٹر آصف محمود چوہدری کے ایما پر اٹھایا تھا۔ آصف محمود نے متعدد مقبوضہ کشمیری امریکن خاندانوں اور بریڈ شرمن کے درمیان طویل ملاقاتوں کے نتیجے میں بریڈ شرمن کو یہ یقین دلانے میں کامیابی حاصل کرلی تھی کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں شہری اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ بریڈ شرمن جو کانگریس میں بھارتی کاکس کے بھی چئیرمین ہیں اور جنھوں نے کل کمیٹی کی سماعت کے دوران ایک بھارتی باشندے کے اس سوال پر کہ آپ بھارتی کاکس کے چئیرمین بھی ہیں آپ کی کمیٹی میں بھارت کے خلاف سماعت بطور بھارتی کاکس چیئرمین آپ کے نظریاتی تضاد کو ظاہر نہیں کرتا؟ جواب میں بریڈ شرمن نے انتہائی مظبوط لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا میرے نزدیک امریکی اخلاقیات بھارتی کاکس کی چئیرمین شپ سے کہیں زیادہ اہم ہیں جو دنیا کے ہر انسان کے بنیادی حقوق کی حفاظت کا درس دیتی ہیں۔ امریکہ کی ترقی، خوشحالی اور امن و سلامتی کا راز انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اسٹینڈ لینے میں ہی پنہاں ہے۔انہوں نے کہا مجھے معلوم ہے مجھے اس سماعت کے نتیجے میں سیاسی نقصان ہوسکتا ہے اور مجھے میرے اسٹاف نے بھی پہنچنے والے اس ممکنہ نقصانات سے آگاہ کیا ہے مگر میں سمجھتا ہوں امریکی روایات کی پاسداری میرے سیاسی نقصان اور فائدے سے کہیں بالاتر ہے۔ بریڈ شرمن نے کہا کہ  میرا اپنا بھی ایک ضمیر ہے جس کے ساتھ رات کو مجھے اکیلے  ہی سونا ہوتا ہے۔ بریڈ شرمن نے بڑی سادگی مگر انتہائی مظبوط لہجے میں کہا “جو قومیں اور انکے سیاست دان اپنی روایات کے امین نہیں ہوتے وہ اپنی قوم کا تحفظ بھی نہیں کرسکتے’’۔ بریڈ شرمن بھارتی وزیر اعظم  کے ہیوسٹن میں ہونے والے استقبالیے میں کشمیر میں کیے جانے والے بھارتی مظالم کے خلاف احتجاجاً شریک نہیں ہوئے تھے۔ دس سال سے پاکستانی کاکس کی سربراہ کانگریس ویمن شیلا جیکسن نے بھارتی وزیراعظم کے استقبالیے میں شرکت کی تھی۔ اسی بریڈ شرمن کی کانگریس کمیٹی میں بھارت کے خلاف مذکورہ سماعت نے بھارتی میڈیا اور بھارتی حکومت کی نیندیں اڑا دی ہیں جس کی تیاری  اور کوشش تن تنہا ڈاکٹر آصف محمود نے  ڈاکٹر آصف رحمان جیسے اپنے چند ساتھیوں کی مدد سے کی تھی اور اب جس کا کریڈٹ پاکستانی وزیر اعظم سے امریکہ تک ہر وہ وہ شخص لے رہا ہے جس کا کوئی نہ کوئی ذاتی مفاد پاکستان کے اقتدار اور خزانے سے جڑا ہے۔ میں ذاتی طور پر ان لوگوں کو جانتا ہوں جو کانگریس کی کمیٹی میں بھارت کے خلاف سماعت کے موقع پر گھر لیٹ کر میڈیا کو کانگریس مینوں کی فہرستیں جاری کررہے تھے کہ فلاں فلاں کانگریس مین کو میں نے سماعت میں شمولیت کے لئیے بھیجا ہے اور جو یہ سب کچھ کررہا تھا اس سے میڈیا شاکی تھا کہ یہ شخص ہمیں کچھ بھی بتانے سنانے کو تیار نہیں۔

‎اگر ڈاکٹر آصف محمود کے ساتھ کوئی تھا تو وہ اپنا کے  دو سابق صدور ڈاکٹر رشید پراچہ اور  ڈاکٹر آصف محمود اور ایک مقبوضہ وادی کا یہاں رہائش پزیر بزنس مین تاشقین تھے جو برسوں سے کشمیر میں رہنے والے اپنے گھر، محلے، شہر اور ریاست کے باسیوں کی آزادی، ترقی اور خوشحالی کے لیے انتہائی خاموشی سے رات دن جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر کوئی اور تھا تو وہ دو بھارتی ھندو خواتین تھیں جو اپنے خرچے پر اپنے ہی ملک و مذہب ھندو حکومت کے مظالم پر گواہی دینے آئیں تھیں۔

مجھے تو اپنے قومی، سماجی اور سیاسی رویے پر ہنسی آتی ہے۔ایک طرف وزیراعظم سیاسی اسکو رنگ کررہے ہی تو دوسری طرف پاکستانی سفیر اسد مجید کا اس پورے کام میں کوئی بھی لینا دینا نہیں تھا۔ اسد مجید وزیراعظم کی خوشنودی کے لیے ان کے مشیروں، وزیروں کے یہاں  پاکستانی خزانے کو لوٹنے کے خواب آنکھوں میں بسائے چلتے پھرتے بے نامی اکاؤنٹس کی حمایت میں ڈاکٹر آصف محمود کے راستے میں پوری سفارتی  کے ساتھ رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے ہیں۔پاکستانی سفیر کانگریس کی کمیٹی کی سماعت سے پہلے کہتے رہے کہ یہ سماعت الٹی پاکستان کے گلے پڑے گی کہ یہاں پاکستان کے سندھیوں، بلوچوں سے لیکر جانے کس کس نے ریاستی مظالم کے خلاف درخواستیں دے رکھی ہیں اور کشمیر میں بھارتی مظالم پر سماعت کی جگہ کہیں پاکستانی مظالم کا قصہ نہ اٹھا دیا جائے۔ مگر جب ڈاکٹر آصف محمود نے اپنے ساتھیوں ڈاکٹر آصف  رحمان اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ ملکر بھارت کو تاریخ میں پہلی بار کانگریس میں ننگا کردیا تو ہمارے محترم سفیر پاکستانی میڈیا میں اپنے ان چند پسندیدہ صحافیوں کو بلا کر سماعت کے پس منظر میں پریس بریفنگ دیتے نظر آرہے ہیں جس سماعت سے اور اسکی تیاری سے انکا دور دور دور تک کوئی بھی لینا دینا ہی نہیں تھا۔ آپ محترم سفیر کی کار ستانی دیکھیے پریس بریفنگ کے لیے مدعو کیے جانے والے تین صحافیوں میں سے دو صحافی وہ تھے جنھوں نے اتنی اہم ترین سماعت کو کور کرنے کے لئیے جانا بھی مناسب نہیں سمجھا تھا۔ ان صحافیوں کو مدعو ہی نہیں کیا جھنوں نے اس پوری سماعت کی مکمل کوریج کی تھی۔ یہ صحافی محترم سفیر سے سماعت کے پریس منظر میں پاکستانی سفارت خانے کے کردار پر سوالات کرکے ان کے لیے شرمندگی کا سامان کرسکتے تھے۔

جاری ہے

یہ بھی چیک کریں

آخری راستہ

تحریر: آفاق فاروقی کوئی حقیقی جمہوریت پسند میاں برادران کی “جمہوری “ سیاسی فکر سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے