ہوم / کالم و مضامین / چمن اُداس ہے یارو، صبا سے کچھ تو کہو

چمن اُداس ہے یارو، صبا سے کچھ تو کہو

قسط نمبر ایک

تحریر: آفاق فاروقی

آج کراچی سے ایک دوست کہہ رہے تھے جس ٹرین بس میں  ہم بیٹھتے ہیں وہ کمبخت بنا کسی حادثے کے ہی ہمیشہ منزل پر پہنچ جاتی ہے۔بخدا جب حکومت کسی مرنے والے کے لیے بیس لاکھ روپے کا اعلان کرتی ہے اپنے بچوں کے سامنے بڑی شرمندگی ہوتی ہے کہ ہم ۔۔۔ مجھے ان کے اس بیان پر اپنے ایک دوست کا سنایا ایک  تاریخی  واقعہ یاد آ گیا۔ میرے یہ دوست بہت بڑے صحافی تھے۔ اپنی عملی صحافت کے آخری دنوں میں  ایک امریکی نیوز ایجنسی سے وابستہ تھے۔ پاکستانی معاشرے میں ایمان دارانہ اور سچ پر مبنی صحافت قریباً ناممکن ہوچکی ہے سو انہوں نے بھی عملی صحافت چھوڑ کر صحافت پڑھانا شروع کردی ہے۔ جب ابھی بے نظیر بھٹو زندہ تھیں۔ ان پر پاکستان واپسی کے بعد کراچی کے استقبالی جلسے میں حملہ ہوچکا تھا جس میں قریبا سو افراد کے ساتھ دو صحافی بھی مارے گئے تھے۔ میرے یہ دوست بھی اس حملے میں بال بال بچے تھے۔ پھر وہ میاں نواز شریف  کے کسی جلوس کی کوریج کے لیے اپنی چھٹی والے دن بھی کوریج کرنے اسلام آباد سے براستہ موٹر وے گجرات کے قریب پہنچ گیے تھے۔ مجھے یاد ہے میں نے ان سےجب وہ موٹروے پر ڈرائیو کررہے تھے کہا تھا “ تمھارا گھر میں دل نہیں لگتا ۔۔؟ جو چھٹی والے دن بھی ۔۔؟ جواباً بولے اس بات کا جواب پھر کبھی دوں گا۔پھر انہوں نے ہی محترمہ بے نظیر بھٹو  کے آخری جلسے  کی کوریج کرتے ہوئے ان کے زخمی اور جاں بحق ہونے کی خبر بھی دنیا کو سب سے پہلے دی تھی۔ ان کی اسی کارکردگی کے عوض نیشنل پریس کلب واشنگٹن نے انہیں بیسٹ رپورٹنگ آف دی ائر کاایوارڈ بھی دیا تھا۔ جب وہ یہ ایوارڈ وصول کرنے امریکہ آئے تو میں نے صاف محسوس کیا تھا میرا وہ دوست جو کبھی بہت زندہ دل ہوا کرتا تھا اور جس کی حس مزاح کبھی کراچی پریس کلب میں اپنی مثال آپ تھی اور جو اداس لوگوں کو ہنسانا عین عبادت سمجھتا تھا اب خود ہمہ وقت اداسی کی چادر اوڑھے خود میں کہیں گُم خلاؤں میں دور بہت دور  گھورتا رہتا ہے۔ایوارڈ وصول کرکے واشنگٹن سے نیویارک لوٹا تو بھی اس کے چہرے پر اتنی بڑی کامیابی کی خوشی تلاش کرنے میں ناکامی ہوئی۔ پھر ایک روز جب میں اسے اپ اسٹیٹ نیویارک کی لانگ ڈرائیو کے لیے لے گیا تھا جو اسے ہمیشہ سے پسند ہے۔ وہ جب بھی آتا ہے اسکی ایک ہی فرمائش ہوتی ہے کہ لانگ ڈرائیو  پر چلو۔ مجھے امریکہ میں کبھی پہلی لانگ ڈرئیو پر وہی لے کر گیا تھا۔ لانگ ڈرائیو کے دوران بالکل اچانک میں نے اس سے پوچھا تھا ‘‘اچھا بتاؤ وہ اس دن جب تم میاں نواز شریف کا جلوس یا جلسہ جو بھی اپنی چھٹی والے دن کور کرنے پہنچ گئے تھے۔ میرے اس سوال پر کہ چھٹی والے دن ۔۔۔ ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا۔وہ بولا چل گاڑی کسی ڈائنر یا کافی شاپ پر روک۔ کافی کے کپ پر اپنی اس حماقت کی وجہ بتاؤں گا”۔ ہم اس وقت لیک جارج کے حسین ترین سر سبز پہاڑی علاقے میں ڈرائیو کررہے تھے جہاں پہاڑوں کی وادیوں میں چھوٹی بڑی درجنوں ندیاں اور آبشار اس علاقے کے حسن میں معجزاتی حسن کا اضافہ کرتی ہیں۔ یہاں امریکہ کینڈا سے ہی نہیں پوری دنیا سے سیاح آکر قدرت کے عطا کردہ نظاروں سے محظوظ ہوتے ہیں۔

مگر ان قدرتی نظاروں کے ترتیب حسن میں انسانی نفاست کے ساتھ نظم و ضبط کا بھی بلا شبہ بڑا دخل ہے اور یہی نظم و ضبط اور ترتیب ہے جو امریکہ اور مغرب کو دنیا کی انسانی بستیوں میں نمایاں اور بالادست بناتی ہے۔ ورنہ قدرتی حسن میں اپنا ملک پاکستان یا پورا ساؤتھ ایشیا کسی سے کم تو کیا بہت آگے اور اپنی مثال آپ بھی ہے اور منفرد بھی۔

ہم کافی کی تلاش میں البنی سے مانٹریال جانے والے ہائی وے 87 پر لیک جارج سے کافی آگے لیک شیمپین کے آس پاس پہنچ گئے۔ یہاں سے مانٹریال کینیڈا کی سرحد شاید پچیس تیس میل دور رہ جاتی ہے۔ہم ایک چھوٹے سے دیہاتی کافی شاپ کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جہاں اندر سے بیٹھ کر کافی شاپ سے جڑی سڑک جس پر ہر رنگ و نسل کے خوش و خرم لوگ جن میں مرد، عورتیں،بچے، جوان اور بوڑھے ادھر سے ادھر خراماں خراماں گھوم پھر رہے تھے۔ تو سڑک کی دوسری طرف  لیک شمپین  کا تیز بہتا چمکدار شفاف نیلگوں پانی اور اس کے اطراف ہر سُو پھیلے چھوٹے بڑے سر سبز پہاڑ اور انکے آسمانوں کی فضاؤں میں اُڑتے ہیلی کاپٹر اور گلائڈنگ کرتے لوگ تو لیک میں دوڑتی موٹر بوٹس ایک عجب سحر انگیز  منظر اور سماں پیش کررہے تھے۔ ہم دونوں ہی کچھ دیر کے لیے اپنے آپ سے بے خبر ان نظاروں میں گُم ہوگئے مگر  بیرے نے آڈر لینے کے لیے آکر جیسے یہ سحر توڑ دیا۔

کافی بناتے ہوئے میں نے نوٹ کیا وہ سڑک پر چلتے لوگوں کو دیکھ کر بہت دھمیے انداز میں مسکرا رہا تھا۔اس وقت اسکے چہرے پر پھیلی خوشی بالکل اس  معصوم بچے جیسی تھی جسے بن مانگے کینڈی ہی نہیں اس کے من چاہے کھلونے بھی مل گئے ہوں۔ پھر وہ میری جانب بن دیکھے سڑک پر نگاہ جمائے ہی مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولا  “ ہم ایسے خوش مطمئن کیوں نہیں رکھ سکتے، دیکھ وہ اس بچے کے ساتھ اسکی بوڑھی نانی یا دادی کیسے ٹھٹھا مار کر ہنس رہی ہے۔ اس نے سڑک کی جانب کافی شاپ کے بالکل سامنے کھڑی ایک فیملی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا سامنے نظر آنے والی فیملی میں ایک نوجوان سفید فام جوڑا ایک ستر پچھتر سال کی صحتمند خاتون اور ایک بارہ چودہ سالہ لڑکی جس کا قد اپنی عمر کے مقابلے میں بہت زیادہ تھا اور ایک چھ سات سال کی انتہائی خوبصورت بچی جس کے کرلی بال دیکھ کر مشہور امریکی فلم ‘‘ کرلی سُو” میں کام کرنے والی بچی یاد آ کے رہ گئی جس کے گھنگریالے بال اور گرین چمکدار آنکھوں میں تیرتی معصومیت پوری فلم کی جان تھی

جاری ہے

یہ بھی چیک کریں

آخری راستہ

تحریر: آفاق فاروقی کوئی حقیقی جمہوریت پسند میاں برادران کی “جمہوری “ سیاسی فکر سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے